’دہشتگرد نہیں اور نہ پیسے مانگ رہا ہوں‘: ممبئی میں 17 بچوں کو گھنٹوں یرغمال بنانے والا شخص جو پولیس کارروائی میں مارا گیا

،تصویر کا ذریعہRohit Arya/BBC
- مصنف, الپیش کرکرے
- عہدہ, بی بی سی مراٹھی
ممبئی میں جمعرات کی سہ پہر پوائی مرول کے علاقے میں آڈیشن دینے کے لیے آنے والے بچوں کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس عام سی شام میں ایسا کچھ ہو گا جس کے اثرات ان کے ذہنوں پر طویل عرصے تک رہ جائیں گے۔
یہ 17 بچے مہاویر کلاسک بلڈنگ کمپلیکس میں واقع ایک سٹوڈیو کے اندر موجود تھے کہ انھیں وہاں مدعو کرنے والے پونے کے رہائشی روہت آریہ نے تین بجے کے قریب یرغمال بنا لیا۔
عینی شاہدین کے مطابق جمعرات کی سہ پہر تین سے ساڑھے تین بجے کے درمیان بچوں کو عمارت کی کھڑکیوں سے باہر جھانکتے اور مدد کے لیے پکارتے دیکھا گیا، جس کے بعد آس پاس کے لوگ جمع ہو گئے اور پولیس کو اطلاع دی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ممبئی پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کارروائی کا انجام بچوں سمیت تمام مغویوں کی بازیابی اور روہت آریہ کی موت کی صورت میں نکلا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران زخمی ہونے کے بعد روہت آریہ کو ہسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔

،تصویر کا ذریعہANI
پولیس آپریشن
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے جہاں علاقے کو گھیرے میں لے کر بچوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے حکمت عملی پر کام شروع کیا وہیں ملزم کی شناخت کی تصدیق کرنے اور بچوں کو یرغمال بنانے کی وجہ سمجھنے کی کوشش بھی کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اغوا کار کی شناخت روہت آریہ کے طور پر ہوئی جو ایک کاروباری شخصیت تھے۔
حکام کے مطابق پولیس، دیگر سکیورٹی ٹیموں اور روہت آریہ کے درمیان تقریباً ایک گھنٹہ 45 منٹ تک بات چیت جاری رہی اور بحث کے بعد روہت کی جانب سے کچھ مطالبات سامنے آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حکام کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران روہت کا رویہ جارحانہ رہا اور اس نے دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا جس پر پولیس نے اسے خبردار کیا کہ وہ بچوں کو بحفاظت رہا کرے ورنہ اسے سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد پولیس حکام نے کارروائی کا فیصلہ کیا اور اہلکار غسل خانے کی کھڑکی سے سٹوڈیو میں داخل ہوئے۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس دتا نلاواڑے نے ایک بیان میں کہا کہ ’ممبئی پولیس کی ٹیم نے ریسکیو آپریشن شروع کیا اور تمام بچوں کو بحفاظت نکال لیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بچوں کو بچاتے ہوئے آپریشن کے دوران اغوا کار زخمی ہوا جسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا اور بعد میں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔‘
ممبئی پولیس کے جوائنٹ کمشنر (لا اینڈ آرڈر) ستیہ نارائن چودھری نے بتایا کہ تمام بچے محفوظ ہیں اور انھیں والدین کے حوالے کر دیا گیا۔
دتا نلاواڑے نے کہا کہ ’یہ آپریشن ہمارے لیے انتہائی چیلنجنگ تھا۔ ایک طرف بچے پھنسے ہوئے تھے اور دوسری طرف ملزم تعاون کرنے سے انکار کر رہا تھا بالآخر، ممبئی پولیس نے حالات پر قابو پا لیا اور بچوں کو بحفاظت بچایا۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے ایک ایئرگن اور کچھ کیمیائی مادہ برآمد کیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش آگے بڑھنے کے بعد ہی مزید معلومات دی جائیں گی۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس دتا نلاواڑے نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے ملزم سے بات کی اور اس کے مقصد کو سمجھنے کی کوشش کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ روہت آریہ نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ گذشتہ کچھ برسوں سے اس کے مطالبات پورے نہیں ہوئے تھے۔
ابتدائی معلومات سے علم ہوا کہ روہت آریہ کا پیسہ ایک سرکاری منصوبے میں پھنس گیا تھا تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق روہت آریہ کو ایک سکول کی تزئین و آرائش کا ٹھیکہ اس وقت دیا گیا جب دیپک کیسرکر ریاست کے وزیر تعلیم تھے۔
روہت کا الزام ہے کہ اس کام کے لیے انھیں معاوضہ نہیں دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق روہت آریہ نے ادائیگی کے لیے کئی بار کیسرکر کے گھر کے باہر احتجاج بھی کیا لیکن حکومت کی طرف سے انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔

،تصویر کا ذریعہANI
ان خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے دیپک کیسرکر نے مقامی ٹی وی کو بتایا کہ ’میں نے ذاتی طور پر اس( روہت آریہ) کی مدد کی اور اسے چیک کے ذریعے ادائیگی کی۔ مجھے نہیں لگتا کہ دو کروڑ روپے کی رقم بقایا تھی۔ اگر ایسا ہے تو اسے محکمہ سے رابطہ کرکے معاملہ حل کرنا چاہیے تھا۔‘
واقعے کے دوران روہت آریہ کی ایک مبینہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی، جس میں انھیں یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’میں نے خودکشی کرنے کے بجائے بچوں کو یرغمال بنا لیا۔ میں نے ایک منصوبہ بنایا اور کچھ بچوں کو یرغمال بنایا۔ میرے مطالبات زیادہ نہیں۔ وہ بہت سادہ اور اخلاقی ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے کچھ سوالات ہیں اور میں کچھ لوگوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔ میں دہشتگرد نہیں ہوں اور نہ ہی میں پیسے کا مطالبہ کر رہا ہوں۔ میں صرف بات کرنا چاہتا ہوں اسی لیے میں نے ان بچوں کو یرغمال بنایا۔‘










