غزہ میں امدادی مقامات کی سکیورٹی پر مامور اسلام مخالف ’امریکی بائیکر گینگ‘ جس کے ارکان خود کو ’صلیبی جنگجو‘ کہتے ہیں

- مصنف, اینڈی ویریٹی، ٹام بیل اور ول ڈالگرین
- عہدہ, بی بی سی
بی بی سی کو تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ غزہ میں امداد تقسیم کرنے والے پوائنٹس کی حفاظت پر مامور نجی کمپنی نے اسلام مخالف امریکی بائیکر گینگ کے اراکین کو سکیورٹی پر تعینات کیا ہے۔
بی بی سی نے اپنی تحقیق میں ’انفائڈلز موٹرسائیکل کلب‘ سے تعلق رکھنے والے دس اراکین کی تصدیق کی ہے جوغزہ میں سکیورٹی فراہم کرنے والے کمپنی یو جی سولوشن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
یو جی سولوشن غزہ میں امداد فراہم کرنے والے مقامات کو سکیورٹی فراہم کرنے والی نجی کمپنی ہے، ماضی میں خوراک تقسیم کرنے والے مقامات پر بھگڈر، بدانتظامی اور فائرنگ کے سبب کئی شہری مارے گئے ہیں۔
تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اس گینگ کے سات اراکین اسرائیل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ متنازع امدادی آپریشن کی ڈسٹریبوشن میں اہم عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔
نجی سکیورٹی کمپنی یو جی ایس نے اپنے ملازمین کی اہلیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملازمین کے مشاغل یا غیر متعلقہ معاملات میں کارکردگی کی چھان بین نہیں کرتے ہیں۔
غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ’اُن کی نفرت، امتیاز اور تعصبانہ طرزِ عمل کو بالکل بھی برداشت نہ کرنے کی پالیسی ہے۔‘
امریکی فوج نے سنہ 2006 میں عراق جنگ کے دوران انفیڈل موٹرسائیکل کلب بنایا تھا اور اس کے ممبران خود کو جدید دور کا ’صلیبی جنگجو‘ سمجھتے تھے اور صلیب کو علامت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
یہ گروہ اب بھی اپنے فیس بک پیج پر اسلام مخالف نفرت انگیز مباحثے منعقد کرواتا ہے اور اس سے قبل رمضان کے مقدس مہینے میں اسلام کی نفی کرنے کے لیے انھوں نے ’بھنا ہوا سور‘ پکایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہFacebook
امریکن اسلامک ریلیشنز کونسل کا شمار امریکہ میں مسلمانوں کے شہری حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی اہم تنظیموں میں ہوتا ہے۔ اس تنظیم کے نائب ڈائریکٹر ایڈورڈ احمد میچل کا کہنا ہے کہ ’غزہ میں امدادی کی تقسیم کا کام انفائڈلز بائیکر کلب کے ہاتھ میں دینا بالکل ایسا ہی ہے جیسے سوڈان میں امداد کی تقسیم کی نگرانی KKK کرے۔‘
کلیو کلیکس کلین (کے کے کے) انتہائی دائیں بازو کی سفید فام بالادستی کے لیے سرگرم امریکی تنظیم ہے۔
’یہ تشدد کا باعث بنے گا، اور بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے جو ہم غزہ میں ہوتا دیکھ رہے ہیں۔‘
اس گروہ کے رہنما جونی ’تاز‘ ملفورڈ امریکی فوج میں سارجنٹ تھے اور انھیں رشوت، چوری، جھوٹے بیانات دینے اور سازش کرنے پر سزا سنائی گئی تھی۔ اُس وقت وہ غزہ میں کام کرنے والی نجی کمپنی یو جی سولیوشن میں وہاں کے انچارج ہیں۔
بی بی سی نے انفائڈلز کلب کا موقف جاننے کے لیے انھیں ای میل کی جس کے جواب میں گروہ کے سربراہ نے بائیکرز گینگ کے ساتھیوں سے کہا کہ وہ کوئی جواب نہ دیں اور ای میل میں رپلائے آل کا آپشن استعمال کرتے ہوئے نادانستہ طور بی بی سی کو بھی شامل کیا اور اس طرح غزہ میں کام کرنے والے انفائڈلز گینگ کے ممبران کے ای میل ایڈریس اور نام سامنے آ گئے۔
انفائڈلز موٹرسائیکل کلب کے اراکین کے بارے میں دستیاب ہونے والی اس معلومات کو یو جی سولیوشن کے ذرائع سے ملنے والے معلومات سے ملایا گیا تو بعد پتہ چلا کہ اس گروہ سے وابستہ دس افراد غزہ میں کام کر رہے ہیں۔
گروہ کے سربراہ ملفورڈ کی جانب سے ملنے والی معلومات کے علاوہ نجی کمپنی کے تین سرکردہ افراد کی نشاندہی بھی ہوئی جو غزہ میں اہم عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔
اس گروہ کے نائب صدر جے روڈ غزہ میں کام کرنے والی کمپنی میں لوجیسٹک کے انچارج ہیں، گینگ کے ٹریژی سینیٹ امدادی تقسیم کرنے والے مقام پر سکیورٹی ٹیم کے سربراہ ہیں اور بانی رکن ریچکرڈ ایک اور سائٹ کے انچارج ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFacebook
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
خفیہ دستاویزات، اوپن ذرائع اور یو جی سولیوشن کے سابق کانٹریکٹرز سے ملنے والی معلومات سے باقی چھ اراکین کی شناخت کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں سے تین نجی کمپنی کی مسلح سکیورٹی ٹیموں کے سربراہ یا نائب ہیں۔
نجی کمپنی یو جی ایس نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی بھی شخص کی تعیناتی سے قبل اُس کے ماضی کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔
جبکہ نیوز رپورٹس کے مطابق بانی رکن جیریٹ کو دو سال قبل امریکہ میں شراب نوشی کی حالت میں گاڑی چلانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ انھیں سزا ہوئی یا نہیں اس بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
یو جی سولیوشن کے بانی اور سربراہ جیمسن گوونی بھی رواں سال امریکہ ہٹ اینڈ رن کے کیس میں گرفتار ہوئے تھے۔
گوونی امریکہ میں رہتے ہیں لیکن وہ انفائڈلز موٹرسائیکل گینگ کے رکن نہیں ہیں۔
اب تک یو جی سولیوشنز کے ساتھ کام کرنے والے جونی ’تاز‘ ملفورڈ وہ واحد رکن تھے جن کی شناخت انفائڈلز کے رکن کے طور پر ہوئی تھی۔ بی بی سی کو تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ یو جی ایس کی مسلح سکیورٹی ٹیموں میں بائیکر گینگ کے ارکان کی بھرتی کا عمل کتنا وسیع تھا۔
سوشل میڈیا پوسٹس سے پتہ چلتا ہے کہ مئی میں غزہ کے سفر سے صرف دو ہفتے قبل، ملفورڈ نے گینگ کا فیس بک پیج فالو کرنے والے سابق امریکی فوجیوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی اور ہر اُس شخص کو درخواست جمع کروانے کے لیے کہا جو ’اب بھی گولی مارنے، چلنے پھرنے اور بات چیت کرنے کے قابل ہے۔‘

ایک سابق کانٹریکٹر کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 320 افراد میں سے یو جی سولیوشنز نے کم سے کم 40 ایسے افراد کو بھرتی کیا ہے جن کا تعلق انفائڈلز گینگ سے ہے۔
بی بی سی کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق یو جی سولیوشنز ہر کانٹریکٹر کو یومیہ 980 ڈالر دے رہی ہے اور ٹیم کے سربراہ کے لیے یہ رقم بعض اوقات یومیہ 1580 ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔
غزہ میں ڈسٹریبیوشن سائٹ کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے ایک رہنما، جوش ملر نے غزہ میں کام کرنے والے گروپ کے اراکین کی تصویر پوسٹ کی جس پر لکھا تھا کہ میک غزہ گریٹ اگین یعنی ’غزہ کو دوبارہ عظیم بنائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہFacebook
اُس بینر پر اُن کی کمپنی کا لوگو بھی بنا ہوا تھا۔ یہ کمپنی ٹی شرٹس اور دیگر لباس فروخت کرتی ہے۔ ایک ٹی شرٹ پر لکھا تھا کہ ’تشدد کو قبول کرو‘ اور دوسرے پر لکھا تھا کہ ’سارا دن سرفنگ، رات بھر راکٹ۔ غزہ میں 2025 کا موسم گرما۔‘
اس کمپنی نے آن لائن ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی جس میں بندوق سے تشدد کے مناظر دکھائے گئے اور مجرموں کو گولی مارنے کی وکالت کی گئی، اس ویڈیو کی تفصیل میں لکھا تھا کہ ’یاد رکھو اُس وقت تک گولی مارو جب تک کہ خطرہ ختم نہ ہو جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہFacebook
جونی ملفورڈ اس گینگ کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ میں فلوریڈا میں انفائڈلز ایم سی کے رجسٹرڈ ایجنٹ ہیں۔ ان کے بازوں پر صلیب کا ٹیٹو بنا ہوا ہے اور ایک ہاتھ پر انفائڈلز لکھا ہوا ہے جبکہ انھوں نے اپنے سینے پر بھی 1095 کا ہندسہ بھی لکھوایا ہوا ہے۔
خیال رہے 1095 عیسوی وہ سال ہے جب پہلی صلیبی جنگ کا آغاز ہوا جس نے مسلم دنیا پر گہرے اثرات ڈالے۔
مسلمانوں کے شہری حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی امریکی تنظیم سے وابستہ ایڈورڈ میچل کا کہنا ہے کہ ’آپ دیکھتے ہیں کہ مسلمان مخالف متعصب گروہ 1095 کا جشن منا رہے ہیں، صلیبی جنگوں کا جشن منا رہے ہیں، وہ مسلمانوں کے قتلِ عام کا جشن منا رہے ہیں وہ یروشلم کے مقدس شہر سے مسلمانوں اور یہودیوں کے مٹانے کا جشن منا رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہFacebook
گینگ کی طرف سے ظاہر کیے گئے اسلام مخالف خیالات میں رمضان کے دوران سور کے روسٹ کے حوالے سے ایک بینر بھی شائع کیا گیا جو بی بی سی کو ایک ویب پیج پر ملا۔ اُس بینر میں لکھا تھا ’رمضان کی اسلامی تعطیل کے نافرمانی کرتے ہوئے ہم اپنے ممبران کو بھنے ہوئے سور کی پارٹی کی دعوت دیتے ہیں۔‘
اس اشتہار میں برقع پہنے ایک خاتون کی نازیبا تصویر بھی تھی۔ انفائڈلز کے فیس بک کے صفحے پر اسلامی مخالف مباحثوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
سنہ 2020 میں کلب کی جانب سے ایک جھوٹے اور طنز پر مبنی آرٹیکل کا لنک شئیر کیا گیا جس میں مسلمان امریکی سیاستدان سے غلط باتیں منسوب کی گئیں تھیں۔
فیس بک پر تبصرے بھی مسلمان مخالف، نفرت انگیزی اور اشتعال پر مبنی ہیں۔
انفائڈلز ایم سی کی ویب سائٹ پر پرتشدد مارول مزاحیہ کتاب کے کردار پنیشر کی کھوپڑی کا لوگو بھی موجود ہے۔ یہ سفید فام بالادستی کی علامت ہے جس پر عربی رسم الخط میں ’کافر‘ کنندہ ہے۔
مئی کے آخر میں جب سے غزہ میں امداد کی تقسیم شروع ہوئی ہے، امداد تقسیم کرنے والے مقامات پر افراتفری اور بھاگم دوڑ کے مناظر عام ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دو ستمبر تک غزہ ہیومینٹرین فاؤنڈیشن کی سائٹس پر امداد کے حصول میں 1135 افراد مارے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہوئی ہیں۔ اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ امداد کے حصول میں شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات کی چھان بین کی جا رہی ہے۔
یوجی سولیوشنز نے سکیورٹی کاؤنٹریکٹر کی جانب سے عام افراد پر فائرنگ کرنے کے الزامات کو مسترد کیا ہے تاہم کمپنی نے تسلیم کیا ہے کہ بعض اوقات ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے گولیاں چلائی گئیں۔
یو جی سلوشنز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جانی مل فورڈ ایک ’قابلِ اعتماد اور معزز شخصیت‘ ہیں جن کے پاس امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عالمی سطح پر معاونت کا 30 برس سے زائد تجربہ ہے۔ کمپنی نے مزید کہا: ’ہم ان کی شہرت، کارکردگی اور پیچیدہ مشنز کی کامیابی میں ان کے نمایاں کردار پر فخر کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یو جی سولیوشنز نے کہا ہے کہ ’ہم ذاتی مشاغل یا اُن وابستگیوں کی سکریننگ نہیں کرتے جو کارکردگی یا سکیورٹی کے معیارات سے غیر متعلقہ ہوں۔ ٹیم میں شامل ہر رکن کے ماضی کی جامع جانچ پڑتال ہوتی ہے اور مکمل تصدیق کے بعد اہل افراد کو ہی کمپنی میں ملازمت دی جاتی ہے۔‘
امداد تقسیم کرنے والی کمپنی غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں امداد فراہم کرنے اور غزہ کے لوگوں کے ساتھ اعتماد قائم کرنے کے لیے ’ہر قسم کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد‘ پر انحصار کرتی ہے۔
’فاؤنڈیشن کی سائٹس پر امداد فراہم کرنے والی ٹیم متنوع ہے او یہی اس کی کامیابی کا راز بھی ہے۔‘













