بھارت چین توانگ تنازعہ: کارگل جنگ کے دوران بھی چینی فوج اروناچل پردیش میں قدم جما رہی تھی؟

indian soldiers

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشندونوں ملکوں کی افواج کئی بار آمنے سامنے آچکی ہیں

9 دسمبر کو سرحد پر انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان جھڑپ اور ہاتھا پائی کی وجہ سے ریاست اروناچل پردیش کے توانگ ضلع کا یانگتسے علاقہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔

یہ وہی یانگتسے ہے جہاں اکتوبر 2021 میں دونوں ممالک کے درجنوں فوجی آمنے سامنے آگئے تھے اور ایک کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ یہ تازہ کشیدگی صرف چند گھنٹوں تک جاری رہی جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کو پیچھے ہٹنے کا کہتے رہے۔ بالآخر مقامی فوجی کمانڈروں کی سطح پر معاملہ طے پا گیا۔

اہم بات یہ ہے کہ یانگتسے ایک ایسا علاقہ ہے جہاں انڈیا اور چین 1999 سے ایک دوسرے کے ساتھ الجھ رہے ہیں۔

1997سے 2000 تک انڈین فوج کے سربراہ رہنے والے جنرل وی پی۔ ملک کا کہنا ہے کہ جس وقت 1999 میں کارگل جنگ جاری تھی، چین نے یانگتسے کے قریب بڑی تعداد میں فوج جمع کر رکھی تھی۔

جنرل ملک بتاتے ہیں، ’کارگل جنگ کے دوران، جولائی کے مہینے میں، چین یانگتسے کے قریب اضافی فوج لے کر آیا تھا اور دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے تھیں۔ اس وقت کوئی جھڑپ یا ہاتھا پائی نہیں ہوئی تھی، لیکن بڑی تعداد میں چینی فوج وہاں جمع تھی۔ تقریباً تین ماہ تک ہم آمنے سامنے رہے اور پھر آخر کار وہ اپنی جگہ واپس چلے گئے‘۔

جنرل ملک کے مطابق یانگستے کی ایک طویل تاریخ اور ایک متنازعہ علاقہ ہونے کا پس منظر ہے جس کی وجہ سے چین ایسے بعض حصوں پر دعویٰ کرتا رہا ہے جو انڈیا کے کنٹرول میں ہیں۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازع حل طلب ہیں

دونوں ممالک کے درمیان 2020 میں مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں پُرتشدد تصادم کے بعد شروع ہونے والا تعطل اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں انڈیا کے شمال مشرق میں ہونے والی اس تازہ جھڑپ نے واضح کر دیا ہے کہ متنازعہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر کئی مقامات پر دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ جاری ہے۔

جنرل ملک کا کہنا ہے کہ 1990 کی دہائی میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات کے حل کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا تھا اور اس وقت انڈیا اور چین نے کچھ متنازعہ علاقوں کی نشاندہی کی تھی۔ وہ کہتے ہیں، ’ان میں سے چھ متنازعہ علاقے اروناچل پردیش میں تھے اور یانگستے ان میں سے ایک تھا‘۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ہوتی گئی اسی دوران کچھ اور متنازعہ علاقوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔ 2002 کے بعد، چینیوں نے نقشوں کا تبادلہ کرنا بند کر دیا اور کہا کہ نقشے پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کو طے کرنے یا نشان لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔

چین کو اروناچل میں ترقیاتی منصوبوں سے مسئلہ ہے پچھلے کچھ سالوں میں ایسے کئی مواقع آئے جب وقتاً فوقتاً اروناچل پردیش میں چینی دراندازی کی کوششوں کی خبریں آتی رہیں۔ نینونگ ایرنگ فی الحال اروناچل پردیش قانون ساز اسمبلی میں ایم ایل اے ہیں۔ سال 2019 میں ایم ایل اے بننے سے پہلے وہ لوک سبھا کے رکن تھے اور انہوں نے اروناچل پردیش میں چینی دراندازی کا مسئلہ پارلیمنٹ کے اند اور پارلیمنٹ کے باہر کئی بار اٹھایا ہے۔

منگل کے روز جب بی بی سی نے ان سے بات کی تو وہ اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں کا دورہ کر رہے تھے۔

انہوں نے بتایا، ’چین کے ساتھ اروناچل پردیش کی کبھی بھی کوئی سرحد نہیں رہی۔ اروناچل پردیش کی سرحد تبت کے ساتھ ہے۔ اب بھی ہم اسی چیز کو تسلیم کرتے ہیں۔ میک موہن لائن کا احترام کیا جانا چاہئے۔ چین ایسا نہیں کر رہا ہے۔ چین جس طرح خطے پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہ اروناچل کے لوگوں کے لیے دکھ کی بات ہے۔

سرحد

،تصویر کا ذریعہTAUSEEF MUSTAFA

،تصویر کا کیپشن2016 کے بعد سے انڈیا اور چین کی سرحد پر اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

ایرنگ کے مطابق، چین کی مسلسل بڑھتی ہوئی دراندازی کی کوششوں کے پیچھے ایک بڑی وجہ غالباً اروناچل پردیش میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے انڈیا کی جانب سے نئے منصوبے شروع کرنا ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’چین اروناچل سرحد کے ساتھ اپنے علاقے میں انفراسٹرکچر تیار کر رہا ہے، ہماری جانب انفراسٹرکچر کی کمی رہی ہے۔ لیکن اب انڈیا بھی اس پر کام کر رہا ہے، بارڈر روڈز آرگنائزیشن سڑکیں بنا رہی ہے، اور بہت سے منصوبے آرہے ہیں‘۔

’میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ چین کو پریشانی ہو رہی ہے انڈیا کو اروناچل میں ترقیاتی منصوبوں کو برقرار رکھنا ہوگا‘۔

جنرل وی پی ملک کا کہنا ہے کہ ’انڈیا نے اروناچل پردیش میں انفراسٹرکچر کو بہتر کرنا شروع کیا جب اس نے دیکھا کہ وہ بہت پسماندہ ہے۔ یہ چین ہی تھا جس نے اچانک مشرقی لداخ میں اضافی دستے لا کر ایک نئی صورتحال پیدا کر دی۔ ہمیں پوری سرحدی لائن کو دیکھنا ہوگا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ نہیں سوچ سکتے کہ وہ مشرق میں پرسکون اور مغرب میں جارحانہ ہیں۔ جب انہوں نے اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنا شروع کیا اور اضافی دستے لائے تو ہمیں بھی اضافی دستے لانا پڑے اور اپنی بنیادی ڈھانچے کی سرگرمیوں کو بہتر کرنے پر مجبور ہوئے‘۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچین اروناچل سرحد کے ساتھ اپنے علاقے میں انفراسٹرکچر تیار کر رہا ہے

یانگستے میں تصادم کا کیا مطلب ہے؟ 2020 میں، مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں جھڑپ کے بعد، انڈیا نے بھی لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر اپنی فوجی طاقت بڑھا دی تھی اور اس کا اثر اروناچل پردیش میں بھی ہوا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ 9 دسمبر کے واقعے کے دوران انڈین فوج بہت کم وقت میں بڑی تعداد میں فوجیوں کو جمع کرنے میں کامیاب رہی۔

جنرل ملک کا کہنا ہے کہ ’2016 کے بعد سے انڈیا اور چین کی سرحد پر اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مشرقی لداخ کے حالات کی وجہ سے پچھلے ڈھائی سالوں میں ایسا کوئی واقعہ ہمارے علم میں نہیں آیا۔ اب یہ تازہ ترین واقعہ اروناچل پردیش میں ہوا ہے جو پریشان کن ہے۔ لیکن ہمارے فوجی بھی تیار ہیں۔ میں کہوں گا کہ وہ پہلے سے بہتر تیار ہیں‘۔

ان کے مطابق یہ کارروائی بہت سوچ سمجھ کر کی گئی ہے کیونکہ 9 دسمبر سے چند روز قبل چین نے اس علاقے میں اضافی فوجی تعینات کرنا شروع کر دیے تھے۔

جنرل ملک کا کہنا ہے کہ ’اسٹرٹیجک سطح پر حالات خوشگوار نہیں ہیں، ہمیں تیار رہنا ہوگا۔ ہمیں ہر وقت چوکنا رہنا ہوگا کیونکہ ایسے واقعات کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں‘۔

اسی طرح سال 2019 میں بھی چین نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اروناچل پردیش پر اعتراض کیا تھا۔ اس کے جواب میں انڈیا کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اروناچل پردیش انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے اور انڈین رہنما وقتاً فوقتاً اسی طرح اروناچل پردیش کا دورہ کرتے ہیں جس طرح وہ انڈیا کے دیگر حصوں کا دورہ کرتے ہیں۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنارگل جنگ کے دوران، جولائی کے مہینے میں، چین یانگتسے کے قریب اضافی فوج لے کر آیا تھا

ریاست اروناچل پر چین کا رویہ جارحانہ ہے

چین پورے اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ کرتا رہا ہے اور ماضی میں تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کے اروناچل پردیش کے دورے پر بھی احتجاج کر چکا ہے۔ سال 2021 میں چین نے اس وقت کے نائب صدر وینکیا نائیڈو کے اروناچل پردیش کے دورے کی بھی مخالفت کی تھی جسے انڈیا نے مسترد کر دیا تھا۔

یہی نہیں، دسمبر 2021 میں چین نے اروناچل پردیش میں 15 مقامات کے نام بھی بدل دیے تھے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انڈیا اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی قربتیں چین کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔

2016 میں، انڈیا میں امریکی سفیر رچرڈ ورما ریاستی حکومت کی دعوت پر ایک تہوار میں شرکت کے لیے توانگ گئے تھے۔ چین نے اس وقت بھی سخت مخالفت کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ تیسرے فریق کی مداخلت سے بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان تنازع مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

انڈیا نے اس وقت کہا تھا کہ اروناچل پردیش میں امریکی سفیر کے دورے میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے کیونکہ اروناچل پردیش انڈیا کا حصہ ہے۔ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ نومبر کے مہینے میں اتراکھنڈ میں انڈیا اور امریکہ کی جانب سے ’یدھ ابھیاس‘ کے نام سے کی جانے والی مشترکہ فوجی مشق بھی چین کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوئی ہے۔

اس فوجی مشق کا اہتمام لائن آف ایکچوئل کنٹرول سے تقریباً 100 کلومیٹر دور کیا گیا تھا۔ اس کی مخالفت کرتے ہوئے چین نے کہا تھا کہ یہ نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان کیے گئے دو سرحدی معاہدوں کی روح کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے جواب میں انڈیا نے کہا تھا کہ انڈیا جس کے ساتھ چاہے اس طرح کی فوجی مشقیں کرسکتا ہے۔

دلائی لامہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنچین تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کے اروناچل پردیش کے دورے پر بھی احتجاج کر چکا ہے

انڈیا کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے

چونکہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کو نقشے پر مکمل طور پر نشان زد نہیں کیا گیا ہے، اس لیے سرحد پر کئی مقامات ایسے ہیں جہاں دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ ہے۔

جنرل ملک کا خیال ہے کہ ’جب تک لائن آف ایکچوئل کنٹرول نقشے پر نشان زد نہیں ہو جاتا، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔انڈیا یہ نکتہ اٹھاتا رہا ہے۔ جب میں آرمی چیف تھا تو اس بارے میں بھی بات ہوئی تھی۔ لیکن چین اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا رویہ اور بھی جارحانہ ہو گیا ہے۔‘

اگر سیاسی سطح پر دیکھا جائے تو چینی سیاست دانوں کی جانب سے اختیار کی گئی پالیسیوں یا رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ’ وہ کہتے رہتے ہیں کہ وہ امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ مشرقی لداخ کے حوالے سے دونوں ملکوں کی افواج 16 مرتبہ ایک دوسے بات کر چکی ہیں لیکن یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔

ایسا لگتا ہے کہ امن و سکون کو یقینی بنانے کے لیے ان کی فوج کو کوئی الگ حکم نہیں دیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ایسے واقعات رونما نہ ہوتے۔جنرل ملک کا کہنا ہے کہ حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ ایسے میں ہر وقت خطرہ رہتا ہے کہ کسی بھی وقت کوئی چھوٹا واقعہ بڑی شکل اختیار کر سکتا ہے۔