پاکستانی بلے باز، چھکوں کی خواہش اور ’ڈاٹ بال‘ کا چنگل

،تصویر کا ذریعہPCB
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
پچھلی دو دہائیوں میں کرکٹنگ ارتقا کی رفتار یوں عجب رہی ہے کہ جو ’ڈاٹ بال‘ کبھی مزاحمت اور مہارت کا استعارہ کہلاتی تھی، اب وہ اس کھیل کی دھرتی پر کسی بوجھ سے کم نہیں سمجھی جاتی۔
جہاں ٹیسٹ کرکٹ کے اچھے بولنگ سیشنز میں ڈاٹ بال کھیلنا کسی آرٹ سے کم نہیں کہلاتا، وہیں ون ڈے میں اگرچہ اس کی گنجائش گھٹ جاتی ہے مگر ضرورت پھر بھی رہتی ہے کہ اسی کی سہولت سے بلے باز اپنے قدم جماتے ہیں اور پھر ساجھے داریاں نبھاتے ہیں۔
مگر ٹی ٹونٹی کرکٹ ڈاٹ بال کو بلے بازی اور کھیل کی ’توہین‘ کے مترادف سمجھتی ہے۔ جہاں اننگز صرف 120 گیندوں پر محیط ہو اور رنز لگ بھگ اس سے دوگنا کرنے کی خواہش ہو، وہاں ڈاٹ بال واقعی کسی جملۂ معترضہ سی نظر آتی ہے۔
بلے باز ڈاٹ بال کب کھیلتے ہیں؟
دو ہی صورتوں میں کوئی گیند بلے باز کے لئے بے ثمر رہ سکتی ہے۔ پہلی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بولر اپنی مہارت کی عمدگی سے بلے باز کو دغا دے کر اس کے عزائم پہ سوالیہ نشان اٹھا جائے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ بلے باز اپنی بھرپور قوت کوئی شاٹ تخلیق کرنے میں خرچ ڈالے مگر گیند فیلڈنگ کا حصار توڑنے میں ناکام رہ جائے۔ دونوں ہی صورتیں ٹی ٹونٹی بلے بازوں اور متعلقہ بیٹنگ آرڈر پر بوجھ بڑھاتی ہیں۔
اگر ڈاٹ بال کے رجحانات میں ٹیموں کی کارکردگی کا تقابل کیا جائے تو پچھلے کچھ عرصہ میں پاکستان بارہا سرِ فہرست دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں سوال ابھرتا ہے کہ آخر یہی ٹیم کیوں بار بار اس الجھن کا شکار نظر آتی ہے؟
پاکستان کے معاملے میں مگر ڈاٹ بال کی صورتیں فقط دو ہی نہیں ہیں۔ یہاں کچھ اور بھی عوامل درپیش ہیں جنھیں سلجھائے بغیر یہ ٹیم ڈاٹ بال کے چنگل سے نہیں نکل سکتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جو کرکٹ انڈیا، آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ وغیرہ کھیلتے ہیں، وہاں مجموعی کرکٹ کلچر، بورڈ کی فلاسفی اور ٹیم اپروچ میں ایک ہم آہنگی نظر آتی ہے جو، پاکستان کے برعکس، ہر چھ ماہ بعد بدل نہیں جاتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چونکہ فی الوقت ٹی ٹونٹی مہارت کے بجائے محض ہندسوں کا کھیل بن چکا ہے، سو ڈیٹا ایکسپرٹ اس کی سٹریٹیجک سوچ پر راج کر رہے ہیں۔ انفرادی مہارت سے قطع نظر، ڈیٹا کی دنیا کا سارا غوغا یہی نمایاں کرنے پر رہتا ہے کہ گویا ڈاٹ بال ہی ہر خرابی کی جڑ ہے۔
کبھی پاکستان کے ہاں فتوحات کا تناسب بہت خوش کن تھا جب محمد رضوان اور بابر اعظم اس کی اننگز کھولا کرتے تھے۔ تب ٹیم کا رجحان رنز حاصل کرنے کو تھا، نہ کہ اس ’سٹائل‘ کا جو ایسے رنز لاتا تھا۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بھلے پاکستان اس دوران ورلڈ کپ سیمی فائنل کھیلا ہو، بھلے اگلے ورلڈ ایونٹ کے فائنل تک پہنچا ہو اور بھلے ہی رضوان اور بابر کی اوپننگ ساجھے داری ورلڈ ریکارڈ بنی ہو، ڈیٹا ماہرین نے ہمیشہ اس منظرنامے سے سٹرائیک ریٹ اور ڈاٹ بال کی ’مکھیاں‘ ہی نکالیں۔
بیانیہ یہ بنایا گیا کہ پاکستان کرکٹ کی تمام خرابیوں کی بنیاد بابر اور رضوان ہی کے سٹرائیک ریٹ تھے۔ اسی سوچ کے سائے میں، ایک بار پھر ٹیم اپروچ بدل دی گئی جہاں مہارت کا معیار رنز کی مقدار نہیں، صرف چھکوں کی استعداد کو ٹھہرایا گیا۔
اگر کسی بلے باز کی تمام تربیت محض باؤنڈری کو نشانہ بنانے پر مرکوز رہے گی تو یقیناً وہ کھیل کے مبادیات سے کہیں پرے نکل جائے گا۔ سٹرائیک روٹیشن اس کی ضرورت بن ہی نہیں سکے گی کہ اس کا سارا امتحان تو چھکوں کے ’ٹرائل‘ پر ٹِکا ہو گا۔
نہ صرف یہ اپروچ بلے باز کے لیے مضر ہے، الٹا بولر کے لیے بھی سُودمند ہے کہ اب اسے وکٹ پانے کو کوئی پاپڑ نہیں بیلنا پڑیں گے، اسے محض بلے باز کے ’ہٹنگ آرک‘ سے دور رہنا ہو گا اور وکٹ خود بخود ہی جھولی میں آ گرے گی۔
جب ایک بلے باز پانچ ڈاٹ کھیلنے کے بعد وکٹ گنوا بیٹھتا ہے تو ہندسوں کے کھیل میں اس کی ٹیم صرف وکٹ ہی نہیں گنواتی بلکہ ان پچھلی ڈاٹ بالز کا بوجھ بھی نئے بلے باز پر ڈال دیتی ہے، جسے نہ صرف پچھلا خسارہ مٹانا ہوتا ہے بلکہ اپنے ٹیلنٹ کا ثبوت دینے کو اگلے چھکے کی ’پری پلاننگ‘ میں چار مزید ڈاٹ گیندیں کھیلنا پڑ جاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے معاملے میں ڈاٹ بال کا ایک اور چہرہ بھی ہے جہاں مہارت نہیں، ’سٹائل‘ آڑے آ جاتا ہے اور اچھی بھلی دو رنز کی پوٹینشل گیند کو بھی باؤنڈری سے پرے اڑانے کی خواہش کوئی انہونی دکھا جاتی ہے جب بلے باز سنگل، ڈبل کو ’گھر کی مرغی‘ تصور کرتے ہوئے، وقعت صرف باؤنڈری سے باہر کے رنز کو دیتے ہیں۔
سالہا سال بابر و رضوان کے سٹرائیک ریٹس پر ذہن خرچ کرنے والے احباب کو اطلاع ہو کہ پاکستان کے معاملے میں ’ڈاٹ بال‘ کوئی انفرادی معمہ نہیں ہے، یہ ایک ’ٹیم فینومینا‘ ہے جہاں کردار صرف اپنے اکلوتے اسباب ہی نہیں رکھتے بلکہ ایک یونٹ کی مانند ایک دوجے کے ’بوجھ‘ سے بوجھل ہوتے ہیں۔












