بنوں میں سکیورٹی صورتحال پر احتجاج: ’ملزمان میرے خاوند کو قتل کر کے اُن کا سر اپنے ساتھ لے گئے‘

- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’ہمیں بتایا جائے کہ کون ہمارا جینا حرام کر رہا ہے؟ دن دیہاڑے بھتے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ وزیرستان والے بنوں اور بنوں والے وزیرستان میں قتل ہو رہے ہیں۔ ایف سی اہلکار بھی محفوظ نہیں تو پھر کون محفوظ ہو گا؟ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے امن اور صرف امن۔ ‘
صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں بدامنی کے خلاف جاری احتجاجی کیمپ کی قیادت کرنے والے بنوں چیمبر آف کامرس کے صدر شاہ وزیر خان کہتے ہیں کہ ہم نے بنوں کے تین مزدوروں، جن کو تاجر کہا گیا، کے وزیرستان میں اغوا اور پھر قتل کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا مگر اب ایک اور واردات ہوئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس واردات میں ’جانی خیل بنوں کے علاقے میں ایک ایف سی اہلکار کو بیٹے سمیت گھر میں گھس کر قتل کیا گیا۔‘
ان کا دعویٰ تھا کہ خوف پھیلانے کے لیے ایف سی اہلکار کا سر بھی تن سے جدا کیا گیا، جس کے بعد پورے بنوں میں خوف کی جگہ شدید غم وغصہ نے لے لی ہے۔
شاہ وزیر خان کہتے ہیں کہ ’اب وہ وقت گزر چکا ہے جب لوگ چُپ ہو جایا کرتے تھے۔ اب ہم چپ نہیں رہیں گے۔ بھرپور احتجاج ہو گا۔ جمعہ کے روز بنوں میں مکمل شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔ ‘
بی بی سی نے اس معاملے پر پولیس کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے ڈی پی او بنوں سے رابطہ قائم کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ پولیس ترجمان (پی آر او) سے بات کی جائے مگر جب ترجمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے بھی اس سلسلے میں کوئی جواب نہیں دیا۔
’سرکاری نوکری کا یہ ہی انجام ہوتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنوں کے تھانہ جانی خیل میں مقتول ایف سی اہلکار کی بیوہ کی جانب سے درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ’گذشتہ رات ساڑھے دس بجے کے قریب ہم لوگ سو رہے تھے کہ اچانک گھر کے باہر شور کی آواز سُنائی دی۔ جس پر میرے خاوند نے صحن میں نکل کر دیکھا کہ اٹھارہ، بیس افراد مختلف قسم کے اسلحہ سے لیس تھے۔ ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ’ان لوگوں نے میرے خاوند کو پکڑ لیا اور اس دوران میرا بیٹا بھی باہر نکل آیا۔ مسلح لوگوں نے فائرنگ شروع کر دی، جس سے میرا بیٹا اور خاوند موقع ہی پر ہلاک ہو گئے جبکہ وہ میرے خاوند کا سر تن سے جدا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔‘
درج مقدمہ میں خاتون کا کہنا ہے کہ جاتے جاتے ان لوگوں نے کہا کہ ’سرکاری نوکری کا یہ ہی انجام ہوتا ہے۔ ‘
مقامی لوگوں کے مطابق بعدازاں مقتول ایف سی اہلکار کا سر پچکی بازار میں رکھا ہوا پایا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کے دعوے کے مطابق اس موقع پر وہاں پر ایک خط بھی رکھا گیا جو مبینہ طور پر ’اتحاد المجاہدین خراسان گروپ‘ کی طرف سے تحریر کیا گیا تھا۔
مقامی افراد کے مطابق خط میں کہا گیا تھا کہ ’ایف سی اہلکار کو جاسوسی کرنے پر قتل کیا گیا۔‘ اس خط میں مقامی لوگوں کو اہلکار کا نماز جنازہ ادا کرنے سے بھی منع کیا گیا تھا۔
بنوں ہی میں ایسا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے، جس کے حوالے سے بنوں پولیس کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکار سردار علی خان مروت کو نامعلوم شر پسندوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
بنوں متحدہ انجمن تاجران کے سینیئر نائب صدر ناصر خان بنگش کہتے ہیں کہ یہ انتہائی سنگین واقعات ہیں۔
’ہم جہاں پر امن مانگ رہے ہیں وہاں پر یہ سوال بھی کررہے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں اور یہ کیسے اتنے طاقتور ہو گئے کہ یہ بے گناہوں کی جانیں لیتے ہیں اور انھیں کوئی پوچھ نہیں رہا۔‘
شاہ وزیر خان کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا اور بالخصوص جنوبی اضلاع میں امن وامان کی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ ’چند دن پہلے لکی مروت میں پولیس اہلکار مارے گئے۔ اسی طرح کا واقعہ نوشہرہ میں بھی پیش آیا۔ ہم پوچھتے ہیں کہ حکومتی رٹ کدھر ہے۔ ‘

،تصویر کا ذریعہGhulam Nasir
’وزیرستان اچھے کام کی تلاش میں گئے تھے‘
وزیرستان کے علاقے میں قتل ہونے والوں کے لواحقین بھی بنوں میں بدامنی کے خلاف جاری احتجاجی کیمپ میں موجود ہیں۔
ہلاک ہونے والوں تینوں نوجوان صرافہ بازار میں سونے کے کاروبار سے منسلک تھے۔
قتل ہونے والوں میں ایک 25 سالہ نوجوان ہارون کے چچا غلام ناصر دراز کہتے ہیں کہ وزیرستان کے علاقے میں صرافہ اور زرگری کا کام اچھا ہوتا ہے، جس وجہ سے میرا بھتیجا اور اس کے ساتھ دیگر لوگ اس موسم میں وہاں جا کر مختلف دکانوں پر کام کرتے ہیں۔ ‘
غلام ناصر کہتے ہیں کہ ’ہم لوگوں کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں۔ ہم نے کبھی کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ اس کے باوجود ہمارے جوان سال بیٹے کا قتل کر کے پورے خاندان کو تباہ کر دیا گیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ہارون غیر شادی شدہ تھے تاہم ان کی والدہ ان دنوں ان کے رشتے کی تلاش میں تھیں۔
قتل ہونے والے دوسرے نوجوان رحمت اللہ کی عمر 27 برس تھی۔ ان کے چھوٹے بھائی فرحان بتاتے ہیں کہ انھوں نے سوگواران میں ایک کم عمر بیٹا اور بیوہ چھوڑے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFarhan
فرحان کا کہنا تھا کہ ’میرا بھائی اکثر کام کے لیے وزیرستان جاتا رہتا تھا۔ کئی مرتبہ اس کو کہا بھی کہ وہاں رات کو مت ٹھہرا کرو مگر وہ کہتا تھا کہ وہاں پر مزدوری کے لیے جاتے ہیں۔ اب صبح جا کر شام کو واپس آئیں اور آنے جانے کا کرایہ خرچ کریں تو پھر بچت کیا ہو گی؟‘
فرحان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کیا ہوا اور کیوں ہوا۔ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ قاتلوں کو گرفتار کر کے سزا دی جائے۔‘
قتل ہونے والے تیسرے شخص دلدار شاہ ہیں۔ دلدار شاہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کی عمر 40 سال تھی۔
ناصر خان بنگش کہتے ہیں کہ دیکھیں کیسے تین ہنستے بستے گھر اجاڑ دیے گئے۔
’یہ سب کچھ دہشتگردی کے تحفے ہیں۔ ایک جرگے میں جب حکام کی توجہ دلائی گئی کہ بنوں کے مختلف مقامات پر شدت پسندوں کے ٹھکانے قائم ہیں تو ایک پولیس اہلکار نے اپنی بے بسی ظاہر کی اور کہا کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ اس اہلکار نے اپنی مجبوری بیان کی تھی۔ جس کی ویڈیو بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ ‘
بی بی سی نے مذکورہ اہلکار سے بھی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی مگر رابطہ قائم نہیں ہو سکا۔
’یہ کھیل اب بند ہونا چاہیے‘

شاہ وزیر خان کہتے ہیں صوبہ خیبر پختونخوا کے سرمایہ کار، صنعتکار، کاروباری افراد اپنا صوبہ چھوڑ کر اسلام آباد اور پنجاب میں جا بسے ہیں۔
’صوبے میں پہلے ہی صنعت انتہائی کم تھی، اب لوگ اپنی صنعتیں بھی بند کر رہے ہیں۔ مجھے پتا ہے کہ کئی لوگوں کو دھمکیاں ملی ہیں کہ وہ بھتہ دیں ورنہ ان کو قتل کر دیا جائے گا۔ ‘
شاہ وزیر خان کہتے ہیں کہ وزیرستان کے میر علی بازار میں تمام تاجروں کو دھمکیاں دی گئیں ہیں۔
’یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ بنوں کے مزدوروں کو وزیرستان میں ٹارگٹ کیا گیا۔ اس سے پہلے میڈیکل کے شعبے سے منسلک دو افراد وزیرستان میں ٹارگٹ ہوئے۔ اس سے پہلے چار خواتین کو قتل کیا گیا تھا۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف وزیرستان کے ایف سی اہلکار کو بنوں میں قتل کیا گیا۔ ’اس کا مطلب بنوں اور وزیرستان والوں کو آپس میں لڑانا ہے مگر یہ سازش کامیاب نہیں ہو گی۔ ہم کہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے ہے، یہ اچھے اور برے کا کھیل بھی بند ہونا چاہیے۔ ‘










