خیبر پختونخوا میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ، جے یو آئی کے مقامی رہنما نشانے پر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود خیبر پختونخوا میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے جس میں صرف قانون نافذ کرنے والے اہلکارں اور امن کے لیے آواز اٹھانے والے نوجوانوں کے علاوہ اب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مقامی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
صرف باجوڑ اور شمالی وزیرستان میں چند ماہ کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے نو مقامی رہنماؤں کو ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔
باجوڑ میں چند ماہ میں جماعت کے پانچ رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس کے ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔ شمالی وزیرستان میں چار مقامی رہنماؤں کو ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک کر دیا ہے لیکن اس کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شمالی وزیرستان میں احتجاج اور مرکزی قائدین خاموش؟
شمالی وزیرستان میں ایک ہفتے کے دوران جمعیت علماء اسلام کے چار مقامی رہنماؤں کو قتل کیا گیا ہے ان میں قاری سمیع الدین ، مولانا نعمان ، ملک مرتضی ، اور عبدالرحمان شامل ہیں۔
جماعت کے قبائلی علاقوں کے رہنما خالد داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کا مقامی سطح پر اجلاس ہوا ہے جس کے بعد شمالی وزیرستان میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے اور بنوں میرانشاہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
عیدک کے مقام پر احتجاجی کیمپ بھی لگایا گیا ہے اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے جب تک ٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں باجوڑ اور اورکزئی ضلع کے نمائندے شامل ہیں جو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرے گی۔
جماعت کے مقامی رہنماؤں کی ہلاکت پر اب تک مرکزی قائدین نے کسی قسم کا رد عمل نہیں دیا ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بیان جاری کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس بارے میں صوبائی رہنماؤں سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا جبکہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مقامی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مرکزی قایدین سے مشاورت کے بعد اس بارے میں وہ کوئی بیان جاری کریں گے ۔
خالد جان داوڑ نے بتایا کہ شمالی وزیرستان اور باجوڑ میں جماعت کے جن رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ اپنے علاقے اور صوبائی سطح پر متحرک قائدین اور لوکل گورنمنٹ کے سطح پر اہم شخصیات تھے۔ ان میں قاری سمیع الدین میر علی تحصیل کے امیر تھے اور سابقہ انتخابات میں جماعت کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے۔
باجوڑ میں جے یو آئی کیوں نشانے پر؟
افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے خیبر پختونخوا میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ان میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔
باجوڑ میں جمعیت علمائےاسلام کے پانچ مقامی رہنماؤں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے ان میں مفتی سلطان محمد ، مولانا عبدالسلام ، قاری الیاس، مولانا شفیع اللہ ، اور مفتی بشیر شامل ہیں ۔
مقامی سطح پر ان رہنماؤں کی ہلاکت پر احتجاج کیا گیا ہے لیکن مرکزی قیادت نے اس بارے میں صرف مذمتی بیان کی جاری کیے تھے یہ واقعات گزشتہ سال نومبر کے بعد سے شروع ہوئے تھے۔
داعش کے حملے
افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے جہاں افغانستان کے اندر داعش کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے وہیں پاکستان میں بھی ایسے حملے بڑھ گئے ہیں جن کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کی ہے ان میں سکھ حکیم پر حملے کے علاوہ پشاور میں شیعہ مسجد پر حملہ اور جمعیت کے رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ شامل ہے ۔
اس سال اپریل کے مہینے میں کالعدم تنظیم داعش نے سات صفحات پر مشتمل ایک بیان جاری کیا تھا جس میں جمعیت علمائے اسلام کے مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے بارے میں کہا گیا تھا ۔ یہ فتوی باجوڑ میں مفتی شفیع اللہ کے قتل کے بعد جاری کیا گیا تھا۔
اس بیان میں مفتی شفیع اللہ اور قاری الیاس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ دونوں مذہبی رہنماؤں کا تعلق جمعیت علمائے اسلام سے تھا جو آئی ایس کے پی (داعش) کے مخالفین کی حمایت کرتی ہے اور یہ کہ یہ جماعت اسلامی ریاست کے قیام کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت کے قیام کے لیے سر گرم ہے ۔ داعش کے مخالفین سے مراد بظاہر کالعدم تنظیم تحریک طالبان ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu
باجوڑ سے تعلق رکھنے والے جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا عبدالرشید نے اس بارے میں کہا ہے کہ انھیں نہیں معلوم کہ جمعیت کے لوگوں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو سوشل میڈیا پر ذمہ داری قبول کی جاتی ہے اس کی تصدیق بھی نہیں ہے کہ یہ اصل ہے یا کسی تنظیم کی جانب سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کالعدم تنظیم کی جانب سے ہے تو ان سے پوچھا جائے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت اسلام اور پاکستان کے استحکام کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور انھیں تو اپنا گناہ معلوم نہیں ہے کہ اس کا سبب کیا ہے ۔
جمعیت علمائے اسلام کے قبائلی علاقوں کے رہنما خالد جان داوڑ نے بتایا کہ یہ اب تک غیر واضح ہے کہ جمعیت کے رہنماؤں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ در اضل مخالفین امن نہیں چاہتے اس لیے وہ تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں جماعت کے رہنماؤں کے قتل پر تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی تنظیم کی تنظیم قاتلوں کو ڈھونڈ رہی ہےجنھیں عنقریب کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے گا ۔
حالات کیا رخ اختیار کر رہے ہیں؟
تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویشناک ہیں۔ حکومت کی سطح پر قانون نافذ کرنے والے حکام اکثر یہی کہتے ہیں کہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور جلد انھیں گرفتار کر لیا جائے گا ۔
سینیئر صحافی اور ڈان ٹی وی کے بیورو چیف علی اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی طور پر ریاست کی جانب سے شدت پسندی سے نمٹنے کے حوالے سے ان کی پالیسی میں ایک تبدیلی سامنے آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا جیسے ماضی میں ریاست کی پالیسی جارحانہ تھی اور اس میں شدت پسندوں کے خلاف بھر پور کارروائیاں کی گئیں تھیں جس سے شدت پسند پیچھے ہٹ گئے تھے۔
اب ریاست کی پالیسی امن کے قیام اور مذاکرات کی جانب ہے اور اس کے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں جس وجہ سے ٹی ٹی پی نے جنگ بندی کا اعلان بھی کیا ہوا ہے۔
علی اکبر کے مطابق اس پالیسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر شدت پسند تنظیمیں متحرک ہو گئی ہیں اور اس وجہ سے یہ واقعات بڑھ گئے ہیں۔
پاکستان میں سیاسی جماعتیں اکثر و بیشتر شدت پسندی کا نشانہ رہی ہیں ۔ ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے اور اس میں سب سے زیادہ نقصان عوامی نیشنل پارٹی کو اٹھانا پڑا تھا جن کے مرکزی اور صوبائی قائدین کو قتل کیا گیا تھا۔
جمعیت علمائے اسلام پر ماضی میں بھی حملے ہوئے ہیں یہاں تک کہ جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر بھی حملے ہو چکے ہیں جن میں وہ محفوظ رہے تھے۔ اب ایک مرتبہ پھر جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں پر حملوں میں شدت آئی ہیں ۔
علی اکبر کا کہنا تھا کہ ان کے تجزیے کے مطابق جماعت کے قائدین اس وقت صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور سیاسی جماعتیں ماضی میں بھی بڑے نقصانات اٹھا چکی ہیں اور اس وقت سیاسی جماعتیں بھی ریاست کی پالیسی دیکھ رہی ہیں اور ریاست کی پالیسی واضح ہونے کے بعد کوئی لائحہ عمل اختیار کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ جمعیت علمائے اسلام تحریک طالبان کی جانب نرم گوشہ رکھتی ہے اور حالیہ مذاکرات پر ان کی نظر ہے جس وجہ سے جمعیت کے مرکزی قائدین کھل کر سامنے نہیں آ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی حالات کو دیکھ رہی ہیں کہ کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ
شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن ضرب عضب شمالی وزیرستان میں سال 2014 میں شروع کیا گیا اور یہ آپریشن کوئی تین سے چار سال تک جاری رہا جس میں سیکیورٹی حکام کے مظابق ہزاروں مسلح شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ لیکن جب علاقے کو شدت پسندوں سے صاف قرار دے کر متاثرہ افراد کو واپس اپنے علاقوں کو بھیج دیا گیا تو سال 2018 سے ٹارگٹ کلنگ کا نہ ختم ہونے والے سلسلہ شروع ہوگیا جب ایک سال میں 18 افراد کو ہدف بنا کر قتل کر دیا گیا تھا۔
اس کے بعد 2018 میں 51 افراد اور 2020 میں 46 افراد کو قتل کر دیا گیا تھا ۔ اسی طرح 2021 میں 63 اور 2022 میں اب تک 31 افراد کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
شمالی وزیرستان کےپولیس سربراہ کا موقف
شمالی وزیرستان کے ضلعی پولیس افسر فرحان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ضرور ہو رہے ہیں لیکن یہاں ذاتی دشمنی یا لین دین کے معاملات کو بھی ٹارگٹ کلنگ کے زمرے میں ڈال دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سال اب تک قتل کی 58 ایف آئی آر درج ہوئی ہیں جن میں تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ ان میں 19 واقعات ذاتی دشمنی کے تھے۔ اس کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں زیادہ تر ان لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو سیکیورٹی فورسز کے قریب ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایسے لوگوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے جو دیگر اضلاع سے آئے ہیں اور مسلح افراد ان کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
فرحان خان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام کے مقامی رہنماؤں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان واقعات میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جعمیت کے لوگ مقامی سطح پر امن چاہتے ہیں اور امن کے قیام کے لیے کوششیں کر رہے تھے جس پر انھیں نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان سے جب پوچھا کہ کونسے گروپ اس علاقے میں متحرک ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر واقعات میں حافظ گل بہادر گروپ اور ان سے منسلک دیگر گروہ یہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں داعش کے لوگ نہیں ہیں اور ان واقعات پر قابو پانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔











