برانڈز کی نوکری ٹھکرا کر ہنزہ کے مقامی کاریگر خواتین کا ساتھ دینے والی ڈیزائنر

پاکستان
    • مصنف, موسیٰ یاوری
    • عہدہ, بی بی سی اردو، ہنزہ

ایک اچھی یونیورسٹی سے ٹیکسٹائل ڈیزائنر کے طور پر گریجوئیٹ ہونے کے بعد وجیہہ کا مستقبل روشن تھا لیکن کچھ چیزیں ایسی تھیں جو انھیں بڑے سے بڑے برانڈز کے ساتھ کام کرنے سے روک رہی تھیں۔

ان کی یونیورسٹی کے سارے ہم جماعت اس بات پر خوش تھے کہ نوکری ملنے کے بعد وہ دوسروں کو کہہ سکیں گے کہ وہ فلاں برانڈ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور کراچی جیسے شہر میں زندگی گزارنے کے لیے یہ لازم تھا۔

لیکن وجیہہ کو بچپن ہی سے ایک اور طرح کی تربیت ملی تھی۔ وجیہہ کہتی ہے کہ وہ سات سال کی تھیں جب انھوں نے گرل گائیڈ ایسوسی ایشن میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ’ہمیں یہ ہمیشہ کہا جاتا تھا کہ انسانیت اور اپنے ملک کے لیے کام کرنا ہے۔‘

وجیہہ کے چہرے پر ایک فخریہ مسکراہٹ تھی جب ہنزہ میں واقع ایک بڑے ہال میں انھوں نے مجھے یہ بات بتائی۔

ہنزہ، ڈیزائنر، کاریگر

وجیہہ خان کی اپنی پیدائش کراچی کی ہی ہے اور انھوں نے اپنی تعلیم وہی سے حاصل کی۔ لیکن ان کے والدین ہنزہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان تمام برسوں کے دوران وہ ہنزہ چھٹیاں منانے آتی تھیں لیکن انھیں کبھی یہ محسوس نہیں ہوا تھا کہ وہ ہنزہ آ کر ہی کام کریں گی۔ ’مجھے ہمیشہ ایک بات تنگ کرتی تھی کہ میں کس طرح باقی لوگوں سے مختلف کام کروں۔‘

’میرے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری، جہاں تخلیقی کام ہوتا ہے، میں کس طرح فلاحی کام کروں یا کچھ ایسا کروں جس سے انسانیت کی خدمت بھی ہو؟ یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔‘

دھاگے، آرگینک

اپنی تعلیم کے دوران ہی جب وہ ہنزہ آ کر ہنر مند خواتین سے ملیں تو انھیں اندازہ ہوا کہ ’ہنزہ کی اپنی پہچان تو بہت ساری چیزیں ہیں لیکن ہاتھ سے بنی مختلف اشیا، خاص طور پر کپڑوں، کی بہت ڈیمانڈ ہے۔‘

لیکن انھیں اپنی ریسرچ کے دوران کئی اور حقائق کا پتہ چلا۔ ’ہنزہ میں کاریگروں اور ہنر مندوں کا مختلف طریقوں سے استحصال کیا جا رہا تھا۔‘

ان کے مطابق انھیں معلوم ہوا کہ ’ہاتھ سے بنی مختلف اشیا کو کم قیمت پر خرید کر مہنگے داموں بیچنا تو عام سی بات ہے لیکن ہمارے ہنر مندوں کو اس بات کا نہیں پتہ تھا کہ ہاتھ سے بنی ہوئی چیزوں کی ڈیمانڈ کتنی زیادہ ہے۔‘

وجیہہ کو ’انڈس ویلی سکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر‘ میں اپنے شعبے میں نمایاں کامیابیاں ملی تھیں۔

ان کا کام اس حوالے سے مختلف ہے کہ وہ ہاتھ سے بنی ہوئی مختلف اشیا جیسے شال اور ٹوپیاں بنانے والی ہنر مند خواتین کو تربیت دیتی ہیں۔ یہ اشیا کیمیائی مراحل سے گزرے بغیر، پھلوں کے رس اور ان کے چھلکوں کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں۔ ان اشیا میں تخلیقی ڈیزائنز تو ہیں ہی مگر ساتھ میں یہ ماحول دوست بھی ہیں۔

ہنزہ، ٹیکسٹائل

ان کے اسی کام کی وجہ سے انھیں کئی بڑے برانڈز سے نوکری کی پیشکش بھی ہوئی لیکن انھوں اپنے آبائی علاقے کو ان نوکریوں پر ترجیح دی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم علاقے میں ہی دستیاب جانوروں کی کھالوں کی مدد سے پہلے اون کے دھاگے بناتے ہیں اور انہی دھاگوں کی مدد سے ہاتھ سے بنی ہوئی اشیا بنا رہے ہیں۔‘

وجیہہ کہتی ہے کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو اس بات کا نہیں پتا کہ دنیا میں اس وقت ’آرگینک‘ (قدرتی اجزا سے تیار کردہ) اشیا کی قدر و قیمت کتنی بڑھ گئی ہے اور ان کا کام انھی چیزوں کے گرد گھومتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہنزہ، ٹیکسٹائل

وجیہہ کہتی ہے کہ اس سے پہلے بھی لوگ آ کر ہنزہ میں کام کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ ’یہاں کے کاریگروں کا مختلف طریقوں سے استحصال ہوتا رہا ہے جس میں انھیں کم معاوضہ ملنا ایک عام سی بات ہے۔‘

’جبکہ باہر وہی چیزیں کئی گنا مہنگے داموں بکتی ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ ان خواتین کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ ان کو آگاہی بھی ملے کہ ان کے کام کی کتنی اہمیت ہے۔‘

وجیہہ ان خواتین کے ساتھ مل کر مقامی طور پر دستیاب اشیا سے اون کے دھاگے بناتی ہیں جو ویسے بھی گرام کے حساب سے بکتے ہیں۔

دھاگے

ان کا کہنا ہے کہ ’میں چاہتی ہوں کہ جو تعلیم میں نے حاصل کی، اس میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کر کے ہنزہ کی خواتین کو خود مختار بنانے میں ان کی مدد کر سکوں۔ اپنی قابلیت کا استعمال کر کے جب ہم ایک پراڈکٹ بنائیں تو فی پراڈکٹ کے حساب سے ان خواتین کو ان کی اجرت ملے نہ کہ ماہانہ بنیاد پر تنخواہ۔‘

’ہاتھ سے بنی ہر چیز ہر بار مختلف ہوں گی اور ان کی اپنی ایک حیثیت ہے۔ اس لیے ان خواتین کو بھی ہر ایک کام کے بدلے اس کا معاوضہ ملنا چاہیے۔‘

وجیہہ کہتی ہے کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ یہ سارے کاریگر بہت قابل ہیں لیکن قابلیت کے ساتھ ساتھ انھیں اس بات کی تعلیم ملنی چاہیے کہ ان کے کام کی کتنی اہمیت ہے۔

وہ چاہتی ہے کہ ہنزہ میں اس کام کو بنیاد بنا کر وہ یہی کام پاکستان کے ہر اس کونے میں لے کر جائیں جہاں خواتین کو قابلیت ہونے کے باوجود کم اجرت ملتی ہے اور ان کا استحصال ہو رہا ہے۔

دھاگے، ٹیکسٹائل، ہنزہ