برانڈز کے تشہیری ٹیکسٹ میسجز سے کیسے پیچھا چھڑایا جائے؟

ٹیکسٹ میسجز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’مجھے ایک ہی جوتے کو خریدنے کا میسج کئی بار آ چکا ہے۔ میں موبائل بند کر لوں یا ان میسج کرنے والوں کو بلاک کر دوں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

’میں آج تک ثنا سفیناز نہیں گئی لیکن اس کے باوجود کئی بار وہاں سے کپڑے خریدنے کا میسج آتا رہتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ میرا نمبر ان کمپنیوں کے پاس کیسے پہنچا؟‘

یہ وہ عام شکایات ہیں جو پاکستان میں اکثر ایسے صارفین کرتے نظر آتے ہیں جو نجی برانڈز کی جانب سے فون پر تشہیری پیغامات کے سلسلے سے تنگ ہیں۔

لیکن ان تشہیری میسجز سے جان چھڑانے کے لیے کیا کرنا چاہیے، یہ وہ نہیں جانتے۔

حال ہی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو کئی ایسی شکایات موصول ہوئیں جو پاکستان میں بننے والے مختلف کپڑوں کے برانڈز کی طرف سے تشہیری میسجز کے بارے میں تھیں۔

ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا یہ شکوہ تھا کہ انھیں متواتر محتلف برانڈز کی طرف سے اشتہارات آتے رہتے ہیں جو بلاک کرنے کے باوجود بھی نہیں رکتے۔

ان شکایات کے جواب میں پی ٹی اے نے سوشل میڈیا پر معلومات فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو سوشل میڈیا پر ہی لوگوں نے مزید شکایات بتانا شروع کر دیں۔

تشہیری میسجز کو کیسے بلاک کیا جائے؟

پی ٹی اے

،تصویر کا ذریعہPTA

پی ٹی اے کے ترجمان خرم مہران نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تشہیری پیغامات کو بلاک کرنے کے لیے صارفین اپنے موبائل نمبر کو ’ڈو ناٹ کال رجسٹر‘ میں درج کرا دیں۔

انھوں نے کہا کہ صارفین اگر کسی مخصوص برانڈ کی جانب سے پیغامات موصول نہیں کرنا چاہتے تو ’ان سب‘ لکھ کر اسی برانڈ کے شارٹ کوڈ یعنی اسی میسج کے جواب میں بھیج دیں۔ یہ شارٹ برانڈ کوڈ ہر موصول ہونے والے میسج کے نیچے موجود ہوتا ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین اپنے موبائل فون آپریٹر جیسے کہ جاز، یوفون اور زونگ سے بھی ایسے پیغامات کو روکنے کے لیے مدد لے سکتے ہیں۔

پی ٹی اے کے ترجمان خرم مہران نے کہا کہ ’ہم لوگوں تک اطلاع پہنچا سکتے ہیں لیکن انھیں گرفتار کرنے کا اختیار ہمارے پاس نہیں ہے۔‘

ٹیلی مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس عوام کا ڈیٹا پہنچتا کیسے ہے؟

پاکستان میں کام کرنے والے جتنے بھی بزنس ہیں، مختلف طریقوں سے عام عوام کا ڈیٹا حاصل کرتی ہیں۔

پاکستان کے بینکنگ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے ایک ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’یا تو کمپنیاں خود کسٹمر سے ان کی تفصیلات جیسے کہ نام، فون نمبر اور پتہ وغیرہ لے لیتے ہیں، یا پھر کسٹمرز کو ٹریک کرکے حاصل کی جاتی ہیں مطلب یہ کہ وہ کونسی ویب سائیٹ کا استعمال کرتے ہیں، اگر فیس بُک پر اس کمپنی یا اس جیسے برانڈ کو پسند کرتے ہیں، تو اس کے ذریعے بھی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ اور پھر ایک طریقہ کسٹمر ڈیٹا کو مختلف ویب سائیٹ سے خریدنے کا ہے، اور زیادہ تر کامیاب کمپنیوں کا بزنس انھیں تین باتوں کے گرد گھومتا ہے۔‘

کمپنیوں کا مقصد کسٹمر کے لیے آسانی پیدا کرنا، اپنی مارکیٹنگ کو بہتر بنانا اور ملنے والے ڈیٹا سے پیسے کمانا ہوتا ہے
،تصویر کا کیپشنکمپنیوں کا مقصد کسٹمر کے لیے آسانی پیدا کرنا، اپنی مارکیٹنگ کو بہتر بنانا اور ملنے والے ڈیٹا سے پیسے کمانا ہوتا ہے

یہ بھی پڑھیے

بینکنگ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے ترجمان نے کہا کہ اکثر اوقات بینک، بڑے برانڈز کے مالکان اور دیگر کمپنیاں کسٹمر ڈیٹا خریدنے سے پہلے لوگوں سے بھی براہِ راست رائے لیتی ہیں۔

’اکثر یہ ہوتا ہے کہ اپنے سوشل میڈیا صفحات کے ذریعے لوگوں کی پسند یا نا پسندیدگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی صارفین کے ڈیٹا کو انھیں کے سوشل میڈیا صفحات کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر کسٹمر خود اپنا ڈیٹا استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں جب وہ ان سوشل میڈیا صفحات پر اپنی پروفائل بناتے ہیں۔ یا گوُگل پر آنے والے اشتہارات کو اپنا ڈیٹا جانچنے کی اجازت دیتے ہیں۔‘

ان کے مطابق زیادہ تر کمپنیوں کو ملنے والی اطلاعات ایک کھیپ کی صورت میں آتی ہیں۔ ان معلومات کو کمپیوٹر کے ذریعے چھانٹا جاتا ہے اور مختلف خانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں کسٹمر کی پسند نا پسند، بچت سکیم کی کامیابی یا ناکامی، اور نئے پروڈکٹ کے بارے میں معلومات لی جاتی ہیں۔

ایسا کرنے کے پیچھے کمپنیوں کا مقصد کسٹمر کے لیے آسانی پیدا کرنا، اپنی مارکیٹنگ کو بہتر بنانا اور ملنے والے ڈیٹا سے پیسے کمانا ہوتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں مزید ڈیٹا جمع کرنا ہوتا ہے۔

لیکن کمپنی کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اپنے پروڈکٹ کی تشہیر کرنے کے چکر میں بہت سے صارفین کا ذاتی ڈیٹا محتلف کمپنیوں تک ان کی مرضی کے بغیر شئیر کیا جاتا ہے۔

'پی ٹی اے کا کام صرف پابندی لگانا یا بلاک کرنا نہیں‘

ڈیٹا سے متعلق قوانین پر کام کرنے والی کارکن فریحہ عزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر عوام کا ذاتی ڈیٹا اکثر کمپنیاں ان کی اجازت کے بغیر استعمال کرتی ہیں۔

’پی ٹی اے کا کام صرف پابندی لگانا یا بلاک کرنا نہیں بلکہ ڈیٹا پالیسی کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنانا بھی ہے۔ پی ٹی اے اور فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو مفادِ عامہ میں پیغامات جاری کرنے ہونگے۔‘

انھوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کے تشہیری پیغام کو بلاک کرنے کے علاوہ پی ٹی اے کو یہ بھی بتانا ہو گا کہ اس قسم کے فراڈ سے کیسے بچا جائے۔

فریحہ نے کہا کہ ایک دو سال پہلے تک ڈیٹا کی حفاظت کے لیے ایک بِل پر بات کی جارہی تھی لیکن بعد میں اس پر کوئی گفت و شنید نہیں ہو سکی۔

فریحہ نے کہا کہ ’قانون بنانا ایک حل ہے، لیکن لوگوں تک عام اطلاعات پہنچانا بھی بہت ضروری ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ نہیں پتا کہ ان کا ڈیٹا کیسے استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ تشہیری پیغامات کو روکنا بہت ضروری ہے لیکن اس کے لیے لوگوں کو بتانا ہوگا کہ ڈیٹا مختلف ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے اور ایک روز میں کسی میسج کو بلاک کرنے سے یہ سلسلہ نہیں رک سکتا۔‘

دوسری جانب ڈیٹا پر کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے جتنا بھی ڈیٹا کمپنیاں استعمال کرتی ہیں ان کو اپنے صارفین کو بتانا چاہیے کہ وہ کہاں اور کیوں استعمال ہو رہا ہے۔