افغانستان کی پہلی خاتون میئر جو جرمنی چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اپنے ملک واپس آنا چاہتی ہیں

،تصویر کا ذریعہZarifa Ghafari
افغانستان کی 28 سالہ سیاست دان اور خواتین کے حقوق کی کارکن ظریفہ غفاری کہتی ہیں کہ ’افغانستان میرا ملک ہے۔ اگر میں واپس نہیں گئی اور ملک کی تعمیرِ نو میں کردار ادا نہیں کیا تو کون کرے گا؟‘
چوبیس برس کی عمر میں ظریفہ غفاری افغانستان کی سب سے کم عمر خاتون میئر بنیں مگر شہرت کی بھی ایک قیمت تھی۔ ان پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے۔
تین سال بعد سنہ 2021 میں وہ طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ایک انخلائی پرواز کے ذریعے ملک چھوڑ گئیں۔ تب سے اب تک وہ جرمنی میں مقیم ہیں۔
کئی نمایاں افغان شخصیات ہمیشہ کے لیے افغانستان چھوڑ گئی ہیں مگر رواں سال کے اوائل میں ظریفہ نے مختصر مدت کے لیے افغانستان آنے کا فیصلہ کیا اور اب وہ ہمیشہ کے لیے واپس آنے پر غور کر رہی ہیں۔
غفاری نے جرمنی سے بی بی سی سے اپنی زندگی، طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان کے دورے اور اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بات کی۔

،تصویر کا ذریعہZarifa Ghafari
اتھل پتھل بھری زندگی
ظریفہ کہتی ہیں کہ ’میں جرمنی میں مہمان ہوں۔ جیسے ہی میرا کام ختم ہو گا میں واپس لوٹ جاؤں گی۔‘
وہ اب اپنی کتاب اور اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں ایک دستاویزی فلم کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں جو ایک سٹریمنگ پلیٹ فارم پر دستیاب ہو گی۔
اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ بات اہم نہیں کہ میں کتنے قومی یا بین الاقوامی انٹرویوز دیتی ہوں۔ میرے لیے یہ اہم ہے کہ میں اپنے لوگوں کے ساتھ اپنے وطن میں رہوں۔ میں اپنے ساتھی افغانوں کے ساتھ روٹی کھانا چاہتی ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ظریفہ نوّے کی دہائی کے وسط میں پیدا ہوئیں۔ یہ وہ وقت تھا جب سوویت انخلا کے بعد طاقت کے لیے رسّہ کشی جاری تھی۔ اُنھوں نے پہلا طالبان دور اور پھر امریکی حمایت یافتہ حکومت بھی دیکھی۔
سولہ برس کی عمر میں اُنھیں ایک مکمل سکالرشپ ملی اور وہ اقتصادیات اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انڈیا چلی گئیں۔
انڈیا میں اُنھیں دو برس ہوئے تھے کہ ایک سڑک پار کرتے ہوئے انھیں ایک گاڑی نے ٹکر مار دی۔ وہ 25 دن تک کوما میں رہیں۔

،تصویر کا ذریعہZarifa Ghafari
سیاسی سرگرمی
ہسپتال میں رہنے کے دوران ان کی سیاست میں دلچسپی بڑھنے لگی۔ اس دوران کابل میں قرآن جلانے کے الزام پر فرخندہ ملک زادہ نامی ایک خاتون کے بے رحمانہ قتل کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے۔
ظریفہ کو اس سے بہت صدمہ پہنچا۔ ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد اُنھوں نے مظاہروں میں حصہ لیا۔ سنہ 2018 میں اُنھیں افغان صدر نے میئر کے عہدے کے لیے نامزد کیا جس پر وہ تین برس تک فائز رہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ دفتر میں ان کے پہلے دن ہی تمام مرد ساتھی دفتر سے باہر چلے گئے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے سب کو باضابطہ میٹنگ کے لیے بلایا اور ان سے کہا کہ جو بھی میونسپلٹی میں کام کرنا چاہتا ہے اسے دفتر میں ہونا چاہیے۔ جو بھی دفتر میں نہیں ہو گا میں مرکزی حکومت سے کہوں گی کہ اسے نکال دیا جائے۔‘
یہ دھمکی کام کر گئی۔
میئر کے طور پر وہ شہر میں موجود غیر قانونی عمارتوں کے خلاف سرگرم رہیں۔ اُنھوں نے یقینی بنایا کہ دکاندار اپنے ٹیکس ادا کریں۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے صفائی کی مہم بھی چلائی۔
ظریفہ اب مقامی انتظامیہ میں کوئی عہدہ نہیں رکھتیں۔

،تصویر کا ذریعہZarifa Ghafari
’میں نے اپنی توانائی سرگرمیوں میں لگا دی‘
امریکہ کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے خاتمے کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ جرمنی چلی گئیں مگر ان کا دل اب بھی افغانستان کے لیے دھڑک رہا ہے۔
’میں نے اپنی توانائی سرگرمیوں میں لگا دی اور یورپ بھر میں ایونٹس میں خطاب کیا۔ میں افغان بحران کو عالمی توجہ دلانے کے لیے کام کر رہی ہوں۔‘
ظریفہ پیسے اکٹھے کرنے اور کابل میں خواتین کے لیے ایک ہنری تربیتی مرکز شروع کرنے میں بھی کامیاب رہیں۔
جب اُنھوں نے پڑھا کہ کچھ خاندان پیسوں کے بدلے اپنی نوجوان بیٹیوں کی شادیاں کر رہے ہیں تو اُنھوں نے مداخلت کی اور مذکورہ خاندانوں کے لیے پیسے جمع کیے اور کم عمری کی شادیاں رکوا دیں۔

،تصویر کا ذریعہZarifa Ghafari
کابل واپسی
اس کے بعد اُنھوں نے فروری میں ایک غیر معمولی فیصلہ لیا۔ وہ افغانستان لوٹنے والی تھیں۔ ظریفہ کو پہلے خوف تھا کہ اُنھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔
اُنھوں نے طالبان کے ترجمان سے بات کی جنھوں نے اُنھیں یقین دلایا کہ اُنھیں ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ ظریفہ نے اپنی افغانستان واپسی کے مقصد کے بارے میں مزید بات نہیں کی۔
وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کی سختی سے تردید کرتی ہیں کہ اُنھوں نے ’عسکریت پسندوں کے ساتھ ڈیل کر لی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میرا دورہ نہایت ذاتی تھا۔ اس کا طالبان سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔‘
اپنی دستاویزی فلم کی ٹیم کے ہمراہ وہ سیدھی ’میدان شہر‘ نامی اپنے شہر گئیں جو کابل سے 40 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔
’میں وہاں اپنے والد کی قبر پر گئی اور گھنٹوں تک روئی۔ میں نے اُنھیں اپنی تنہائی اور دربدری کے دکھ سنائے۔‘
ان کے والد افغان فوج کے ایک درمیانے درجے کے ریٹائرڈ افسر تھے جنھیں طالبان نے سنہ 2020 میں ہلاک کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہZarifa Ghafari
لوگوں سے ملاقات
متعدد مرتبہ قاتلانہ حملوں کی زد میں آنے کے باعث وہ خطرات سے باخبر تھیں۔ ظریفہ کے ماموں ہمیشہ ان کے دوروں میں ان کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں یتیموں، بیواؤں، مردوں اور خواتین سے ملی۔ میں نے ان لڑکیوں سے بات کی جنھیں زبردستی سکول چھڑوا دیا گیا اور ان سے بھی جو میڈیا میں کام کیا کرتی تھیں۔‘
’مجھ سے بات کرنے والی کئی خواتین نے خوراک کی کمی کی شکایت کی۔‘
ظریفہ یاد کرتی ہیں کہ کس طرح وہ اپنے ضلع دے میرداد میں مردوں کی جانب سے استقبال کیے جانے پر حیران ہو گئی تھیں۔
اس علاقے میں بجلی اور سیوریج سسٹم نہیں تھا۔ ’وہ چاہتے تھے کہ طبی مرکز کھلے، لڑکیوں کا سکول دوبارہ کھلے اور اس میں توسیع کی جائے۔‘
اُنھوں نے بتایا کہ ’مردوں کا ایسا گروہ جو اپنی خواتین سے نہ بات کرتا ہے نہ ان کی بات سننے کا عادی ہے، وہ مجھ سے خواتین کے مسئلوں سے متعلق بات کر رہا تھا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ملاقات ایسی عمارت میں ہوئی جس پر طالبان کا پرچم لہرا رہا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہZarifa Ghafari
طالبان کے لیے معافی
میئر بننے سے قبل ظریفہ غفاری ایک صحافی تھیں اور اُنھوں نے اپنا ریڈیو سٹیشن قائم کیا تھا جس کی توجہ خواتین کی خود مختاری پر ہوا کرتی۔ ان کے کئی پرانے جاننے والے ان سے ملنے آئے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے ایک خاتون صحافی سے بات کی جو اپنے مستقبل کے بارے میں بہت پرامید تھیں۔ وہ میری کامیابی سے متاثر تھیں۔ یہ بہت زبردست احساس تھا۔ اس سے مجھے مضبوط ہونے کا احساس ہوا۔‘
افغانستان چھوڑنے سے چند گھنٹے قبل اُنھوں نے ایک مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ ایک ریکارڈڈ انٹرویو میں تشدد کے خاتمے کی اپیل کی۔
’اگر طالبان لوگوں کو قتل نہ کرنے اور کسی اور بچے کو یتیم نہ کرنے کا وعدہ کریں تو میں بھی طالبان کو معاف کر دوں گی۔‘
ان کے آخری دورے سے اب تک ملک میں خواتین کے تحفظ اور حقوق کی صورتحال میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔
طالبان نے حال ہی میں خواتین کے پارکس اور دیگر عوامی مقامات پر جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ہاتھ کاٹ دینے جیسی سخت سزائیں دوبارہ متعارف کروائی جا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہZarifa Ghafari
ہمیشہ کے لیے واپسی
ظریفہ اب طالبان کی حکومت میں رہنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
’میں میدان صاف ہونے کا انتظار نہیں کر رہی۔ میں مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ ہونا چاہتی ہوں۔ میں ان کے لیے کام کرنا چاہتی ہوں جب میرے اندر توانائی ہے اور میں نوجوان ہوں۔‘
ظریفہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنے ملک اور اپنے لوگوں کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ لوگ اہم ہیں، حکومت نہیں۔ میں نے اپنے آخری دورے میں پایا کہ ہمارے ملک کو میرے جیسے لوگوں کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔‘
ظریفہ خواتین کی تعلیم کی اہمیت پر بھی زور دیتی ہیں: ’اگر آج کی خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوں گی تو کل وہ تعلیم یافتہ مائیں کیسے بنیں گی۔‘
مگر اُنھیں امید ہے کہ قسمت بدلے گی۔
’ظلم اور جبر اب زیادہ عرصہ قائم نہیں رہے گا۔‘













