ٹی 20 ورلڈ کپ سیمی فائنل: اپنے نہیں، کیوی اوپنرز کا سوچیے، سمیع چوہدری کا کالم

بابر اعظم، محمد رضوان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

پاکستان کی اوپننگ جوڑی میں تبدیلی سے متعلق جو سوال اس وقت پاکستان کے کرکٹ حلقوں میں زیرِ بحث ہے، کیا وہ واقعی پاکستان کے ڈریسنگ روم میں غوروخوض کا متقاضی ہونا چاہیے؟ کیونکہ کوئی بھی سٹریٹجک قدم لینے سے پہلے یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ شائقین کی یاداشت بہت محدود ہوا کرتی ہے۔

زیادہ پرانے نہیں، وہ ماضی قریب کے ہی دن تھے جب بابر اعظم شائقین کے دلوں کی دھڑکن ہوا کرتے تھے اور ان کا موازنہ وراٹ کوہلی سے کیا جاتا تھا اور تب نمبر ون بلے باز محمد رضوان کو سپرمین سے تشبیہہ دی جاتی تھی مگر انگلینڈ کے خلاف سیریزمیں بابر کی فارم کچھ گری اور شائقین کی محدود یاداشت بھی اچانک کہیں کھو گئی۔

مگر ثقلین مشتاق کے ڈریسنگ روم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بیرونی آرا پر زیادہ توجہ نہیں دیتا اور اپنی سی ہی کرکٹ کھیلنے کو ترجیح دیتا ہے۔ گو یہ اپروچ بعض اوقات خسارے کا بھی سبب ہوتی ہے، مگر اسی لائحہ عمل نے حال میں ہی کئی کامیابیاں بھی سمیٹی ہیں۔

یہاں سوال یہ بھی ہے کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کے سٹرائیک ریٹ کا دنیا کی عظیم اقوام سے موازنہ کرتے ہوئے اس حقیقت سے صرفِ نظر کیوں کیا جاتا ہے کہ گذشتہ دو سال میں انھوں نے اپنی بیشتر کرکٹ سست ایشیائی وکٹوں پر کھیلی ہے۔

اسی سٹرائیک ریٹ کے ساتھ نہ صرف وہ ایک ناتجربہ کار مڈل آرڈر کا بوجھ بٹاتے رہے ہیں بلکہ کئی ریکارڈ کامیابیاں بھی پاکستان کے نام کی ہیں۔

لہٰذا سیمی فائنل جیسے نازک موقع پر محمد حارث سے اوپننگ کروانے کی تجویز اس کامیاب ترین اوپننگ جوڑی کے لیے کسی اہانت سے کم نہیں۔

Williamson

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بعض اوقات ایسے اہم ترین مواقع پر اچانک لیے گئے ایسے فیصلے ٹیم کی کیمسٹری میں ایسا بھونچال برپا کرتے ہیں کہ گتھی سلجھاتے سلجھاتے ہی اننگز تمام ہو جاتی ہے۔

آسٹریلیا میں کھیلے گئے ورلڈ کپ 2015 میں جب پاکستان کو انڈیا کا سامنا تھا تو عمران خان نے یہ تجویز پیش کی کہ پاکستان کو اپنی بیٹنگ لائن مضبوط کرنے کے لیے یونس خان سے اوپن کروانا چاہیے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مصباح الحق نے بھی یہی فیصلہ کیا اور یونس خان اننگز شروع ہونے سے پہلے ہی نئی گیند پر شارٹ پچ کے سامنے ڈھیر ہو چکے تھے۔ اس کے بعد باقی ماندہ پاکستانی اننگز دھند میں راہ ہی ڈھونڈتی رہ گئی۔

اس میں دو رائے نہیں کہ محمد حارث ایک لاجواب ٹیلنٹ ہیں اور مستقبل میں وہ پاکستان کے لیے اے بی ڈی ویلیئرز جیسا کردار بھی اداکر سکتے ہیں مگر یہ سمجھنا بھی نہایت ضروری ہے کہ ایک پریشر میچ میں انھیں نئی گیند پر ٹرینٹ بولٹ اور ٹم ساؤدی کے حربوں کے رحم و کرم پہ نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔

یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ کیوی بولر پاور پلے کے پہلے چار اوورز میں پیس اور لینتھ دونوں سے ہی ہاتھ تنگ رکھیں گے۔ ان کی میڈیم پیس چال بازیوں سے نمٹنے کے لیے بابر اعظم جیسے مشاق بلے باز کی ہی ضرورت ہو گی۔

آسٹریلوی وکٹوں پر یہ بحث لایعنی ہے کہ پاور پلے میں سٹرائیک ریٹ کیا رہا۔ یہاں اصل مقابلہ ہے ہی اننگز کے دوسرے حصے میں جہاں وسائل کا دانش مندانہ استعمال کسی ٹیم کو جیت کی راہ پر ڈالتا ہے۔

محمد حارث ہر طرح کی شاٹ کھیل سکتے ہیں اور لینتھ کو بھی اپنے فٹ ورک سے بخوبی استعمال کر سکتے ہیں مگر ان کی بہترین کرکٹ یہاں پیسرز کے خلاف ہی رہی ہے۔

لہذا یہاں انھیں ساؤتھی اور بولٹ کی آزمودہ کارمیڈیم پیس کے سامنے امتحان میں ڈالنا مناسب نہیں ہو گا۔ وہ فرگوسن کی پیس اور سوڈھی کی سپن کے خلاف زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

محمد حارث

،تصویر کا ذریعہGetty Images

درحقیقت پاکستان کو یہاں اپنے اوپنرز کی بجائے کیوی اوپنرز کے بارے میں دماغ لڑانے کی ضرورت ہے۔ فن ایلن اور ڈیون کانوے دو ایسے بلے باز ہیں کہ اگر شروع میں ان کے قدم نہ اکھاڑے جائیں تو یہ کسی بھی بولنگ لائن کو اٹھا کر میچ سے باہر پھینک سکتے ہیں۔

یہاں اصل لڑائی بھی شاہین آفریدی اور فن ایلن کے بیچ ہی ہو گی۔

شاہین آفریدی نئی گیند سے فل لینتھ ان سوئنگ یارکرز پھینک کر وکٹیں حاصل کرنے کی شہرت رکھتے ہیں جبکہ فِن ایلن کی شہرت آف سٹمپ سے باہر بھٹکتی لینتھ کو کراؤڈ کے بیچ اٹھا پھینکنا ہے۔ اس پر اگر انھیں پیس بھی مل جائے تو سونے پر سہاگہ۔

سپر 12 مرحلے کا افتتاحی میچ بھی سڈنی میں ہی کھیلا گیا تھا اور مچل سٹارک نے بھی وہی کرنے کی کوشش کی تھی جو شاہین آفریدی کی طرح اکثر لیفٹ آرم سیمرز پاور پلے میں کرتے ہیں۔

سوئنگ کی کھوج میں جب سٹارک آف سٹمپ سے ذرا باہر بھٹکتے پائے گئے تو ایلن نے پلک جھپکتے میں گیند کو باؤنڈری پار پھینک دیا۔

یہ بھی پڑھیے

شاہین شاہ آفریدی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شاہین شاہ آفریدی کے لیے یہ ٹورنامنٹ تاحال حسبِ توقع نہیں رہا اور وہ خود بھی سیمی فائنل میں اپنی شہرت سے انصاف کرنے کی کوشش کریں گے۔

بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں وہ انجری کے بعد اپنے مسائل سے کچھ سمجھوتہ کرتے ہوئے نظر آئے اور کامیاب بھی رہے۔

یہاں بھی انھیں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ آسٹریلیا کی اس ٹھنڈ میں اگر وہ پہلی ہی گیند 144 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھینکنے کے لیے تیار نہیں تو آف سٹمپ سے باہر لینتھ دے کر سوئنگ کھوجنے کی کوشش مت کریں۔

اگر شاہین کا سپیل پاکستان کو ابتدائی کامیابیاں دلوا پایا تو پھر ڈینی موریسن بھی سمجھ پائیں گے کہ بنگلہ دیش کے خلاف فتح کے بعد شاہین کی نظریں سیمی فائنل نہیں، صرف فائنل پر ہی کیوں تھیں۔