دولت اسلامیہ کے قبضے کے دوران موصل میں تباہ ہونے والی النوری مسجد کی بحالی: ’یہ ایسے ہے جیسے مردہ زندہ ہو گیا ہو‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, سیبیسٹین اوشر
- عہدہ, تجزیہ کار برائے مشرقِ وسطیٰ
عراق کے شہر موصل میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے قبضے کے بعد مسجدوں اور گرجا گھروں سمیت متعدد تاریخی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا لیکن اب یہ عمارتیں بحال کی جا رہیں اور انھیں لوگوں کے لیے کھولا جا رہا ہے۔
تاریخی عمارتوں کی مرمت کا منصوبہ یونیسکو نے نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی 2017 میں ہونے والی شکست کے ایک برس بعد شروع کیا تھا۔
ان عمارتوں کو دوبارہ کھولے جانے سے قبل موصل میں ایک تقریب بھی منعقد کی گئی تھِی جس میں موصل کی تمام مذہبی برادریوں نے شرکت کی تھی۔
سنہ 2014 میں موصل پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے پہلے اس شہر کو تمام مذہبی اور لسانی برادریوں کے پیار و محبت کے ساتھ رہنے کے سبب امن و برداشت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
اس مسلح گروہ نے موصل پر اپنے شدت پسند نظریات کو مسلط کیا تھا اور اقلیتوں اور اپنے مخالفین کو قتل بھی کیا تھا۔
تاہم تین برس بعد ہی امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج اور عراقی ریاستی فورسز نے نام نہاد دولتِ اسلامیہ کو شکست دی تھی اور موصل کو آزاد کروایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہUnesco, Getty
النوری مسجد وہی عبادت گاہ ہے جہاں سنہ 2014 میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر البغدادی نے ’خلافت‘ کا اعلان کیا تھا۔
موصل سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر علی البارودی کہتے ہیں کہ جب وہ سنہ 2017 کے موسمِ گرما میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی شکست کے بعد شہر میں داخل ہوئے تو یہاں نظر آنے والے مناظر انتہائی خوفناک تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے النوری مسجد کی پہچان سمجھے جانے والے سینکڑوں برس برس پرانے الحدبا مینار کو ایک طرف جھکا ہوا اور کھندڑ کی شکل میں دیکھا۔
وہ اپنی موصل آمد کی کہانی سُناتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ’یہ ہر طرف لاشیں تھیں، بیمار کر دینے والی بُو تھی اور اس شہر کا آسمان الحدبا مینار کی غیر موجودگی میں ادھورا نظر آ رہا تھا۔‘
’یہ وہ شہر نہیں تھا جسے ہم جانتے تھے، اس میں وہ تبدیلیاں آ چکی تھیں جن کے بارے میں شاید ہم نے کبھی ڈراؤنے خوابوں میں بھی نہیں سو چا تھا۔ میں اس کے بعد کچھ دنوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا، ایسا لگا جیسے میری آواز گُم ہو گئی ہو یا میرے دماغ نے کام کرنا بند کر دیا ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہUnesco, Getty
دریائے دجلہ کے مغربی کنارے پر واقع قدیم موصل شہر کا تقریباً 80 فیصد حصہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے تین سالہ قبضے کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔
یہاں صرف گرجا گھروں، مسجدوں یا پرانے مکانات کی مرمت کا کام نہیں تھا بلکہ یہاں سینکڑوں برس امن و بھائی چارے کے ساتھ مقیم رہنے والی برادریوں کے حوصلوں کو بھی دوبارہ ان کے پیروں پر کھڑا کرنا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاریخی عمارتوں کی بحالی کے اس منصوبے پر 115 ملین ڈالر کا بجٹ خرچ ہوا ہے اور اس بجٹ کا بڑا حصہ یونیسکو نے متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین سے حاصل کیا تھا۔
ڈمینیکن پادری اولیویئر پوکولن 200 برس پرانے گرجا گھر ’کنیسۃ االلاتین‘ (الساعہ کونوینٹ) کی بحالی کے کام کی نگرانِی کرنے موصل آئے ہیں۔
اس عمارت کی بحالی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ: ’ہم نے کام کی شروعات ایک ٹیم کو اکٹھا کرنے سے کی۔ ایک ایسی ٹیم جس میں تمام فرقوں کے لوگ شامل ہوں، مسیحی اور مسلمان سب مل کر کام کر رہے ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہUnesco
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پادری اولیویئر کہتے ہیں تمام برادریوں کو ایک ساتھ اکٹھا کرنا ایک چیلنج بھی تھا اور ایک فخر کی بات بھی تھی۔
’اگر آپ دوبارہ عمارتیں تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو اس سے قبل آپ کو لوگوں میں بھروسہ پیدا کرنا پڑتا ہے۔ اگر آپ لوگوں کو ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتے تو پھر ان عمارتوں کی دیواریں کھڑی کرنا بے معنی ہے کیونکہ یہ عمارتیں پھر دیگر برادریوں کے حملوں کا نشانہ بنیں گی۔‘
تاریخی عمارتوں کی بحالی کی نگراں دراصل ایک آرکیٹیکٹ ماریہ ریٹا ہیں جو کہ افغانستان میں یونیسکو کے لیے کام کر رہی تھیں لیکن پھر انھیں موصل بُلا لیا گیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ منصوبہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کلچر بھی ملازمتوں کے مواقع پیدا کر سکتا ہے، لوگوں کی صلاحیتیں بڑھا سکتا ہے اور انھیں کسی معنی خیز کام کا حصہ بننے پر آمادہ کر سکتا ہے۔‘
ان کو امید ہے کہ یہاں جاری بحالی کا کام لوگوں کی ثقافتی شناخت اور یادداشت کو بھی بحال کرنے میں کامیاب ہو گا۔
ماریہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں ایسا کرنا نوجوان نسل کے لیے انتہائی اہم ہے، وہ نسل جو کہ تنازعات اور سیاسی عدم استحکام کی صورتحال میں جی رہی ہے۔‘
یونیسکو کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت 1300 مقامی نوجوانوں کو تربیت دی گئی ہے اور چھ ہزار ملازمتیں پیدا کی گئی ہیں۔
موصل میں 100 سے زیادہ کلاس رومز بنائی گئی تھیں جہاں بیٹھے ہوئے نوجوان ملبے سے برآمد ہونے والی قدیم دستاویزات کو دوبارہ جوڑ رہے ہوتے تھے۔
جو انجینیئرز تاریخی عمارتوں کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں ان میں سے 30 فیصد خواتین ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUnesco
سنہ 2017 میں نام نہاد دولت اسلامیہ کے زیرِ تسلط موصل میں الطاہرہ چرچ کو شدید نقصان ہوا تھا اور اس کی چھت بھی گِر گئی تھی لیکن آٹھ برس بعد ایک بار پھر اس میں گھنٹیاں بج رہی ہیں۔
موصل میں الحدبا مینار، النوری مسجد اور الساعہ کونوینٹ کا مرمتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ یہاں لوگ بھی اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں جہاں ان کے آباؤ اجداد نے صدیاں گزاری تھیں۔
مقامی رہائشی مصطفیٰ کہتے ہیں کہ: ’میرا گھر سنہ 1864 میں تعمیر ہوا تھا مگر بدقسمتی سے یہ موصل کو آزاد کروانے کی لڑائی کے دوران جزوی طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ یہ گھر میرے اور میرے بچوں کے رہنے کے لیے مناسب نہیں رہا تھا۔‘
’اسی سبب میں اپنے والدین کے گھر منتقل ہو گیا تھا۔ میں اپنے گھر کو دوبارہ تعمیر ہوتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوں۔‘
عبداللہ کا خاندان بھی قدیم موصل شہر میں 19ویں صدی سے رہ رہا ہے اور ان کا یہاں اُون کی تجارت کا کاروبار تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جب یونیسکو نے میرا گھر دوبارہ تعمیر کر دیا تو میں یہاں لوٹ آیا۔ میں اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا کیونکہ یہاں ہونے والی تمام تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھ کر میں سجھا تھا کہ شاید میں یہاں کبھی دوبارہ نہیں آ سکوں گا۔‘
عراق کے لوگوں کو لگے زخم آج بھی بھر نہیں سکے ہیں، تاہم ایک قدیم شہر کی دوبارہ بحالی سے ان کے دل میں امید ضرور جاگی ہے کہ ان کا ملک وقت کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر اپنی اصل شکل اختیار کرلے گا۔
عبداللہ اپنے ارگرد بحال کی گئی عمارتوں کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ: ’انھیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کوئی مردہ دوبارہ زندہ ہو گیا ہو، یہ بہت خوبصورت منظر ہے کہ ہمارا شہر ایک بار پھر زندگی کی طرف لوٹ رہا ہے۔‘












