قورمے کی ’توہین‘ پر سرحد کے دونوں پار ناراضی: ’یہ ہے اصل بیرونی سازش‘

،تصویر کا ذریعہTasty.co
- مصنف, عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
’قورمے کی یہ ترکیب مجرمانہ ہے۔۔۔ چکن قورمہ بناتے ہوئے پالک اور چاول کیوں ڈال دیے بھئی؟
جب ’ٹیسٹی یوکے‘ نامی ایک برطانوی فوڈ چینل نے بریانی اور چکن تکہ کی طرح عالمی سطح پر مشہور پاکستانی اور انڈین ڈش چکن قورمہ کی ریسپی بتانے کی کوشش کی تو ان کی یہ ویڈیو کم از کم برصغیر کے خطے میں تو بُری طرح ناکام ثابت ہوئی۔
سرحد کے دونوں جانب انڈیا اور پاکستان میں چند کھانے اپنی ترکیب کے حوالے سے ’مقدس‘ درجہ رکھتے ہیں۔ چکن قورمہ بھی دونوں ملکوں میں یکساں مقبول ہے اور اسے اکثر شادیوں، فیملی ڈنر یا ریستورانوں میں کھایا جاتا ہے۔
تاہم دوسرے ممالک میں بھی اسے پسند کرنے والے کم نہیں جو اس کے ذائقے سے متاثر ہیں اور اسے نئے نئے انداز سے پیش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
یہ مغل دور کے مشہور کھانوں میں سے ہے جس کا حوالہ آگرہ کے تاج محل کی رونمائی کی دعوت سے لے کر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے شاہی دسترخوان تک ہر جگہ ملتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
چکن قورمے کی ’مجرمانہ‘ ریسپی میں آخر کیا تھا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ویڈیو تین دسمبر کو ’ٹیسٹی یوکے‘ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی جس کا عنوان تھا: ون پاٹ چکن قورمہ، یعنی اسے ایک ہی برتن میں بنانا مقصود تھا۔
ترکیب کے آغاز پر تیل کے چند قطروں (جو بظاہر نہ ہونے کے برابر ہیں) میں دو موٹے کٹے پیاز ڈال دیے جاتے ہیں اور ساتھ ہی لہسن کی دو جویں ڈال دی جاتی ہیں۔
دو کٹی چکن بریسٹ ڈال کر اسے پکایا جاتا ہے۔ پھر دو موٹے کٹے ٹماٹر، دو ٹیبل سپون قورمہ پیسٹ (جو نہ جانے کس بلا کا نام ہے) اور دو سو گرام باسمتی چاول (بغیر دھوئے یا بھگوئے) شامل کر دیے جاتے ہیں۔
پھر چکن سٹاک کا ایک کیوب، دو گلاس پانی اور 75 گرام کشمش ڈالی جاتی ہے۔ اُبال آنے تک اس پر ایلومینیئم فوئل چڑھا دی جاتی ہے اور اس کا پانی خشک ہونے پر اس میں مزید پانی ملایا جاتا ہے۔
اسے 10 منٹ مزید پکا کر 50 گرم پالک اور تھوڑی دہی ڈال کر تیار کر لیا جاتا ہے۔ اس میں دھنیا ڈال کر اسے چھوٹے برتن میں نکال کر کھانے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
’قورمے کی یہ ترکیب مجرمانہ ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مرغ قورمے کی اس ترکیب کو اب تک لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں مگر بیشتر نے اسے ناپسند کیا اور اس پر اعتراض اٹھائے ہیں۔
کئی صارفین کا خیال ہے کہ اس میں پالک اور چاول کا اضافہ غیر ضروری تھا اور حتمی شکل میں یہ روایتی قورمے سے بالکل مختلف ہے، مثلاً یہ بالکل خشک لگ رہا ہے جبکہ عموماً یہ شوربے یا گریوی سٹائل میں چاول یا روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔
سفید اُبلے چاولوں کے اوپر چکن قورمہ تو شاید سبھی کھاتے ہیں مگر لوگوں کو یہ کافی عجیب لگا کہ ٹیسٹی یو کے نے بغیر اُبالے باسمتی چاول پکتے قورمے میں ڈال دیے۔
صارف ابھیجیت مکھرجی کہتے ہیں کہ ’آپ نے انڈیا اور پاکستان کو متحد کر دیا۔ یہ قورمے کی تضحیک ہے۔‘
اسی طرح اقرہ کہتی ہیں کہ ’جو صرف ایک ٹویٹ سے پورے جنوبی ایشیا کو اشتعال دلانا چاہتا تھا، وہ کامیاب ہوگیا۔‘
رعنا کے خیال میں یہ قورمے سے زیادہ دیوانی ہانڈی کی ترکیب معلوم ہوتی ہے مگر جویریہ نے برطانوی راج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے صدیوں ہم پر حکمرانی کی اور اب اسے چکن قورمہ کہہ رہے ہیں؟ مہربانی فرما کر غلط معلومات نہ پھیلائیں۔‘
ڈینیئل سین نامی ایک صارف نے اس ریسپی کو ’بیرونی سازش‘ کہا تو اریحہ کے خیال میں یہ قورمے کی توہین ہے اور ’دیسی لوگ اسے پھیلنے نہیں دیں گے۔‘
ایک صارف نے یہاں تک لکھ دیا کہ ’اگر میں نے قورمے کی یہ ترکیب اپنی ماں کو دکھائی تو مجھے ڈر ہے انھیں دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
آصف راجہ نامی صارف نے اس ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا: ’چکن قورمہ کی اصل ہیئت اور ذائقہ کے خلاف سازش۔‘ ساتھ میں انھوں نے غصے والا ایموجی بھی بنایا۔
یہ بھی پڑھیے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
چکن قورمہ کی کئی قسمیں
جہاں ترکی، ایران اور آذربائیجان کے ملتے جلتے ناموں کی ڈش میں ’فرائیڈ‘ یعنی تیل میں تلا گوشت اور سبزیاں استعمال ہوتے ہیں، وہیں انڈین اور پاکستانی کھانوں میں کچھ الگ تکنیک اور اجزا استعمال ہوتے ہیں۔
یہ کہا جاتا ہے کہ مغل باورچیوں نے فارس کے کھانوں سے متاثر ہو کر گوشت کو پیاز، ٹماٹر اور دہی کے ساتھ ملا کر مرچ مصالحوں سے بھرپور ڈش تیار کی جو آج بھی اس خطے میں مقبول ہے۔
قورمے سے مراد دراصل تیز آنچ پر کھانا بنانے کا وہ طریقہ ہے جس میں گوشت پکا کر اس کا گاڑھا شوربا تیار کیا جاتا ہے۔
روایتی طور پر اس کی تیل کی بجائے گھی میں سلو کوکنگ کی جاتی ہے اور یہ دم دے کر یقینی بنایا جاتا ہے کہ سالن میں نمی برقرار رہے۔
اب چاہے آپ اس میں خشک میوے ڈالیں یا ملائیشیا میں اسے گولائی قورمے کے نام پر ناریل ملے دودھ میں بنائیں، وہ آپ کی مرضی ہے۔
مگر ریسپی میں رد و بدل کی صورت میں تنقید کے لیے تیار رہیں!










