ایف نائن پارک ریپ کیس: گھر سے اکیلے نکلنے والی خواتین خود کو کتنا محفوظ سمجھتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
اسلام آباد کی پولیس نے ایف نائن پارک میں خاتون کو گن پوائنٹ پر ریپ کرنے والے ملزمان کی سیف سٹی کیمروں کے ذریعے نشاندہی اور پھر فائرنگ کے تبادلے میں ان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
مگر ان اعلانات سے بظاہر وفاقی دارالحکومت کی خواتین میں طاری خوف فوری طور پر ختم نہیں ہو سکے گا۔
ایف آئی آر میں متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ ملزمان نے ریپ کے بعد انھیں کہا تھا کہ ’اس وقت پارک میں مت آیا کرو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بعض لوگوں نے لڑکی کی کردار کشی کی کہ وہ شام کے وقت پارک میں کیا کر رہی تھیں۔
ایف نائن پارک ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں ہر روز کئی لوگ چہل قدمی یا کچھ دیر سکون کا سانس لینے کی غرض سے آتے ہیں۔
یہاں آنے والوں میں ایک بڑی تعداد خواتین کی بھی ہوتی ہے لیکن وہ اکثر کسی نہ کسی کے ساتھ نظر آتی ہیں اور خواتین کو تفریحی مقامات پر کم ہی اکیلے دیکھا جاتا ہے۔
ایسے میں بی بی سی نے اسلام آباد کی رہائشی خواتین سے بات کرکے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ خواتین کا اکیلے یا شام کے بعد نکلنا معیوب کیوں سمجھا جاتا ہے؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مہوش فخر کو اسلام آباد میں رہتے ہوئے طویل عرصہ گزر چکا ہے اور وہ ان چند خواتین میں سے ہیں جو ایف نائن پارک میں فوٹوگرافی کی غرض سے آتی رہتی ہیں۔
مہوش نے کہا کہ یہاں آنے پر ذہن میں یہی چل رہا ہوتا ہے کہ خود کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ’میری کوشش ہوتی ہے کہ جو لوگ میری طرح ہر روز آتے ہیں ان کے ساتھ ساتھ رہوں۔ انھی ٹریکس پر جاؤں جہاں روز جاتی ہوں۔ تاکہ کسی ایمرجنسی کے کیس میں لوگوں کو پتا ہو کہ میں روز آتی ہوں۔‘
لیکن اکیلے آنے میں اور کسی کے ساتھ آنے میں کیا فرق ہے؟ مہوش نے کہا کہ ’اکیلے آنے میں یہ مسئلہ ہے کہ اگر کوئی غلط حرکت کرے تو آپ کا ذہن بالکل ماؤف ہو جاتا ہے۔ کسی کے ساتھ ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ ایک سے بھلے دو۔ اور آپ اچھے سے سامنا کرسکتے ہیں۔”
ان کے مطابق حالیہ ریپ کے واقعے سے وہ بہت ڈر گئی تھیں ’لیکن میں اپنا ڈر دور کرنے یہاں دوبارہ آئی تاہم ہم لوگ مغرب کے فوراً بعد چلے گئے۔‘
لیکن کیا کسی کا ساتھ ہونا ایسے واقعات سے حفاظت فراہم کرسکتا ہے؟ مہوش نے کہا کہ ’نہیں اس کی کوئی گارنٹی نہیں لیکن ساتھ ہی خواتین اکیلے بھی نہیں آسکتیں۔ کیونکہ لڑکا بے شک رات تین بجے تک گھومتا رہے لیکن لڑکی اگر مغرب کے بعد گھر پہنچے تو تمام انگلیاں اسی پر اٹھتی ہیں۔‘

’عورت کو سیکس کے بجائے ایک انسان کے طور پر دیکھیں‘
اسی طرح اسلام آباد کی رہائشی نشاط گھر کے نزدیک واک کرنے کے لیے نکلا کرتی تھیں لیکن اب وہ نہیں نکلتیں۔ جی ٹین سیکٹر کا یہ ٹریک سڑک کے کنارے بنا ہوا ہے اور یہاں پر دن میں بھی زیادہ تر مرد نظر آتے ہیں۔
اسی ٹریک پر واک کرتے ہوئے نشاط نے کہا کہ ’عورت کے ساتھ لوگوں نے ایک بات جوڑ دی ہے: چادر اور چار دیواری۔ بس، آپ نے چادر لے کر نکلنا ہے اگر نکلنا ہے تو، ورنہ چار دیواری تک محدود رہنا ہے۔ اگر آپ اس سے باہر آئیں گی تو آپ بُری عورت ہیں کیونکہ اگر آپ اکیلی نکلی ہیں تو کچھ غلط کرنے ہی نکلی ہیں۔ ساتھ محرم نہیں تو یہ آپ کی غلطی ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ان کا کام مغرب کے بعد ختم ہوتا ہے۔ ’اور آج کل سردیاں ہیں تو اتنی جلدی اندھیرا ہوجاتا ہے۔ تو ایسے میں کہاں جائیں؟ کیا گھر میں بند ہو کر رہ جائیں۔‘
نشاط نے کہا کہ حالیہ واقعات کے بعد ان کے گھر والے خاصے خوفزدہ ہیں اور انھیں اکیلے باہر جانے نہیں دیتے۔ ’حالانکہ ہم دو لوگ ساتھ ہوتے ہیں۔ میں اور میری بہن لیکن اسے بھی اکیلے گِنا جاتا ہے کیونکہ لڑکیاں ہیں۔‘
اس واکنگ ٹریک سے نکلنے سے پہلے جب نشاط سے پوچھا کہ اکیلے جاتے ہوئے دماغ میں کیا چل رہا ہوتا ہے؟ تو انھوں نے کہا کہ زیادہ تر خوف ہوتا ہے۔ ’خوف اس بات کا کہ کہیں کوئی تصویر تو نہیں نکال رہا، یا ویڈیو تو نہیں بنا رہا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بہت سے بچے عورت کو سیکس کے لیے استعمال ہونے والی چیز کے طور پر دیکھتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں۔ اگر عورت کو انسان کی طرح دیکھا جائے تو بہت فرق پڑسکتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ایف نائن پارک ریپ کیس: ’ہم اب بھی اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کیسے متاثرہ خاتون کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے‘
اس واکنگ ٹریک سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر اسلام آباد کی مشہور ایف ٹین مارکیٹ ہے جہاں ہر روز لاتعداد لوگ چائے پینے آتے ہیں۔ یہاں پر خواتین بہت کم آتی ہیں اور جو نظر آتی ہیں وہ زیادہ تر گھروالوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ ثنا طلحہٰ ان خواتین میں سے ایک ہیں جو اپنے خاوند کے بغیر کہیں نہیں جاتیں۔
ثنا نے کہا کہ ’میں یہاں کبھی اکیلے نہیں آؤں گی۔ ابھی بھی میرے شوہر بیٹھے ہیں تو مجھے اچھا لگ رہا ہے۔ میں کوشش یہی کرتی ہوں کہ کسی کے ساتھ آؤں۔ اگر شوہر نہ ہو تو بھائی اور اگر بھائی نہ ہو تو میں اپنے پانچ سالہ بیٹے کو باہر ساتھ لے جاتی ہوں کیونکہ اس کے ہونے سے خود کو محفوظ محسوس کرتی ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کسی مرد کے ساتھ آنے سے لوگ تنگ نہیں کرتے۔ آوازیں نہیں کستے اور عزت دیتے ہیں۔‘

’اکیلے نکلنا ایک چیلنج ہے‘
ایف نائن پارک میں آئے دیگر افراد سے بھی بات کر کے پوچھا کہ اکیلے نکلنے والی خواتین کو کن خطرات کا سامنا ہوتا ہے؟
یہاں آئی ایک لڑکی نے بتایا کہ ’بالکل یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ جب بھی ہم نکلیں تو کوئی نہ کوئی گاڑی یا موٹرسائیکل پیچھے لگ جاتی ہے۔ کچھ نہ ہو تو ہارن مارتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اکثر کام کے بعد دل کرتا ہے گھر سے نکلنے کو ’لیکن اگر کوئی مرد نہیں گھر میں تو نہیں نکلتے، گھر میں ہی بیٹھ جاتے ہیں۔‘
یہاں پر ایک لڑکی اپنے بھائیوں کے ساتھ آئی ہوئی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’میں اگر بھائیوں کے ساتھ آ رہی ہوں تو مجھے لگے گا میں محفوظ ہوں اور اگر ان کے بغیر آؤں تو محفوظ نہیں لگے گا کیونکہ یہاں ہر بہت کچھ سننے کو مل رہا ہے۔‘
ایک اور خاتون نے کہا کہ ’اکیلے ہی نہیں باہر اگر لڑکا لڑکی ساتھ ہیں تب بھی اندھیرے والی جگہوں پر نہ جائیں کیونکہ جرائم کی شرح بہت بڑھ چکی ہے۔‘
بارہ دری کے پاس کھڑے ایک لڑکے نے کہا کہ ’جو بھی آ رہا ہے یہاں وہ کسی نہ کسی کے ساتھ آئے تو اچھا رہتا ہے کیونکہ کوئی بھی حادثہ ہوسکتا ہے۔‘
جبکہ ایک اور لڑکے نے کہا کہ ’خواتین کے بھی اپنے حقوق ہیں، ہم ایک آزاد مملکت میں رہتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ خواتین کو ہم گھر میں ہے رکھیں۔ ہر کسی کا حق ہے باہر نکلنے کا۔‘
’جو گینگ ریپ ہوا ہے، اس میں خواتین کا قصور نہیں۔ قصور اس کا ہے جس نے کیا۔ بات یہ ہے کہ ہم معاشرے کو بدلیں۔ صرف خواتین کو نہیں بلکہ جو مرد کی سوچ ہے اسے بھی بدلیں۔‘










