قطر میں ایک ہم جنس پرست مداح کا فٹ بال ورلڈ کپ دیکھنے کا تجربہ کیسا رہا؟

قطر، فٹ بال، ورلڈ کپ

39 سالہ فِل طویل عرصے سے فٹ بال کے مداح رہے ہیں اور وہ مسلسل چوتھا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے قطر میں موجود ہیں۔

قطر نے فٹبال ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے ’ہر آنے والے کو خوش آمدید‘ کہا ہے مگر ایک ہم جنس پرست شخص کے طور پر ایسے ملک کا سفر کرنا کیسا ہوتا ہے جہاں ہم جنس تعلقات جرم ہیں؟

اس رپورٹ میں فِل ہمیں اپنے اس تجربے کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

22 نومبر، شام چھ بجے، ہیتھرو کا ٹرمینل فائیو 

سنہ 2018 کے ورلڈ کپ کے موقع پر روس جانے والے مداحوں سے ایئرپورٹ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا مگر اس مرتبہ یہ ایک عام دن لگ رہا تھا۔ 

میں جب سے لفظ ’گے‘ کا مطلب نہیں جانتا تھا، تب سے بھی انگلینڈ کا مداح ہوں۔ فٹ بال سے متعلق میری سب سے پرانی یاد سنہ 1990 کی ہے جب میں نے اپنے دادا دادی کے گھر پر ورلڈ کپ دیکھا اور مجھے انگلینڈ کے میچز کے لیے رات دیر تک جاگنے کی اجازت دی گئی تھی۔ 

میں جانتا ہوں کہ قطر جانے کے فیصلے سے میں انگلینڈ کے ہم جنس پرست مداحوں کی اقلیت میں شامل ہو جاتا ہوں پر اگر ہم واقعی سنجیدہ ہیں کہ کھیل ہر کسی کے لیے ہے تو میں قطر کے قابلِ مذمت ایل جی بی ٹی قوانین کو یہ اجازت نہیں دوں گا کہ وہ مجھے کھیل کا مزہ لینے سے روکیں۔

مجھے نہیں لگتا کہ مجھے ایک ہم جنس پرست شخص اور انگلینڈ کا مداح ہونے کے درمیان کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو گا۔ 

میں مانتا ہوں کہ مجھے استحقاق حاصل ہے۔ ایک غیر ملکی، مغربی شخص کے طور پر مجھے وہ تحفظ حاصل ہے جس کا اطلاق ایل جی بی ٹی کیو قطریوں پر نہیں ہوتا۔ اور میں ذہنی طور پر اسی تضاد کا شکار ہوں۔ 

قطر، فٹ بال، ورلڈ کپ

،تصویر کا ذریعہReuters

23 نومبر، دن تقریباً ڈھائی بجے، خلیفہ انٹرنیشنل سٹیڈیم 

میں جاپان اور جرمنی کے درمیان پہلے مقابلے کے بعد باہر نکل رہا ہوں۔ یہ میچ بہت زبردست تھا اور اس میں جاپان نے جرمنی کو شکست دی۔ 

مگر یہاں سب کچھ بہت عجیب سا ہے۔ سٹیڈیم کے اندر کی فضا بے جان محسوس ہوئی، جیسے کسی کو معلوم نہ ہو کہ اُنھوں نے کیا کرنا ہے۔ 

سکیورٹی اہلکار چیزوں کی کڑی نگرانی کرتے نظر آئے اور آپ کو ایک مخصوص جگہ پر اپنے پرچم اور بینرز کی پڑتال کروانی پڑتی ہے۔

جمعرات 24 نومبر، رات سوا ایک بجے

آج رات میٹرو میں میں نے ایک سائن دیکھا کہ فٹ بال ’انسانی حقوق کی تکریم کا ذریعہ ہے۔‘ مگر سوال ہے کہ ’کس کے‘ انسانی حقوق۔ 

سٹیڈیمز کے اندر جابجا سکیورٹی اہلکار نظر آتے ہیں جو میں نے آج تک کسی ٹورنامنٹ میں نہیں دیکھے۔ یہ عجیب بات ہے کیونکہ یہاں ماحول میں خطرے کی بو نہیں محسوس ہوتی۔ تو آخر اتنی سکیورٹی کس کے لیے؟ 

قطر، فٹ بال، ورلڈ کپ

،تصویر کا ذریعہPA Media

رات 8 بج کر 10 منٹ 

میں نے ایک شراب خانے میں نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے ایک گے مداح سے بات کی۔ میری طرح اُنھیں بھی یہاں ہونا عجیب لگ رہا تھا۔ 

آج میں نے ایک ڈیٹنگ ایپ بھی کھولی اور مجھے کئی سعودی مردوں کے پیغامات آئے۔ چنانچہ بھلے ہی قطری یہ ظاہر کریں کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہم جنس پرست زندگی وجود نہیں رکھتی مگر انٹرنیٹ پر یہ بھرپور انداز میں موجود ہے۔ 

26 نومبر کو رات 12 بج کر 15 منٹ، البیت سٹیڈیم 

میں نے ابھی ابھی انگلینڈ اور امریکہ کا میچ دیکھا۔ ہاف ٹائم میں میں نے انگلینڈ کے ایک مداح کو قوسِ قزح کے رنگوں والا ربن پہنے دیکھا اور پوچھا کہ کیا اُنھیں سٹیڈیم میں داخل ہونے میں کوئی پریشانی ہوئی؟ بظاہر تین سے چار لوگوں نے انھیں دیکھا تھا مگر پھر اُنھیں بتایا گیا کہ ’اوہ، اب ٹھیک ہے۔‘ 

میں نے امریکی جرسیاں پہنے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کی پشت پر قوسِ قزح کے رنگوں میں نمبرز لکھے ہوئے تھے۔ 

میں یہاں آنے سے لے کر اب تک ’فٹبال سب کے لیے‘ کے نعرے کے متعلق سوچ رہا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ مقامی لوگ واقعی اس پر یقین رکھتے ہیں، بس وہ گے مداحوں کو اس کا حصہ نہیں سمجھتے۔ ضروری نہیں کہ یہ تعصب کی وجہ سے ہی ہو، بلکہ یہ موضوع ہی اتنا ممنوعہ ہے کہ ہم نادیدہ ہو گئے ہیں۔ 

یہ ایک وجہ ہے جس کی بنا پر میرے ساتھی ایل جی بی ٹی مداح یہاں نہیں آئے ہیں کیونکہ اُنھیں قابلِ فہم وجوہات کی بنا پر لگتا ہے کہ وہ اس کا حصہ نہیں۔ 

قطر، فٹ بال، ورلڈ کپ

،تصویر کا ذریعہEPA

دوپہر ڈھائی بجے، الجنوب سٹیڈیم 

میں آسٹریلیا اور تیونس کے کھیل کے اختتام پر سٹیڈیم سے باہر نکل رہا ہوں۔ ہاف ٹائم میں تیونسی مداحوں کے ایک گروہ نے ایک فلسطینی پرچم لہرایا جس پر ’آزاد فلسطین‘ لکھا ہوا تھا۔ اس میں کچھ غلط نہیں مگر حکام کہتے ہیں کہ سیاست کو کھیل سے باہر رکھا جائے اور پھر اتنا بڑا پرچم سٹیڈیم میں موجود فلیگ پولیس اندر آنے دیتی ہے۔ 

رات تقریباً 10 بجے، دوحہ کے مضافات میں 

ہم نے میکسیکن، ارجنٹینیئن اور یورپی فینز کے ہمراہ دوحہ کے مرکز میں فرانس اور ڈنمارک کا میچ دیکھا اور اس پر بات کی کہ یہ کیسے دوسرے ورلڈ کپس سے مختلف ہے۔ فٹ بال کے تناظر سے دیکھیں تو قطر نے کئی ایسی چیزیں کی ہیں جو مجھے بہت پسند آئی ہیں اور فیلڈ میں بھی بہت سے مقابلے بہت اچھے رہے ہیں۔ 

مگر ’تفریق سے انکار‘ جیسے پیغامات کا دوغلا پن بار بار میرے ذہن میں آتا ہے۔ میں کچھ ایسے لوگوں سے ملا ہوں جنھوں نے مجھے کہا کہ ’آپ یہاں بالکل محفوظ ہیں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ گے ہیں؟‘ 

مجھے معلوم ہے کہ میرے پاس ہم جنس پرست قطریوں سے زیادہ استحقاق ہے مگر جب تک آپ ہماری جگہ موجود نہ ہوں اور وہ پریشانی، وہ سماجی تنہائی محسوس نہ کریں جو ہم کرتے ہیں، تب تک یہ بات سمجھانا مشکل ہو گا۔ 

قطر، فٹ بال، ورلڈ کپ

،تصویر کا ذریعہReuters

27 نومبر، صبح 5 بج کر 15 منٹ، حماد انٹرنیشنل ایئرپورٹ 

میں برطانیہ واپسی کی پرواز میں سوار ہونے والا ہوں۔ 

جب سنہ 2010 میں قطر کو ورلڈ کپ کی میزبانی عطا کی گئی تو اس حوالے سے شور مچا۔ مگر زیادہ شور ایل جی بی ٹی حقوق کے بجائے کرپشن پر تھا۔ شاید یورپ اور برطانیہ میں ترقی پسندی کا معیار یہی ہے۔ 

کیا مجھے یہاں کبھی خطرے کا احساس ہوا؟ نہیں۔ کیا کسی اور حالات میں ایسا ہوتا؟ نہیں۔ مگر کیا مجھے لگتا ہے کہ یہاں مقامی ایل جی بی ٹی افراد کے ساتھ جو ہوتا ہے، وہ جانتے ہوئے میں بدمزہ ہوا ہوں؟ ہاں۔ 

ہمیں کہا جاتا ہے کہ ’فٹبال پر توجہ دیں‘ مگر زندگی میں اس سے بھی زیادہ اہم چیزیں ہیں۔ 

*فِل نے اپنی کہانی ایک انکرپٹڈ میسجنگ ایپ پر وائس نوٹس کے ذریعے جوش پیری اور اشیتا ناگیش کو سنائی۔ ان کا مکمل نام شائع نہیں کیا جا رہا۔