ٹی ٹوئنٹی اب چہروں کی کرکٹ نہیں: سمیع چوہدری کا کالم

PSL

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

اگرچہ فرنچائز کرکٹ زیادہ تر توجہ بڑے ناموں اور مقبول چہروں پہ ہی مرکوز رکھتی ہے اور یوں اپنا بیشتر سرمایہ بھی شائقین کو ریجھانے میں جھونک دیتی ہے مگر کیا فرنچائز کرکٹ واقعی صرف مقبول چہروں کے بل پہ چلائی جا سکتی ہے؟

پی ایس ایل کا حالیہ ایڈیشن پہلے سے کہیں زیادہ آب و تاب سے شروع ہوا اور یہ لیگ دھیرے دھیرے ایک ایسے مستحکم برانڈ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے جو صرف کرکٹ کوالٹی ہی نہیں، بلکہ اپنے ریونیو کے اعتبار سے بھی ایک منافع بخش صنعت میں بدلنے کو ہے۔

پی ایس ایل کی بنیادی شناخت اس کے کھیل کا مسابقتی معیار ہے۔ پہلے میچ میں شاہین شاہ آفریدی کے دوسرے سپیل نے بازی پلٹی اور پھر زمان خان نے ہمیشہ کی طرح آخری اوور کے سنسنی خیز لمحات میں اعصاب کی جنگ جیت کر ایک رن کی فتح سے اپنے ٹائٹل کے دفاع کا آغاز کیا۔

دوسرے میچ میں ٹام کوہلر کیڈمور سب پہ حاوی ہو گئے اور دو رنز کے حقیر مارجن سے ایک اور سنسنی خیز فتح نے پی ایس ایل کی آمد کا ڈنکا بجا دیا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پی ایس ایل کی وہ مقبول ٹیم ہے کہ جسے ہر وینیو پہ ہوم کراؤڈ میسر آ جاتا ہے مگر سرفراز احمد تاحال اپنے حتمی گیارہ کھلاڑی ہی طے نہیں کر پائے۔

کراچی کنگز کا بھی المیہ کچھ ایسا ہی ہے کہ بڑے ناموں اور لیجنڈری بیک روم سٹاف دامن میں ہونے کے باوجود ابھی تک کچھ سمیٹ نہیں پا رہی۔

Multan Sultanz

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بلاشبہ فرنچائز کرکٹ ستاروں کے بل پہ ہی پھلتی پھولتی ہے مگر بسا اوقات کچھ فرنچائزز اپنا دامن اس قدر لبریز کر بیٹھتی ہیں کہ وہ اپنے ہی ستاروں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتی ہیں۔ جب تمام تر توجہ ستاروں کو ایڈجسٹ کرنے میں ہی بٹ جائے تو کھیل کے تکنیکی گوشے اکثر تشنۂ جواب رہ جاتے ہیں۔

جبکہ تکنیکی گوشوں پہ مضبوط گرفت ہی درحقیقت کسی فرنچائز کی کامیابی کی ضمانت ہو سکتی ہے۔ جو ڈریسنگ روم بڑے ناموں اور عظیم چہروں پہ مشتمل نظر آتے ہیں، وہ تاحال ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی مبادیات سے کُلی طور پہ شناسا دکھائی نہیں دیتے۔

یہاں کئی ایسے لیجنڈز موجود ہیں جو دو دہائیوں کا سفر طے کر چکنے کے باوجود ابھی تک ٹی ٹوئنٹی کو ون ڈے فارمیٹ کی ہی کوئی مختصر شکل سمجھتے چلے آ رہے ہیں۔

ون ڈے میں بہرحال ڈیٹا پہ انحصار اور مہارت کے اظہار میں ایک لطیف سا توازن برقرار رہتا ہے مگر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ڈیٹا اکثر عظیم اذہان کو بھی مات کر جاتا ہے۔

اگرچہ سیکڑوں مواقع میں ایک آدھ بار کوئی مارٹن گپٹل ایک ہی اوور میں تیس رنز بٹور کر تمام تر ڈیٹا کا منھ بھی چڑا سکتا ہے مگر وسیع تر زاویۂ نگاہ سے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ دراصل ڈیٹا کی حکمرانی کا اعلان ہے۔

جو ڈریسنگ روم ڈیٹا کے بل پہ جوڑے گئے ہیں، وہاں فتوحات اور تسلسل کا تناسب ان ڈریسنگ رومز سے کہیں زیادہ ہے جو محض بڑے بڑے ناموں اور فین کلبز کی خوشنودی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اکٹھے کیے گئے ہیں۔ ملتان سلطانز کو ہی دیکھ لیجیے۔

Lahore Qalandars

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ بھی پڑھیے

ڈرافٹ کے وقت سلطانز کا فاسٹ بولنگ ڈیپارٹمنٹ خاصا بے کیف سا دکھائی دیتا تھا اور پھر اکلوتے سٹار شاہنواز دھانی کی خدمات سے محرومی کے بعد تو خدشات زور پکڑ رہے تھے کہ یہی شعبہ سلطانز کا نازک پہلو ثابت ہو گا۔ مگر ان خدشات کے جواب ڈیٹا کی بنیاد پہ چُنے گئے، ستاروں سے محروم، فاسٹ بولنگ سکواڈ نے ثابت کیا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ محض چہروں کی بنیاد پہ نہیں کھیلی جا سکتی۔

عین ممکن ہے کہ کوئی مستقبل کا لیجنڈ ابھی بھی خود کو مستقل ریٹائرمنٹ پہ آمادہ کرنے سے معذور ہو اور متعلقہ فرنچائز بھی گوناگوں وجوہات کی بنا پہ اس کا سارا بوجھ اٹھانے کو دیدہ و دل فرشِ راہ کیے بیٹھی ہو مگر اس فراخ دلی کا خراج صرف الیون کے باقی ماندہ کھلاڑیوں ہی نہیں، خود فرنچائز کو بھی چُکانا پڑتا ہے۔

اگر فرنچائز مالکان ہر سیزن کے بعد پی سی بی سے ریونیو ماڈل پہ جھگڑوں اور سیزن کے بیچ اپنی شخصیتوں کو کرکٹ سے بھی زیادہ مقبول سمجھنے کے واہمے سے نکل پائیں تو یقیناً یہ سمجھ پانا ایسا بھی دشوار نہیں کہ ٹی ٹوئنٹی میں جیت کے لیے کرکٹ کے ساتھ ساتھ حساب کتاب پہ عبور بھی لازم ہے۔

یہاں فقط مہارت ہی کافی نہیں ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ اب چہروں کی کرکٹ نہیں ہے۔