انڈیا کے سابق ایم پی عتیق احمد: دو دن پہلے بیٹے کا انکاؤنٹر، پھر بھائی سمیت کیمرے کے سامنے قتل

،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے سابق رکن پارلیمان (ایم پی) عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کو 15 اپریل یعنی سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پریاگ راج میں تین لوگوں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔
اترپردیش کی حکومت نے اس قتل کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے تاہم ہفتے کی شام کو ہونے والے اس قتل کے بعد مقامی اور قومی سطح پر سیاست دانوں کی جانب سے مسلسل تنقید کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس میں ریاست کے امن و امان پر سوالات کھڑے کیے جا رہے ہیں۔
جس وقت یہ قتل ہوا اس وقت پولیس عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کو میڈیکل چیک اپ کے لیے ہسپتال لے جا رہی تھی اور وہ کیمرہ پر انٹرویو دے رہے تھے۔
عتیق احمد اور اشرف سابق ایم ایل اے راجو پال کے قتل کے سلسلے میں جیل میں تھے۔ انھیں راجو پال قتل کے گواہ امیش پال کے قتل کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے سابرمتی جیل سے پریاگ راج لایا گیا تھا۔
دو دن پہلے (جمعرات کو) عتیق احمد کے بیٹے اسد احمد اور ان کے ساتھ موجود ایک نوجوان غلام محمد کو اتر پردیش پولیس کی سپیشل ٹاسک فورس نے جھانسی میں ایک انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہANI
اتوار کی صبح سے ہی پریاگ راج کے کئی حصوں پر سناٹے کا راج ہے۔ مسلمانوں کے عید کے تہوار کے نزدیک ہونے پر جہاں پرانے شہر کے مرکزی بازار میں تل دھرنےکی جگہ نہیں ہوتی تھی، اس واقعے کے بعد اب ویرانی کے ڈیرے ہیں۔
شہر کی تقریباً ہر سڑک پر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ زیادہ تر حصوں میں انٹرنیٹ سروس بند ہے اور مقامی لوگ میڈیا سے بات کرنے یا قتل کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریزاں ہیں۔
گذشتہ ماہ سپریم کورٹ نے ان کی اس درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا تھا جس میں انھوں نے الزام لگایا تھا کہ پولیس سے ان کی جان کو خطرہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتر پردیش میں ہندو قوم پرست بی جے پی کی حکومت ہے اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے ان ہلاکتوں کو سکیورٹی کی خامی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ریاست اتر پردیش میں گذشتہ چھ سالوں میں مختلف الزامات کا سامنا کرنے والے 180 سے زائد افراد کو پولیس نے ہلاک کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہاں ’خوف کا ماحول‘ ہے جبکہ سوشل میڈیا پر اسے ’جنگل راج‘ کہا جا رہا ہے۔
سنیچر کی رات عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کو سر عام میڈیا اور پولیس کی موجودگی میں قتل کر دیا گیا۔ قتل کے وقت کس نے دیکھا اور کیا کہا؟ اس سے پہلے اور بعد میں کیا ہوا؟ ہم اسے ترتیب وار بتا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہANI
قتل سے ٹھیک پہلے کیا ہوا؟
جب عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف پر حملہ کیا گیا تو پولیس اہلکار انھیں میڈیکل چیک اپ کے لیے پریاگ راج کے موتی لال نہرو منڈسیہ ہسپتال (کالون ہسپتال) کے اندر لے جا رہے تھے۔
اس سے ذرا پہلے پولیس کی ایک جیپ ہسپتال کے باہر آ کر رکی۔ کچھ پولیس والے نیچے اتر کر پیچھے کی جانب آئے جبکہ کچھ پچھلی سیٹ سے باہر آئے۔
پہلے اشرف کو جیپ سے اتارا جاتا ہے، پھر عتیق احمد کو پولیس اہلکار کی مدد سے باہر نکالا جاتا ہے۔
اشرف نے کالی ٹی شرٹ اور پینٹ پہن رکھی تھی جبکہ عتیق احمد سفید کرتہ میں تھے۔

،تصویر کا ذریعہANI
میڈیا سے کیا بات کی؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جیپ سے اترنے کے 10 سیکنڈ کے اندر عتیق اور اشرف کو میڈیا والوں نے گھیر لیا۔ میڈیا والے دونوں بھائیوں سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ لوگ کچھ کہیں گے۔۔۔ کچھ کہنا چاہیں گے؟
اس پر اشرف نے پوچھا کہ ’کیا کہیں، کس بارے میں کیا کہوں؟‘
ایک میڈیا پرسن نے پوچھا کہ ’آپ آج جنازے میں نہیں گئے، تو اس بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟‘
ان کا مطلب عتیق احمد کے بیٹے کا جنازہ تھا جو اسی دن سخت پولیس سکیورٹی میں انجام پزیر ہوا تھا۔
اس سوال کے جواب میں عتیق احمد نے کہا کہ ’نہیں لے گئے تو نہیں گئے۔‘
اس کے بعد اشرف نے کہا کہ ’(اصل) بات یہ ہے کہ گڈو مسلم۔۔۔‘
اشرف نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ کیمرے میں نظر آرہا ہے کہ عتیق احمد کی کنپٹی پر پستول تانی گئی اور گولی چلائی گئی۔
اس کے بعد عتیق احمد اور ان کے بھائی کو نشانہ بناتے ہوئے کئی گولیاں اور چلیں اور دونوں بھائی موقع پر ہی گر گئے۔
ایک دوسری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں بھائیوں کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں اور وہ کیمرے کے سامنے میڈیا والوں سے بات کر رہے ہیں۔
جب وہ بات کر رہے ہوتے ہیں تو انھیں گولی مار دی جاتی ہے اور اس ویڈیو میں ایک حملہ آور شرٹ، نیلی جینز اور سفید جوتے پہنے عتیق اور اشرف پر فائرنگ کرتا نظر آ رہا ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ دونوں بھائی خون میں لت پت زمین پر گرے ہوئے ہیں۔
ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں نے افراتفری کے درمیان ہتھیار ڈال دیے اور پولیس والوں نے انھیں پکڑ لیا۔
اس ویڈیو میں ایک اور حملہ آور چیک شرٹ اور جینز میں دونوں ہاتھ اٹھائے نظر آ رہا ہے۔ اس واقعے سے متعلق کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر ہوئیں اور وائرل ہوئیں۔
اس واقعہ کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ سے تمام قسم کے شواہد اکٹھے کیے۔ ساتھ ہی حملہ آور کے زیر استعمال پستول بھی برآمد کر لی گئی ہے۔ عتیق اور اشرف پر فائرنگ کرنے والے حملہ آوروں کو بھی پکڑ لیا گیا ہے۔
غریب پروری سے اغوا، قتل، بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضے کے الزامات تک
ساٹھ سالہ عتیق احمد کی پیدائش پریاگ راج کے ایک غریب گھرانے میں ہوئی تھی جنھوں نے حالات کے باعث سکول چھوڑ دیا تھا تاہم کئی برس میں انھوں نے بہت زیادہ دولت اکٹھا کی، سیاسی سرپرستی اور طاقت کا لطف اٹھایا اور نہ صرف اپنے آبائی شہر میں بلکہ دور دراز تک بہت زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
1989 میں انھوں نے سیاست کا سفر شروع کیا اور اس دوران اپنے حلقے سے ریاستی اسمبلی کے لیے پانچ بار قانون ساز منتخب ہوئے، جبکہ 2004 میں پھول پور کے حلقےسے پارلیمنٹ کے لیے بھی منتخب ہوئے۔
وکرم سنگھ انھیں رابن ہڈ، ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ قسم کے کردار کے طور پر بیان کرتے ہیں جنھوں نے غریب لوگوں کی مدد کے لیے بے دریغ دولت خرچ کی۔
’وہ غریب خاندانوں میں شادی بیاہ کے اخراجات کی ادائیگی ، عید تہوار کے موقع پر مالی امداد اور غریب بچوں کو سکول یونیفارم اور کتابوں کو خریدنے میں مدد کے لیے پیش پیش رہتے تھے۔‘
تاہم جلد ہی ان کی شخصیت سے غریب پرور کی پرتیں اترتی گئیں جب احمد پر اغوا، قتل، بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضے کے الزامات سامنے آتے گئے۔
وکرم سنگھ کے مطابق ’احمد کے خلاف 100 سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہ مزید بہت سے معاملات میں ملوث ہے تاہم لوگ ان کے خلاف شکایت درج کرنے سے بہت ڈرتے ہیں۔‘
احمد کو دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ جیل میں رہنا پڑا تاہم انھوں نے اتر پردیش کے انڈر ورلڈ پر اپنا تسلط برقرار رکھا اور اپنے گروہ کے ارکان کی حفاظت یقینی بنائی۔
تاہم ریاست میں ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد احمد کا اثر و رسوخ کم ہونا شروع ہو گیا اسی دوران سماج وادی پارٹی نے ان سے تعلقات توڑ لیے۔
انھیں2017 میں پرتشدد حملوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور پھر مغربی ریاست گجرات کی ایک جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہUP POLICE HANDOUT
ان کے خلاف تازہ ترین کارروائی فروری میں اس دوران شروع ہوئی جب فوٹیج منظر عام پر آئی جس میں دکھایا گیا تھا کہ لوگوں کا ایک گروہ امیش پال کو قتل کر رہاہے۔ امیش پال 2005 میں علاقائی سیاسی جماعت بہوجن سماج پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک قانون ساز راجو پال کے قتل کے اہم گواہ تھے جن کے قتل کا الزام ان پر عائد کیا گیا تھا۔
فروری میں ہونے والے قتل کی ویڈیو پر پکڑے گئے واقعات کا سلسلہ شروع ہوا جس نے احمد اور اس کے خاندان کے کئی افراد اور حامیوں کو ہلاک کر دیا۔ احمد کی اہلیہ تاحال مفرور ہیں جبکہ ان کے دو بیٹے جیل میں تھے اور باقی دو بیٹے نابالغ ہونے کے باعث سرکاری تحفظ میں ہیں۔
’ایک قتل عتیق اور اشرف کا ہوا ہے اور دوسرا قانون کی حکمرانی کا‘

،تصویر کا ذریعہANI
انڈین ریاست اتر پردیش کی حکومت نے اس قتل کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے تاہم ہفتے کی شام کو ہونے والے اس قتل نے مقامی اور قومی سطح پر سیاست دانوں کی طرف سے مسلسل تنقید کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس میں ریاست کے امن و امان پر سوالات کھڑے کیے جا رہے ہیں۔
اس معاملے پر کپل سبل، جو پیشے کے اعتبار سے وکیل اور سیاستدان ہیں، نے کہا کہ اتر پردیش میں دو قتل ہوئے ہیں ، ایک قتل عتیق اور اشرف کا اور دوسرا قانون کی حکمرانی کا۔
اتر پردیش کی پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل وکرم سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ احمد کا قتل ہونا ناقابل قبول ہے۔زیر حراست ملزم کا مرنا بہت برا فعل ہے تو قتل اس سے بھی بدتر ہے۔
ایک 40 سالہ مسلمان شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے نے لوگوں کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔
’کسی کو میڈیا اور پولیس کے سامنے کیسے مارا جا سکتا ہے؟ میں مانتا ہوں کہ وہ سزا یافتہ مجرم تھا ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے اس طرح گولی مار دی جائے۔ قانون کی حکمرانی کا کیا ہوگا۔ہم میں سے بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ کیا اسے اس لیے مارا گیا کہ وہ مسلمان تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ سچ ہے یا نہیں، لیکن اس واقعے نے شہر کو خوف زدہ کر دیا ہے۔‘
ایودھیا کے قصبے ہنومان گڑھی مندر کے سربراہ مہنت راجو داس کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات کو فرقہ وارانہ تعصب کا رنگ نہیں دینا چاہیے۔
’مجرموں کا مذہب یا ذات نہیں ہوتی۔ میں تمام سیاست دانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جرائم کو ہندو مسلم تناژعے کی عینک سے نہ پرکھیں۔ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے اور ریاست میں امن و امان کی صورتحال پر سوال اٹھاتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہANI
پریاگ راج پولیس نے کیا کہا؟
قتل کے اس واقعے کے بارے میں پریاگ راج پولیس کمشنر رامت شرما نے کہا کہ 'انھیں لازمی طبی معائنے کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، حملہ کرنے والے تین لوگ تھے جو میڈیا پرسن بن کر آئے تھے۔ اس معاملے میں تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے، پکڑے جانے والوں کے پاس سے کچھ اسلحہ بھی ملا ہے، فائرنگ کے تبادلے میں عتیق احمد اور اس کے بھائی اشرف کی ہلاکت کے علاوہ ایک پولیس اہلکار بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا ہے۔'
انھوں نے عتیق اور اس کے بھائی اشرف کی ہلاکت کی تصدیق کی اور یہ بھی کہا کہ حملہ آور پکڑے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا: 'اس میں تین لوگوں کو پکڑا گیا ہے۔ ہم پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ اس میں عتیق اور اشرف کی موت ہوئی ہے۔ اے این آئی کے لکھنؤ کے ایک صحافی کو بھی گرنے سے چوٹ آئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک کانسٹیبل مان سنگھ بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا ہے۔'
اس دوران میڈیا والوں کی جانب سے حملہ آوروں کے حوالے سے کچھ سوالات کیے گئے تاہم انھوں نے یہ کہتے ہوئے کوئی اور معلومات بتانے سے انکار کر دیا کہ ابھی تفتیش جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہANI
عینی شاہد کا بیان
وجے مشرا جو کہ عتیق احمد کے وکیل تھے اور جنھوں نے اس واقعہ کو قریب سے دیکھا انھوں نے فائرنگ کا پورا واقعہ بتایا ہے۔
انھوں نے کہا: ’پولیس انھیں گاڑی سے باہر نکال کر میڈیکل چیک اپ کے لیے لے جا رہی تھی۔ جیسے ہی وہ میڈیکل کیمپس کے گیٹ سے دو قدم آگے بڑھے، گولی چلنے کی آواز آئی۔ میرے ساتھ ہی ایم ایل اے کو گولی لگی اور پھر ایم پی کو گولی لگی دونوں وہیں گر گئے اور پھر بھگدڑ مچ گئی۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پولیس نے بچانے کی کوشش نہیں کی، تو انھوں نے کہا، ’پولیس نے فائرنگ کرنے والوں کو فوراً پکڑ لیا۔‘
کیا پولیس نے کوئی گولی چلائی؟ اس سوال پر انھوں نے کہا کہ ’نہیں، کوئی نہیں دیکھ پایا کیونکہ بھگدڑ مچ گئی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہANI
سوشل میڈیا پر تنقید
سوشل میڈیا پر گذشتہ رات سے ہی عتیق احمد سر فہرست ٹرینڈ کر رہا ہے۔
اس سرعام قتل پر سوال اٹھاتے ہوئے اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے ٹوئٹر پر لکھا: ’اتر پردیش میں جرائم اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں اور مجرموں کے حوصلے بلند ہیں، اگر پولیس کی حفاظت کے درمیان سرعام گولی باری کرکے کسی کا قتل کیا جا سکتا ہے تو پھر عام لوگوں کی حفاظت کا کیا ہوگا؟ اس کی وجہ سے عوام میں خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر ایسا ماحول بنا رہے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
لوک سبھا ایم پی اور اے آئی ایم آئی ایم لیڈر اسد الدین اویسی نے بھی یوپی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ ایک ٹویٹ میں اویسی نے لکھا کہ ’انکاؤنٹر راج کا جشن منانے والے بھی اس قتل کے ذمہ دار ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
انسانی حقوق کے کارکن پولیس پر ماورائے عدالت قتل کا الزام لگاتے ہیں، جس کی ریاستی حکومت تردید کرتی ہے۔











