آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جنگوں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے کے لیے ارب پتیوں کے لیے پرتعیش بنکر
- مصنف, شین سوزوکی
- عہدہ, بی بی سی نیوز ، برازیل
دنیا بھر میں امرا کا طبقہ جائیداوں کی تعمیر کے سلسلے میں ایک نئے تصور کو اپنا رہی ہے جو ان ارب پتیوں کو جنگوں، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور دیگر عالمی خطرات کی وجہ سے ہونے والے ممکنہ قیامت سے بچانے کے لیے بنائے گئے ہیں جی ہاں یہاں بات ’لگژری بنکرز‘ کی ہو رہی ہے۔
عام زیر زمین پناہ گاہوں کے برعکس جہاں سب سے اہم چیز لوگوں کے تحفظ اور بقا کی ضمانت دینا ہے، یہ شعبہ قلعہ بند سہولیات میں سرمایہ کاری کرتا ہے جس میں آرام اور سہولیات کی طویل فہرست موجود ہو گی۔
ان پر تعیش بنکرز میں امراء کو سپا، ہاؤٹ کوزین اور پینورامک پروجیکشن ملتے ہیں جو باہر کی دنیا میں موجود اصل نظاروں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ سب چیزیں ہیں جو ان بنکرز کو پرکشش مقام بناتی ہیں۔
ان سہولیات نے ’دنیا کے خاتمے پر جان بچانے‘ کے تجربے کو کسی زیر زمین ریزورٹ میں پرتعیش چھٹیاں منانے جیسے احساس میں بدل دیا ہے۔
چند سال قبل میٹا کے مالک مارک زکربرگ نے ہوائی میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ایک بڑے کمپلیکس کی تعمیر کے اپنے منصوبے کا اعلان کرکے توجہ دنیا مبذول کرائی تھی۔
ایمیزون کے بانی جیف بیزوس نے بھی اسی طرح کی احتیاطی تدابیر میں سرمایہ کاری کی ہے۔
ان پر تعیش بنکز کی مارکیٹ عروج حاصل کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
حال ہی میں امریکی کمپنی سیف نے ایک ہزار سے زائد 'عالمی پناہ گاہیں' یا دنیا کے مختلف شہروں میں واقع زیر زمین بنکر بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی نیوز برازیل کے ساتھ ایک انٹرویو میں، کمپنی کے آپریشنز اور میڈیکل پریوینشن کے ڈائریکٹر ناؤمی کوربی نے کہا کہ یہ پروجیکٹ، جسے ایری کہتے ہیں، ایک انگریزی لفظ ہے جس کا مطلب ہے عقاب کا گھونسلا ہے۔ یہ خصوصی اراکین کے لیے ایک کلب کے طور پر کام کرتا ہے۔
انھوں نے وضاحت کی ہے کہ 'اس کی رکنیت صرف دعوت کے ذریعے دی جاتی ہے اور انتہائی منتخب لوگوں کے لیے ہے۔ میں بہت زیادہ تفصیلات شیئر نہیں کر سکتا، لیکن یہ سب کے لیے نہیں ہے۔'
بڑی تباہی سے بچنے کے لیے مخصوص یہ بنکر استعمال کرنے کے اخراجات منتخب جگہ کے سائز پر منحصر ہیں۔
اگر 185 مربع میٹر کی پناہ گاہ ہے تو اس پر تقریباً 20 لاکھ ڈالر لاگت آئے گی لیکن بڑی رہائش کے لیے قیمت دو کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
کوربی کے مطابق، تمام سہولیات میں لامحدود پانی، خوراک، پناہ گاہ اور طبی خدمات میّسر ہیں۔
’انھیں بجلی کے لیے گرڈ پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔‘
حفاظتی اقدامات اور ’اندرونی جیل‘
سیف کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ بنکرز کو زیر زمین طویل عرصے تک الگ تھلگ رہنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور ان میں سروس ٹیموں کے درمیان تنازعات کے حالات کے لیے حکمت عملی بنائی گئی تھی، بشمول ’اندرونی جیل‘۔
’یہاں ہمیشہ غیر متوقع یا ناقابل قبول رویّے کا امکان رہتا ہے۔ پناہ گاہوں میں کئی ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک جیل ہے جو ہر بنکر میں موجود ہے۔‘
کوربی کے مطابق، جیل ’کسی بھی اعلیٰ معیار کے حراستی مرکز کی طرح کام کرے گی۔‘
’یہ ایک سوٹ ہے جو لوگوں کو تنہائی میں رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، لیکن جہاں بات چیت اور رابطے ممکن ہیں ہے۔‘
کس کو حراست میں لیا جائے گا یہ فیصلہ صارف کی صوابدید پر ہوگا۔
سائز کے لحاظ سے بنکر کی قیمتیں دو کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
ایری بنکرز کو ایس سی آئی ایف ایس یعنی (سینسیٹو کمپارٹمنٹس انفارمیشن فیسیلٹی) کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے، یعنی ان کے پاس انتہائی سخت حفاظتی انتظامات ہیں، تعمراتی ڈھانچے الیکٹرانک نگرانی سے محفوظ بنائے گئے ہیں جیسے وائٹ ہاؤس کے کرائسس روم کو بنایا گیا ہے۔
کوربی کا اندازہ ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی چیلنجوں کے پیش نظر ان پرتعیش پناہ گاہوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں ’انسانیت ایک خطرناک راستے پر ہے، ڈیجیٹل طور پر قید اور مکمل طور پر قابو میں ہے، جس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔‘
’ایری خود مختار ہے، جہاں رازداری کا راج ہے، رسائی لامحدود ہے اور مکمل صوابدیدی اختیارات حاصل ہے۔ ‘