قتل، خودکشیاں اور حادثات کی ویڈیوز شائع کرنے والی ویب سائٹ جس کا ’ہر سیکنڈ نوجوانوں کے لیے خطرناک ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, آگنس کرافورڈ اور ٹونی سمتھ
- عہدہ, بی بی سی نیوز انوسٹیگیشن
متعدد غمزدہ خاندانوں نے برطانوی میڈیا کے نگراں ادارے آفکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے پیاروں کی موت کی ویڈیوز کی تشہیر کرنے والی ایک ’ناخوشگوار‘ ویب سائٹ کو بند کرے۔
وہ ویب سائٹ، جس کا ہم یہاں نام نہیں ظاہر کر رہے ہیں، کے 30 لاکھ سے زیادہ ممبران ہیں اور اس میں ہزاروں گرافک تصاویر اور عام ہونے والے قتل اور خودکشیوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند گروہوں کی طرف سے ہلاک کیے جانے والوں کی ویڈیوز بھی شامل ہیں۔
بی بی سی نے پتا چلایا ہے کہ ایسے لوگ بھی اس ویب سائٹ کے ممبر رہ چکے ہیں جو اپنے سکول کے دور میں فائرنگ اور قتل جیسے جرائم کا ارتکاب کر چکے ہیں۔
پیر سے برطانوی میڈیا کے نگراں ادارے آفکام کو غیر قانونی مواد پر کریک ڈاؤن کرنے سے متعلق نئے اختیارات تو مل گئے ہیں مگر شاید یہ اس ویب سائٹ کو بند کرنے کے لیے کافی نہ ہوں۔
ویب سائٹ کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ آفکام کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی درخواست پر انتہائی غور کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مائیک ہینز کے بھائی ڈیوڈ کو سنہ 2014 میں شام میں نام نہاد دولت اسلامیہ یعنی داعش کے ارکان نے قتل کر دیا تھا۔ اس قتل کی مکمل غیر سینسر شدہ ویڈیو اس سائٹ پر موجود ہے۔
مائیک ہینز کا کہنا ہے کہ یہ ویب سائٹ بہت ’ناخوشگوار‘ ہے اور اس پر موجود مواد ’خوفناک‘ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ عمر کی کوئی حد مؤثر انداز میں لاگو نہیں کی گئی ہے اور اسی وجہ سے وہ اس کے بچوں پر پڑنے والے اثرات سے متعلق فکر مند ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک نشے کی طرح ہے۔ جب ایک بار آپ اس پر آ جاتے ہیں تو پھر اس کی لت پڑ جاتی ہے۔ آپ اس میں پھر مزید آگے مواد دیکھنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے اور پھر نوبت زیادہ پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی طرف چلی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ڈیوڈ ہینز کی بیٹی بیتھنی کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز پر کیے گئے تبصرے بہت خوفناک ہیں۔ برسوں سے میں اس جیسی سائٹس کو ٹریک کرنے اور رپورٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ مجھے ڈر ہے کہ میرا بیٹا ایک دن اپنے دادا کی ویڈیو دیکھ لے گا۔‘
مائیک ہینز کا کہنا ہے کہ حکام کو اب کارروائی کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہر سیکنڈ جو ہم اس سائٹ کو بند کرنے میں تاخیر کرتے ہیں، ہم اپنے نوجوانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘
آفکام نے آن لائن سیفٹی ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد سے گذشتہ 18 مہینے ایسے قواعد کی تیاری میں گزارے ہیں جن پر پلیٹ فارمز کو عمل پیرا ہونا ہوگا۔
آفکام اب تحقیقات کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال شروع کر سکتا ہے اور غیر قانونی مواد رکھنے کی پاداش میں ان پلیٹ فارمز کو جرمانہ کر سکتا ہے۔
ویب سائٹ پر ویڈیوز کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں انتہا پسند گروپوں کی طرف سے ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کو زندہ جلایا جانا، لوگوں کو گاڑیوں اور ٹرینوں کے نیچے کچلنا شامل ہے۔
پُرتشدد اور تکلیف دہ ویڈیوز ہوتے ہوئے بھی سائٹ پر موجود تمام ویڈیوز کو غیر قانونی تصور نہیں کیا جائے گا۔
آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت برطانوی نگراں ادارہ آفکام اب غیر قانونی مواد کے خلاف کارروائی عمل میں لا سکتا ہے۔ نفرت انگیز یا غیرقانونی مواد میں دہشت گردی یا کالعدم انتہا پسند گروپوں کو فروغ دینے والی ویڈیوز بھی شامل ہیں۔
تمام ویب سائٹس کو اب یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ ان کے پاس غیر قانونی مواد کو ہٹانے کے لیے سسٹم موجود ہیں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ریگولیٹر پلیٹ فارم کو بلاک کرنے یا 18 ملین پاؤنڈ تک کے جرمانے عائد کرنے کے لیے عدالتی احکامات حاصل کر سکتا ہے۔
موسم گرما سے تمام سائٹس پر عمر کی حد لاگو کرنے کا بھی ایک مضبوط نظام متعارف کرنا لازمی ہوگا تاکہ بچوں کو مختلف مواد تک رسائی سے روکا جا سکے۔
لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ قانون سازی اتنی مضبوط نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ آفکام کے لیے ان سائٹس پر گہری نظر رکھنا بھی اتنا آسان نہیں ہے۔
ماہرین کو تشویش ہے کہ اس طرح کے مواد کو دیکھنا انتہائی تشدد کو بھی ایک معمول کی سرگرمی بنا دیتا ہے اور نوجوانوں کو مزید بنیاد پرستی کی طرف لے جاتا ہے۔
سائٹ پر صارف کے ناموں کے بارے میں بی بی سی کی تحقیق کے نتیجے میں متعدد معروف آن لائن ’انتہا پسندوں‘ کی بھی نشاندہی کی ہے، جن میں دو ایسے افراد بھی شامل ہیں جو حال ہی میں امریکہ میں سکول پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث تھے۔
گذشتہ دسمبر میں 15 سالہ نٹالی روپنو نے وسکونسن کے علاقے میڈیسن میں اپنے قدامت پسند کرسچن سکول میں دو افراد کو ہلاک جبکہ چھ کو زخمی کیا ہے۔
اور جنوری میں 17 برس کے سولومن ہینڈرسن نے ٹینیسی میں ایک سکول کے کیفے ٹیریا میں فائرنگ کی، جس میں ایک طالب علم کی ہلاکت ہوئی تھی۔
یہ دونوں ویب سائٹ کے ممبر تھے، جو سکول شوٹنگ سے متعلق ویڈیوز کے لیے خاص شہرت رکھتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانیہ میں یہ بات مشہور ہے کہ 19 برس کے نکولس پراسپر نے اپنی ماں اور دو بہن بھائیوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ وہ بھی اس سائٹ کا ممبر تھا۔
جب انھیں گذشتہ برس ستمبر میں پولیس نے گرفتار کیا تھا تو قریب سے ایک شاٹ گن اور 30 کارتوس ملے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ’لوٹن‘ میں اپنے پرانے پرائمری سکول پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
نکولس کو بڑے پیمانے پر فائرنگ میں دلچسپی تھی۔ اس میں سنہ 1999 کا کولمبائن ہائی سکول قتل عام بھی ان کی دلچسپی کا مرکز تھا، جو کہ امریکہ میں سب سے زیادہ بدنام زمانہ قتل عام تھا۔
یونیورسٹی آف باتھ کی ڈاکٹر اولیویا براؤن جو بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کے رجحانات پر گہری نظر رکھتی ہیں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی ویڈیوز خاص طور پر سکول میں فائرنگ جیسے واقعات کو بار بار دیکھنے سے صارفین میں حساسیت ختم ہو جاتی ہے یعنی وہ بے حس ہو جاتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ایسے میں جو ناممکن لگتا ہے وہی عین ممکن لگنا شروع ہو جاتا ہے۔
یہ سائٹ متعدد غمزدہ خاندانوں کے لیے بھی انتہائی تکلیف دہ ہے۔
پیراشوٹ پہن کر اونچے مقامات سے چھلانگ لگانے والے کھلاڑی نیتھن اوڈنسن کی ایک ویڈیو کو سائٹ کے منتظمین نے ویب سائٹ کے ’فالنگ‘ کیٹگری میں رکھا ہے۔
کیمبرج شائر سے تعلق رکھنے والے 33 برس کے نوجوان ایک تجربہ کار سکائی ڈائیور تھا لیکن گذشتہ سال تھائی لینڈ کے شہر ’پٹایہ‘ میں ایک 29 منزلہ ٹاور سے چھلانگ لگانے کے بعد ان کا پیراشوٹ نہ کھل سکا، جس سے ان کی موت واقع ہو جائے۔
ایک تھائی شخص اس وقت اس واقعے کی ویڈیو بنا رہا تھا جو حادثے میں بدل گیا۔ اس نے یہ ویڈیو پہلے مقامی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔ نیتھن کے بھائی ایڈ ہیریسن نے کہا کہ ’نیتھن خاندان کا ایک ایسا فرد تھا جس سے ہم سب کو بہت پیار تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ حقیقت میں مجھے حیرت انگیز لگا کہ لوگ اس ویڈیو کو شیئر کرنے کے لیے اس حد تک بے وقوفی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔‘
ایڈ نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ فورم کے یہ ممبران اپنے خاندان کے افراد کے بارے میں ایسے خیالات رکھتے ہوں گے۔‘
سائٹ پر ایک اور ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایان پرائس جو ستمبر 2023 میں دو بڑے کتوں کے حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے بعد میں ہسپتال میں ان کی موت واقع ہو گئی۔
آفکام کا کہنا ہے کہ اب سے ان پلیٹ فارمز کے پاس غیر قانونی مواد کو ہٹانے کے لیے سسٹم کا ہونا از حد ضروری ہے۔
میڈیا کے نگران ادارے کے مطابق ہم اب خلاف ورزی کرنے والے پلیٹ فارم کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائیں گے۔
آفکام کے لیے چیلنج یہ ہے کہ ’ڈیتھ ویب سائٹ‘ امریکہ سے چلائی جاتی ہے اور اس کے مالک اور منتظمین گمنام رہتے ہیں۔
آفکام نے ہمیں بتایا کہ ’یہ مواد انتہائی پریشان کن ہے‘۔
ایک بیان میں ویب سائٹ کی ایڈمن ٹیم نے کہا کہ اسے ’معمول کے طور پر بہت سی سرکاری ایجنسیوں اور صنعت کے نگراں اداروں کی طرف سے شکایات موصول ہوتی ہیں‘۔
ویب سائٹ کے مطابق ’آفکام کی کسی بھی رپورٹ یا شکایت کو ہم سنجیدگی سے لیں گے۔











