سیلاب زدہ سری لنکا میں پاکستان پر زائد المیعاد امدادی سامان بھیجنے کے الزامات اور وضاحتیں

پاکستان، سری لنکا

،تصویر کا ذریعہPakistan High Commission/Pakistan Navy

سری لنکا میں بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایسے میں پاکستان نے بھی سری لنکا کے لیے امدادی سامان کی کھیپ بھیجی ہے، لیکن اس معاملے پرایک تنازع سامنے آیا ہے۔

سوشل میڈیا پر چند روز سے کچھ تصاویر وائرل ہیں جن میں پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے امدادی سامان کے تھیلوں پر درج تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے سیلاب سے متاثرہ سری لنکن متاثرین کو زائد المیعاد خوراک پہنچائی۔

بعض انڈین نیوز ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ پاکستانی سفارت خانے نے خود سری لنکا بھیجے گئے سامان کی تصاویر شیئر کی ہیں جس میں درج ہے کہ اس خوراک کی میعاد سنہ 2024 میں ختم ہو چکی ہے۔

پاکستان کا الزام ہے کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف ’جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور یہ پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش‘ ہے۔

انڈین میڈیا کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے سنہ 2022 میں افغانستان میں آنے والے زلزلے کے دوران بھی ناقص خوراک بھجوائی تھی۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان رواں برس مئی میں ہونے والی لڑائی کے بعد دونوں ملک کے تعلقات انتہائی نچلی سطح پر ہیں۔ کھیل کا میدان ہو یا سفارتی معاملات، دونوں ممالک ایک دوسرے کو نیچا دکھانے سے گریز نہیں کرتے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر بھی دونوں ممالک کے صارفین کے درمیان ایک لڑائی چھڑ جاتی ہے۔

پاکستان ہائی کمیشن، سری لنکا

،تصویر کا ذریعہPakistan High Commission

،تصویر کا کیپشنبعض انڈین نیوز ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ پاکستان نے خود سری لنکا بھیجے گئے سامان کی تصاویر شیئر کی ہیں جس میں درج ہے کہ اس خوراک کی میعاد سنہ 2024 میں ختم ہو چکی ہے

سری لنکا میں بارش اور سیلاب سے تباہی

گذشتہ ہفتے سری لنکا میں سمندری طوفان دتوا نے تباہی مچا دی تھی۔ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے اب تک 460 افراد ہلاک اور سینکڑوں لاپتا ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے ملک میں 30 ہزار سے زائد گھر تباہ ہوئے ہیں۔

سیلاب کی وجہ سے 10 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ سری لنکا کے صدر کمارا دسانائیکے نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر رکھی ہے۔

سری لنکا کی فوج، متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے ہیلی کاپٹرز کا استعمال کر رہی ہے جبکہ مختلف حکومتوں کی جانب سے سری لنکا کے لیے امدادی سامان بھیجنے کا سلسلہ بھی جاری ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

سری لنکا میں پاکستانی ہائی کمیشن اور پاکستان نیوی کے ایکس ہینڈلز سے ایسی کئی تصاویر سامنے آ رہی ہیں، جن میں پاکستان کی جانب سے سری لنکا بھیجے جانے والا امدادی سامان سیلاب متاثرین کو پہنچایا جا رہا ہے۔

پاکستان نیوی کے مطابق اس کے اہلکاروں نے سیلاب میں پھنسے کئی افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا ہے۔

پیر کو پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں بتایا کہ پاکستان نے سری لنکا کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 200 ٹن پر مشتمل سمندری راستے سے سری لنکا روانہ کر دی گئی ہے۔

بدھ کو پاکستان ہائی کمیشن سری لنکا نے بھی ایکس پر جاری اپنی پوسٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان نے خصوصی ریسکیو ٹیمز بھی سری لنکا بھجوائی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان نیوی کا کہنا ہے کہ اُس کے اہلکار سری لنکا میں سیلاب سے متاثرہ دُور دراز علاقوں میں امداد پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس سلسلے میں مشکل اور دُشوار گزار علاقوں میں ایئر ڈراپ اور نیوی کے اہلکاروں کے ذریعے متاثرہ افراد تک خوراک پہنچائی جا رہی ہے۔

پاکستان، سری لنکا

،تصویر کا ذریعہPakistan High Commission

پیلے تھیلے اور زائد المیعاد خوراک کا چرچا

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایسے میں چند روز سے پاکستان کی جانب سے سری لنکن عوام کو بھجوائے جانے والے پیلے تھیلوں کا بھی چرچا ہے۔

بعض سوشل میڈیا صارفین نے سوال اُٹھایا کہ پاکستان کی جانب سے سری لنکن سیلاب متاثرین کو زائد المیعاد اشیا بھجوائی گئیں۔

یہ اعتراض زیادہ تر انڈین اکاؤنٹس سے اُٹھایا جا رہا ہے جس میں یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھجوائے گئے چاولوں کے تھیلوں کے استعمال کی مدت 2024 میں ہی ختم ہو چکی تھی۔

شیو ارور نے پاکستان ہائی کمیشن سری لنکا کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم نے نوٹس کیا ہے کہ آپ سری لنکا میں سیلاب متاثرین کے لیے ایکسپائرڈ سامان بھجوا رہے ہیں۔‘

انکت بھروش نامی صارف نے لکھا کہ اگر پاکستان اسے مدد کہتا ہے تو پھر اسے اپنی ترجیحات کو دیکھنا چاہیے۔

انڈین صارفین کے دعووں پر ردعمل دیتے ہوئے محسن علی نامی صارف نے لکھا کہ ’پاکستان کی جانب سے خشک خوراک، دوبارہ استعمال کے قابل تھیلوں میں تقسیم کی گئی۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اس طرح کے قابل استعمال تھیلے آسانی سے مقامی اجناس کی منڈیوں سے مل جاتے ہیں۔ محسن علی کا کہنا تھا کہ ’افسوس ہے کہ ایک انسانی بحران میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جا رہی ہے۔‘

پاکستان نیوی

،تصویر کا ذریعہPakistan Navy

’پیلے تھیلوں میں چاول تو تھے ہی نہیں‘

سری لنکا میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب جاری کیے گئے بیان میں زائد المیعاد اشیا سری لنکا بھجوانے کے الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

سری لنکا میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ترجمان عدیل ستار کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جن پیلے تھیلوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، ان میں چاول تو تھے ہی نہیں۔‘

اپنے بیان میں عدیل ستار کا کہنا تھا کہ ’ان تھیلوں میں بنیادی اشیائے ضروریہ تھیں، جن میں صاف پانی، بسکٹس اور دُودھ سمیت دیگر اشیا شامل تھیں۔‘

عدیل ستار کا کہنا تھا کہ ’یہ اشیا کولمبو سے خریدی گئیں اور جن پیلے تھیلوں میں انھیں پیک کیا گیا، وہ پاکستان سے لائے گئے تھے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نیوی کی ٹیم جو پہلے سے شیڈول مشترکہ مشقوں کے لیے سری لنکا میں موجود تھی، اس کے ذریعے یہ امداد تقسیم کی گئی۔‘

عدیل ستار کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نیوی کا بحری جہاز اور ہیلی کاپٹرز جو جنگی مشقوں کے لیے آئے تھے، اب وہ سری لنکا میں امدادی سرگرمیوں میں شامل ہو گئے ہیں۔‘