پاکستانی اور انڈین افواج کی سری لنکا میں ریسکیو کوششوں میں شرکت اور اسلام آباد کا نئی دہلی پر امدادی سامان کی فلائٹ کو کلیئرنس نہ دینے کا الزام

،تصویر کا ذریعہX@dgprPaknavy
سری لنکا میں آنے والے سمندری طوفان کی تباہ کاریوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے اور متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے ریلیف اینڈ ریسکیو مشن جاری ہے۔ طوفان کے نتیجے میں اب تک 460 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں لاپتہ ہیں۔
اس قدرتی آفت کے دوران جہاں جنوبی ایشیا کے دو حریف ممالک پاکستان اور انڈیا کا سری لنکا میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لینا ’خوش آئند‘ قرار دیا جا رہا ہے وہیں اسلام آباد نے انڈیا پر سری لنکا بھیجی جانے والی امداد روکنے کا الزام لگایا ہے۔ نئی دہلی نے اسے ’انڈیا مخالف گمراہ کن معلومات پھیلانے کی ایک اور کوشش‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے منگل کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’انڈیا پاکستان کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سری لنکا بھیجی جانے والی امداد کو مسلسل روک رہا ہے۔ سری لنکا کے لیے پاکستانی امداد لے جانے والا خصوصی طیارہ انڈیا سے اس آپریشن میں حصہ لینے اور پرواز کے لیے منظوری کے انتظار میں اب تک 60 گھنٹے سے زائد کی تاخیر کا شکار ہے۔‘
دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’انڈیا کی جانب سے گزشتہ رات 48 گھنٹے بعد دی گئی جزوی فلائٹ کلیئرنس عملی طور پر ناقابلِ عمل تھی۔ یہ صرف چند گھنٹوں کے لیے تھی اور واپسی کی پرواز کے لیے کوئی منظوری بھی نہیں دی گئی تھی، جس کی وجہ سے سری لنکا کے مُشکل میں پھنسے لوگوں کے لیے اس ہنگامی امدادی مشن میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی۔‘
انڈیا نے پاکستانی وزارت خارجہ کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ 'انڈیا مخالف گمراہ کن معلومات پھیلانے کی ایک اور کوشش ہے۔'
پاکستان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان انڈین وزارت خارجہ نے کہا کہ یکم دسمبر کو قریب دن 1 بجے انڈین ہائی کمیشن کو پاکستانی طیارے کے لیے اوورفلائٹ کلیئرنس کی درخواست موصول ہوئی تھی۔ ’انڈین حکومت نے اسی دن تیزی سے درخواست منظور کی اور یکم دسمبر کو قریب ساڑھے پانچ بجے اوورفلائٹ کی اجازت دی۔‘
اس سے قبل پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ سری لنکا میں سیلاب متاثرین کے لیے امداد اور ماہرین کی ٹیم کارگو جہاز کے ذریعے سری لنکا جانا چاہتی تھی لیکن انڈیا نے اُسے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
یاد رہے کہ رواں سال کے تنازع کے بعد سے دونوں ممالک کی فضائی حدود ایک دوسرے کے لیے تاحال بند ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن اس سب کے برعکس سوشل میڈیا پر ریلیف آپریشنز میں پاکستان اور انڈین افواج کی شمولیت کو مثبت اقدام قرار دیا گیا اور کئی افراد کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ چھوٹا اقدام ہے لیکن اس کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
’ایک مقصد نے دشمنوں کو اکٹھا کر دیا‘
’سری لنکا میں پاکستانی اور انڈین ہیلی کاپٹر ریسکیو کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایک مقصد نے پرانے دشمنوں کو اکٹھا کر دیا، شکریہ بھائیوں۔‘
یہ پیغام سری لنکا کے شانے پریا وکرما کا ہے جو اپنے ملک میں ایک سمندری طوفان کے بعد دونوں ممالک کی افواج کی ریسکیو خدمات کا ذکر کرتے ہوئے شکریہ ادا کرنے والوں میں شامل ہیں۔
ان کا اشارہ یقیناً پاکستان اور انڈیا کے درمیان دیرینہ اختلافات کے ساتھ ساتھ حال میں اس چار روزہ تنازع کی جانب بھی ہے جس کی بازگشت اب تک سنائی دے رہی ہے۔
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹرز کی مدد سے سری لنکا میں سیلاب میں پھنسے افراد کو نکالا جا رہا ہے جبکہ پاکستان نے متاثرہ افراد کے لیے امدادی بھی بھجوائی ہے۔
انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے مطابق سری لنکا میں انڈین فضائیہ اور نیوی بھی ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہX@SPriyawickrama
سری لنکا میں کیا ہوا تھا؟
سری لنکا میں 28 نومبر کو آنے والے سمندری طوفان ’سائیکلون دیتوا‘ کے بعد ایمرجنسی نافذ ہے اور ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ بجلی اور پانی سے محروم ہے۔
سری لنکا میں سمندری طوفان اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں اب تک 460 افراد ہلاک اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ افراد سرکاری شیلٹرز میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
سری لنکا کے صدر کمارا ڈسینائکے نے کہا ہے کہ یہ ملکی تاریخ کی سب سے مشکل قدرتی آفت ہے اور ان کے مطابق تباہی اتنی شدید ہے کہ تعمیر نو کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان بحریہ کی امدادی کارروائیاں
پاکستان اور انڈیا کے حکام کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے لیے بحریہ کے اہلکار اور ہیلی کاپٹرز حصہ لے رہے ہیں۔
پاکستان کی افواج کے مطابق سری لنکا میں سیلاب کے بعد پاکستان کا ریلیف مشن سری لنکا پہنچا ہے۔
پاکستان نیوی کا بحری جہاز پی این ایس سیف سری لنکا کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہے اور متاثرہ علاقے کوتیکاواتا میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر نے بھی حصہ لیا جبکہ پاکستان نے امدادی سامان بھی سری لنکا بھجوایا ہے۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ماہرین کی 45 رکنی ریسکیو ٹیم سری لنکا روانہ کی جائے گی جس کے ساتھ موبائل ہسپتال کا نظام، کشتیاں، خیمے، کمبل، کھانے کے پارسل اور ادویات بھی ہوں گی۔

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN NAVY
’انڈین ہیلی کاپٹروں نے پاکستانی شہریوں کو بھی بچایا‘
انڈیا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈیا نے امدادی سامان کے بھرے بحری جہاز اور تین امدادی پروازیں سری لنکا روانہ کیں جبکہ میڈیکل ٹیم اور سرچ اینڈ ریسکیو کے ماہرین کی ٹیم بپی سری لنکا بھجوائی ہیں۔
انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق انڈیا کے طیارہ برادار بحری بیڑے آئی این ایس وکرانت سے انڈین ایئر فورس کے ایم ائی 17 ہیلی کاپٹرز متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو نکالنے کے مشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سری لنکن کے مقامی افراد کے علاوہ برطانیہ، جرمنی، ایران، آسٹریلیا اور پاکستان سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہx.com@IAF_MCC
سوشل میڈیا پر چرچا
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دونوں ممالک کی افواج کا سری لنکا میں امدادی آپریشن میں شمولیت کو کئی افراد نے بھی مثبت قرار دیا ہے۔
ایکس پر ایک صارف سیہان مادوا کا کہنا ہے کہ ’اس مشکل وقت میں پاکستان اور انڈیا ملک کر سری لنکا کی مدد کر رہے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’دونوں ممالک کاانسانیت کی مدد پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ۔‘
اسی طرح سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پاکستان کی مدد پر شکریہ ادا کیا۔ ایکس پر جاری پوسٹ پر انھوں نے کہ ’پاکستان کی مدد دونوں ممالک کے درمیان مضبوط رشتے کو ظاہر کرتی ہے۔ ہم اس دوستی اور تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک صارف شین پرییاوک کراما نے لکھا کہ ’انڈیا نے ایک بار پھر ظاہر کیا ہے کہ وہ خطے میں ہر ایک کی مدد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان اور انڈیا کے مابین تاریخی تناؤ کے باوجود انڈیا نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سری لنکا کے لیے پاکستان کی امدادی پرواز گزرنے کی اجازت دی ہے۔ ہم سری لنکز کے لیے یہ بہت بڑی بات ہے۔‘
ایکس پر اپنی پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ’انڈیا اور پاکستان آپ نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ مشکل اوقات میں وہ بہترین مدگار ہیں جن پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔‘













