سعودی عرب میں شراب پر عائد پابندیوں میں نرمی، مزید دو شہروں میں شراب خانے کھولنے کا منصوبہ

Saudi women take photographs of their non-alcoholic draft beer at the A12 cafe in the capital Riyadh on October 24, 2025. Draft beer, peanuts and big-screen sports... the scene is reminiscent of pubs worldwide, but in Riyadh customers in white robes or black veils sip non-alcoholic pints, with no expectation of a hangover.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسعودی خواتین ریاض میں اے 12 کیفے میں نان الکوحلک بیئر پیتے ہوئے

سعودی عرب نے ملک میں غیر ملکیوں کو شراب کی فروخت پر عائد پابندیوں میں نرمی کر دی ہے۔

گذشتہ برس سعودی حکومت نے ملک کے دارالحکومت ریاض میں ایک شراب خانہ کھولا تھا، جہاں صرف غیرملکی سفارت کاروں کو شراب کی فروخت کی اجازت تھی تاہم متعدد متعدد خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی حکومت میں اب دیگر غیر مسلم غیر ملکیوں کو بھی شراب کی فروخت کی جا رہی ہے۔

یاد رہے سعودی عرب میں 73 برس تک شراب پر مکمل پابندی عائد رہی تاہم گذشتہ برس ریاض میں شراب خانہ کھلنے کے بعد اس پابندی میں نرمی برتنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔

نیوز ویب سائٹ سیمافور کے مطابق ریاض میں گذشتہ برس کھلنے والے سٹور نے اب سفارت کاروں کے علاوہ پریمیم ریزیڈنسی پروگرام کے تحت دیگر غیر مسلم غیرملکی شہریوں کو بھی شراب کی فروخت شروع کر دی ہے۔

سعودی عرب میں موجود ایک غیرملکی شہری نے بلومبرگ کو بتایا کہ انھوں نے حال ہی میں ریاض میں واقع شراب خانے سے شراب خریدی تھی۔

سعودی حکومت نے ان اطلاعات پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

A bartender serves non-alcoholic draft beer to a Saudi customer at the A12 cafe in the capital Riyadh on October 24, 2025. Draft beer, peanuts and big-screen sports... the scene is reminiscent of pubs worldwide, but in Riyadh customers in white robes or black veils sip non-alcoholic pints, with no expectation of a hangover.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریاض میں واقع اے 12 کیفے میں ایک بار ٹینڈر سعودی گاہک کو بیئر دے رہے ہیں

تاہم گذشتہ برس سعودی حکام نے کہا تھا کہ ریاض میں واقع دکان سے شراب کی فروخت صرف مملکت میں مقیم اس سفارتی عملے تک ہی محدود ہو گی، جو گذشتہ کئی دہائیوں سے سفارتی پاؤچز کے نام سے سیل بند سرکاری پارسلوں میں اپنے ممالک سے پینے کے لیے شراب سعودی عرب منگواتے ہیں۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ شراب کی فروخت کی یہ دکان کھولنے کا مقصد ’شراب کے غیرقانونی کاروبار‘ کا قلعہ قمع کرنا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی پریمیم ویزا رکھنے والے غیر ملکیوں سے بات کی، جنھوں نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے حال ہی میں ریاض میں واقع شراب خانے سے شراب خریدی۔

ایک غیر ملکی شہری نے اے ایف پی بتایا کہ ’میں نے اس کے بارے میں اپنے کچھ دوستوں سے سنا تھا۔ میں دو دن پہلے وہاں گیا اور جیسا انھوں نے بتایا ویسا ہی تھا۔‘

’اس سے میرے پیسے بھی بچ گئے۔ قیمت بہت مناسب ہے اور ہم اب بالآخر شراب خرید سکتے ہیں۔‘

سعودی عرب میں دو نئے شراب خانے کھولنے کی منصوبہ بندی

دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کو متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب ظہران اور جدہ میں بھی دو نئے شراب خانے کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ ایک نیا شراب خانہ ظہران میں واقع آرامکو کے کمپاؤنڈ میں کمپنی میں کام کرنے والے غیر مسلم ملازمین کے لیے بنایا جائے گا اور اس حوالے سے سعودی حکام نے انھیں آگاہ کر دیا ہے۔

This picture shows Aramco tower in Riyad's King Abdullah Financial District (KAFD) on March 3, 2025.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنذرائع کا کہنا ہے کہ ایک شراب خانہ ظہران میں آرامکو میں غیرمسلم ملازمین کے لیے بنایا جائے گا

دو مزید ذرائع کہتے ہیں کہ ایک اور شراب خانہ جدہ میں غیر مسلم سفارت کاروں کے لیے بنایا جائے گا، جہاں متعدد ممالک کے قونصلیٹ واقع ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں نئے شراب خانوں کی سنہ 2026 میں کھلنے کی توقع ہے۔

ماہرین کی جانب سے سعودی حکومت کے اس اقدام کو ولی عہد محمد بن سلمان کے ’وژن 2030‘ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد سعودی معاشرے کو کسی حد تک لبرل کرنا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد متعدد تبدیلیاں آئی ہیں اور سعودی مملکت میں شراب خانہ کھولنے کے عمل کو اُن ہی کے ایجنڈے کا حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کو جون 2017 میں شہزادہ محمد بن نائف کو ہٹا کر ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔