سیما حیدر کی انڈین صدر سے شہریت کی درخواست: ’یہ جاسوس ہو سکتی ہیں۔۔۔ پاکستان کی سرحد تک چھوڑ کر آئیں گے‘

،تصویر کا ذریعہSHAHNAWAZAHMAD/BBC
پاکستانی شہری سیما حیدر کی مشکلات میں کمی ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے کیونکہ انڈیا کی ایک سرکردہ ہندو تنظیم کرنی سینا نے کہا ہے کہ وہ انھیں ’پاکستان کی سرحد تک چھوڑ کر آئے گی۔‘
خیال رہے کہ یہ وہی کرنی سینا ہے جس نے بالی وڈ اداکارہ دپیکا پاڈوکون کی فلم ’پدماوت‘ کی شوٹنگ کے دوران ہنگامہ آرائی کی تھی اور فلم کا نام تبدیل کروانے میں کامیاب رہی تھی۔
دریں اثنا سیما حیدر نے انڈیا کی صدر کو خط لکھا ہے اور ان سے شہریت دینے کی اپیل کی ہے۔
پاکستانی شہری سیما حيدر گذشتہ ہفتے اپنے چار بچوں کے ساتھ غیر قانونی طور پر انڈیا میں داخل ہوئی تھیں۔ ان کی انڈین شہری سچن سے پب جی موبائل گیم کھیلنے کے دوران جان پہچان ہوئی تھی جو کچھ عرصے میں محبت میں تبدیل ہوئی۔ انھوں نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’اب میں ان سے محبت کرتی ہوں اور ان کے لیے اپنا وطن چھوڑ کر آئی ہیں۔‘
ان کی اس درخواست پر صدر کی جانب سے تو ابھی کوئی جواب نہیں آیا ہے لیکن اس سے قبل 'گو رکشک ہندو دل' نے سیما کو ملک چھوڑنے کے لیے 72 گھنٹے کا الٹیمیٹم دیا تھا۔
اس ہندو تنظیم کے قومی صدر وید ناگر نے ٹوئٹر پر ویڈیو ریلیز کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیما پاکستانی جاسوس ہو سکتی ہے اور انڈیا کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ وہ دوسری ہندو تنظیموں کو ساتھ لے کر ان کے خلاف تحریک چلائيں گے اور انھیں اور ان کے چاروں بچوں کو ’کسی بھی قیمت پر اس ملک کی شہریت نہیں لینے دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہSHAHNAWAZAHMAD/BBC
کرنی سینا کی دھمکی
کرنی سینا کے قومی نائب صدر مکیش سنگھ راول نے انڈین میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیما حیدر جس طرح سے انڈیا میں داخل ہوئی وہ مکمل طور پر ’مشتبہ‘ ہے اور یہ کہ وہ ’پاکستانی ایجنٹ‘ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’میں ایسے شخص کو دہشتگرد کہوں گا، کیونکہ کسی نے اسے چیک نہیں کیا۔ اسے چیک کیا جانا چاہیے تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے جسم میں کوئی چپ لگی ہو۔ پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ ہم انھیں انڈیا میں ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'ہم یو پی اے ٹی ایس (اینٹی ٹیررزم سکواڈ) کی فوری کارروائی کا خیرمقدم کریں گے۔ اگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو ہم اسے (سیما حیدر) کو پاکستانی سرحد پر لے جا کر پھینک دیں گے۔'
مکیش سنگھ راول کا مطالبہ ہے سیما حیدر کو اچھی طرح سے سکین کیا جائے کہ کہیں ان میں کوئی خفیہ ڈیوائس تو نہیں لگائی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ '15 اگست (انڈیا کا یوم آزادی) قریب آ رہا ہے اور اس سے متعلق کچھ منصوبہ بندی ہو سکتی ہے۔ اس پر اتنی توجہ کیوں دی گئی؟ اسے کھلے میں کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟ اسے جلد از جلد انڈیا سے باہر بھیج دیا جانا چاہیے۔'
ہندوستان ٹائمز کے مطابق سیما حیدر سے اترپردیش کی اے ٹی ایس نے گذشتہ روز 36 گھنٹوں تک تفتیش کی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پاکستانی شہری نے انڈیا کی صدر دروپدی مرمو سے رحم کی اپیل کی ہے اور انڈین شہریت دیے جانے کی درخواست کی ہے۔
اپنی اپیل میں انھوں نے صدر سے انڈیا میں رہنے کی اجازت طلب کی ہے اور کہا ہے کہ وہ انڈین تہذیب و ثقافت سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ انھوں نے ایک ایسے وقت میں رحم کی اپیل کی ہے جب ان کو واپس پاکستان بھیجنے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔
شیو سینا کا ترجمان مراٹھی اخبار سامنا نے ٹویٹ کیا ہے کہ سیما حیدر نے کہا ہے کہ 'اکشے کمار اور عالیہ بھٹ جیسے بالی وڈ اداکار جو غیر ملک کی شہریت رکھتے ہیں اگر وہ انڈیا میں رہ سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں۔'
دوسری جانب سیما کا کہنا ہے کہ اگر انھیں واپس پاکستان بھیجا گيا تو ان کی جان کو خطرہ ہے۔
دریں اثنا ہندی اخبار دینک جاگرن کے مطابق گرمی کی وجہ سے سیما حیدر کی طبیعت ناساز ہو گئی ہے اور ان کا گھر پر ہی علاج کیا جا رہا ہے۔












