رہائش کی تلاش میں متعصبانہ رویوں کا سامنا کرنے والے نوجوان: ’اکثر سننے کو ملتا ہے آپ اکیلی کیوں ہیں‘

- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد جیسے میٹروپولیٹن شہروں میں ملک بھر سے افراد ملازمت اور تعلیم کی غرض سے آتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کو دیگر شہروں کے مقابلے میں سکونت اختیار کرنے کے اعتبار سے قدرے مہنگا تصور کیا جاتا ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہاں گھروں اور اپارٹمنٹس کے زیادہ کرائے ہیں۔
اسلام آباد آنے والے تمام افراد کی ایک خواہش ہوتی ہے کہ انھیں اچھی جگہ پر سستی رہائش مل جائے جہاں وہ آرام سے رہ سکیں۔
تاہم تعلیم یا روزگار کی وجہ سے یہاں آنے والوں کو جہاں سستے کرائے کے مکان یا فلیٹ ڈھونڈنے میں مشکل ہوتی ہے وہیں ایسے نوجوانوں یا افراد کے لیے یہ عمل مزید مشکل اور پیچیدہ ہو جاتا ہے جو غیر شادی شدہ ہوں اور اکیلے رہتے ہوں۔
غیر شادی شدہ افراد اس حوالے سے اکثر اپنے ساتھ پیش آئے متعصبانہ رویوں کی شکایت کرتے ہیں۔ بی بی سی نے چند ایسے ہی لوگوں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان رویوں کا ان پر کیا اثر پڑتا ہے۔
’اکثر سننے کو ملتا آپ اکیلی کیوں ہیں؟‘

عمارہ آج سے تقریباً پانچ سال قبل اسلام آباد شفٹ ہوئی تھیں اور اس وقت انھیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ کرائے کا گھر ڈھونڈنے کے لیے انھیں کتنی تگ و دو کرنا پڑے گی۔
بی بی سی سے بات کرنے کے لیے عمارہ نے ہمیں اپنے دفتر میں بلایا تاکہ آرام سے بات ہو سکے۔
عمارہ وہاں بطور پراڈکٹ ڈیزائنر کام کرتی ہیں۔ یہ سوال پوچھتے ہی کہ کرائے کا گھر ڈھونڈتے ہوئے کس قسم کے الفاظ سننے کو ملتے ہیں؟ عمارہ نے ایک ایک چیز اور بات گنوانا شروع کر دی۔
’اکثر سننے کو ملتا ہے کہ آپ اکیلی کیوں ہیں؟ آپ گھر والوں سے الگ کیوں رہتی ہیں؟ آپ کی فیملی آپ کے ساتھ کیوں نہیں رہتی یا کیوں نہیں رہنا چاہتی؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرح ناعم احمد جو کچھ عرصہ قبل کراچی سے اسلام آباد شفٹ ہوئے، بتاتے ہیں کہ جملے تو ہر طرح کے سننے کو ملتے ہیں۔ ’جیسے اکیلے کیوں رہنا ہے؟ پارٹی تو نہیں کرنی؟ دوست یار تو نہیں آئیں گے؟ آنے اور جانےکے اوقات کیا ہیں؟‘
انھوں نے کہا کہ ’سب سے بڑا چیلنج تو یہ ہوتا ہے کہ جس گھر میں پہلے سے کوئی فیملی رہتی ہو وہاں پر تو ہم رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ جسے بھی فون لگاؤ تو پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا فیملی ہے آپ کے ساتھ؟‘

’مکان مالک نے دفتر سے گارنٹی لیٹر لانے کا کہا‘
عمارہ اسلام آباد میں اکیلے گھر ڈھونڈنے کی مشکلات پر بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ایک مرتبہ تو ایسا بھی ہوا کہ مالک مکان اور پراپرٹی ڈیلر نے کہا کہ آپ اپنے دفتر سے ایک خط لے کر آئیں جس میں یہ لکھا ہو کہ یہ ہمارے ساتھ کام کرتی ہیں، اکیلی خاتون ہیں اور کام کے سلسلے میں اس شہر میں رہنے آئی ہیں۔‘
ناعم بھی اس طرح کے رویوں پر کہتے ہیں کہ ’ایسا سن کر برا تو محسوس ہوتا ہے لیکن پھر خاموش ہونا پڑتا ہے کیونکہ آپ کے پاس رہائش کا اور کوئی انتظام نہیں ہوتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں ایک بڑا چیلنج کم کرائے والے گھر ڈھونڈنے کا ہے کیونکہ ہمارے لیے 35 ہزار روپے ماہانہ کرایہ دینا ممکن نہیں۔‘
’اکیلی خاتون ہونے پر کیا آپ کے کوئی حقوق نہیں‘
عمارہ اس مشکل پر مزید بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس سب میں ایک اور مسئلہ اکیلی خاتون ہونے کا ہے۔ ’اگر آپ اکیلی خاتون ہیں تو ایسا ہے جیسے آپ کے بطور کرائے دار کوئی حقوق نہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’اگر کسی کے گھر میں شوہر، باپ یا بھائی کی صورت میں مرد ہے تو وہ ٹھیک ہے لیکن اگر کسی وجہ سے کوئی ساتھ نہیں رہ رہا ہے تو پھر آپ کے حقوق ختم ہوجاتے ہیں یا آپ کو حق نہیں کہ آپ کسی محفوظ جگہ پر رہ سکیں۔‘

چک شہزاد کا ہاسٹل سٹی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ناعم اور عمارہ نوجوانوں کی جس نسل سے تعلق رکھتے ہیں ان کی اب ایک بہت بڑی تعداد اپنے گھروں سے دور کام کرتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی انفرادیت اور اکیلے رہنے پر سوالات نہ اٹھائیں جائیں جبکہ پاکستان میں اب بھی کچھ حد تک اکیلے رہنے کے رجحان اور خاص کر خواتین کے اکیلے رہنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔
لیکن میری یہ سوچ اس وقت چیلنج ہوئی جب مجھے اسلام آباد کے مضافاتی علاقے چک شہزاد جانے کا اتفاق ہوا۔ یہاں پر ہاسٹل سٹی کے نام سے ایک پوری کالونی قائم ہے۔
یہاں پر جگہ جگہ اپارٹمنٹ بنے ہوئے ہیں جن میں مختلف شہروں سے آنے والے طلبہ، پروفیسر اور مختلف سرکاری محکموں میں ملازمت کرنے والے افراد رہائش پذیر ہیں۔
یہاں پر میری ملاقات ہوئی شب نیاز خان سے ہوئی جن کا تعلق بنوں سے ہے لیکن وہ پچھلے چند عرصے سے اسلام آباد کے مضافات میں غیر شادی شدہ افراد کے لیے کرائے کے گھروں کا بندوبست کرتے ہیں۔
ان سے جب سوال کیا کہ پراپرٹی ڈیلر یا مالک مکان کو غیر شادی شدہ افراد کو گھر دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ تو شب نیاز نے اس سوال کر مسکراتے ہوئے کہا کہ ’دیکھیں، مجھے یا کسی اور کو کوئی مسئلہ نہیں۔‘
انھوں نے ہمیں سمجھانے کے انداز میں کہا کہ ’میرے لیے اس سے اچھی بات کیا ہے کہ مجھے اچھا کرایہ مل جائے۔ لیکن ہم تب زیادہ خوش ہوتے ہیں جب فیملی ہو۔ ہم بھی خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔‘
شب نیاز خان نے کہا کہ ’زیادہ تر یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی لڑکی یا لڑکا اکیلے رہتے ہیں تو ان کے بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ یہ یہاں کیوں رہ رے ہیں۔ کیا مقصد ہے ان کے اکیلے رہنے کا لیکن ہم بھی مکمل گارنٹی نہیں دے سکتے۔‘
یہاں پر یہ سوال کرنا بھی ضروری ہے کہ آخر غیر شادی شدہ لوگوں کو کرائے کا گھر دینے سے زیادہ تر لوگ کتراتے کیوں ہیں؟
شب نیاز خان نے بتایا کہ ’لوگ نوجوانوں کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہوئے بھی کسی کا منھ بند نہیں کر سکتے لیکن اپنے طور پر یہاں آنے والوں کے لیے جگہ بنا سکتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے

اکیلے رہنے والوں کے کردار پر باتیں
عمارہ کے نزدیک 'ایک بہت بڑی وجہ اکیلے یا غیر شادی شدہ افراد کے کردار پر سوال اٹھانا ہے۔ جس کے نتیجے میں انھیں یہاں گھر دینے پر کوئی راضی نہیں ہوتا۔ اب چاہے کوئی یہ بات کرے یا نہ کرے لیکن کردار کو لے کر ہمارے معاشرے میں بہت باتیں کی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے غیر شادی شدہ لوگوں کو گھر نہیں دیا جاتا۔'
لیکن اگر ان لوگوں کو کوئی تجویز یا بات کہنا چاہیں تو کیا کہیں گے؟
ناعم نے کہا کہ سب لوگوں کو ایک ہی سانچے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ اگر آپ ہمارے ساتھ اچھا چلیں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کام کرسکیں گے۔
جبکہ عمارہ نے کہا کہ ’تمام تر پراپرٹی ڈیلر یا مالک مکان کو ایسی جگہوں یا مکانات کی فہرست بنانی چاہیے جن کے کرائے مناسب ہوں اور محفوظ مقام ہو۔ اس فہرست کو دیکھ کر غیر شادی شدہ افراد وہاں جا سکیں گے اور اپنے لیے گھر کا خود بندوبست کر سکیں۔‘










