وہ فراڈ جس میں ’منافع کا لالچ اور جعلی زیور‘ دے کر سبزی فروش سمیت ہزاروں افراد کے 200 کروڑ ہتھیا لیے گئے

ٹورس کمپنی کے باہر بہت سے عام لوگ جمع تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنٹورس کمپنی کے باہر بہت سے لوگوں کی بھیڑ تھی
    • مصنف, الپیش کرکرے
    • عہدہ, بی بی سی مراٹھی کے لیے

پیر کو انڈیا کے شہر ممبئی میں ’ٹورس کمپنی‘ کے باہر ایک مجمعہ تھا جو کافی غصے میں تھا۔ ٹورس کمپنی کے دفتر کے باہر جمع تمام لوگ اسی کمپنی میں سرمایہ کار تھے۔

کچھ نے زیادہ منافع کی امید میں ہزاروں، کسی نے لاکھوں اور کسی نے تو کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔ بعض افراد ایسے بھی تھے جنھوں نے نہ صرف اپنی بلکہ دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی اپنا سرمایہ اس کمپنی کے حوالے کرنے پر آمادہ کیا تھا۔

سرمایہ دیں اور گھر بیٹھے جلد اور کئی گنا منافع حاصل کریں، یہ فراڈ دنیا بھر میں عام رہا ہے لیکن اس کی تازہ ترین واردات جو بڑے پیمانے پر ہوئی، انڈیا میں سامنے آئی ہے جہاں سینکڑوں لوگ پرکشش منافع کے لالچ میں زندگی بھر کی جمع پونجی لٹا بیٹھے۔

ممبئی میں ہونے والے اس فراڈ میں مجموعی طور پر عام لوگوں کے کروڑوں روپے لوٹ لیے گئے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فراڈ باقاعدہ کمپنی بنا کر کیا گیا۔ اس معاملے کا مقدمہ ممبئی کے دادر شیواجی پارک تھانے میں درج کیا گیا ہے۔

لیکن یہ لوگ اپنا سرمایہ ایک کمپنی کو کیوں دے رہے تھے اور فراڈ ہوا کیسے؟ لیکن اس سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ لوگوں کو یہ کیسے پتہ چلا کہ ان کے ساتھ فراڈ ہو گیا ہے؟

فراڈ کا علم کیسے ہوا؟

سرمایہ لگانے والے کئی افراد اس وقت کمپنی کے دفاتر پہنچے جب کمپنی کی ویب سائٹ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ ان افراد کو یہ پریشانی بھی تھی کہ اس ماہ ان کو منافع نہیں دیا گیا تھا جو پہلے باقاعدگی سے مل رہا تھا۔

ان افراد کو علم ہوا کہ کمپنی کے بہت سے دفاتر بند تھے جبکہ بعض دفاتر میں موجود ملازمین نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ کمپنی کے سربراہ کسی سے رابطے میں نہیں ہیں۔ اب پریشانی بڑھ گئی اور لوگوں نے محسوس کیا کہ انھیں دھوکہ دیا گیا ہے۔

کمپنی کے ایک دفتر پر پتھراؤ بھی ہوا اور حالات اتنے خراب ہوئے کہ کمپنی کے تمام دفاتر کے باہر پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی۔

پولیس نے ایک سبزی فروش پردیپ کمار ممراج ویشیا کی درخواست پر اس کمپنی کے ڈائریکٹر سرویش اشوک سمیت پانچ افراد کے خلاف 13 کروڑ روپے کے غبن کا مقدمہ درج کیا ہے۔

ٹورس کمپنی کی منافع بخش پالیسی کیا تھی؟

پلاٹینم ہرن پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی نے سونے، چاندی، ہیروں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے تین فروری 2024 کو ممبئی میں ٹوریس کے نام سے ایک کمپنی قائم کی۔

کمپنی کا پہلا دفتر دادر میں کھولا گیا۔ اس کے بعد گرانٹ روڈ، میرا روڈ، سانپڑا اور کلیان میں ان کی شاخیں کھولی گئیں۔

بہت سے لوگوں کو بھاری منافع کا لالچ دے کر مالی طور پر دھوکہ دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبہت سے لوگوں کو بھاری منافع کا لالچ دے کر مالی طور پر دھوکہ دیا گیا ہے

ٹورس کمپنی نے شروع سے ہی سرمایہ کاروں کو بھاری منافع کی مختلف پیشکشیں دینا شروع کر دی تھیں۔

نیز اس کمپنی نے زیورات کی سرمایہ کاری پر چھ فیصد کی واپسی کا وعدہ بھی کیا۔ کمپنی نے دعویٰ کیا کہ جیولری کی سرمایہ کاری کی رقم ہفتہ وار واپس کی جائے گی۔

ٹورس کمپنی میں سرمایہ کاری صرف 4000 روپے سے کی جا سکتی تھی۔ لیکن چھ لاکھ سے زیادہ سرمایہ کاری پر گیارہ فیصد منافع ملتا۔

ابتدائی دنوں میں ٹوریس کمپنی نے مکانات، کاروں اور زیورات تک میں پرکشش منافع کی پیشکش کی۔ گذشتہ دس ماہ کے دوران کچھ سرمایہ کاروں کو منافع بھی دیا گیا اور بعد میں یہ شرح چھ فیصد سے بڑھ کر 11 فیصد ہو گئی۔

اسی لیے زیادہ رقم کے لالچ میں بہت سے سرمایہ کاروں نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے اس کمپنی میں سرمایہ کاری کروائی۔ جیسے جیسے سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھتی گئی، ممبئی میں ٹوریس کمپنی کے دفاتر کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔

پولیس کی تحقیقات اور شکایات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کمپنی میں اب تک ایک لاکھ 25 ہزار لوگ سرمایہ کاری کر چکے تھے۔

Instagram/torres.official

،تصویر کا ذریعہInstagram/torres.official

،تصویر کا کیپشنکمپنی چلانے والے توصیف اور ابھیشیک

200 کروڑ سے زیادہ کا فراڈ

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بھولون کھر میں رہنے والے 31 سالہ سبزی فروش پردیپ کمار نے اس کمپنی میں 13 کروڑ 48 لاکھ 15,092 روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔

ویشیا نے شروع میں اپنی کچھ رقم اور پھر اس کمپنی میں دوستوں اور رشتہ داروں سمیت کل 38 لوگوں کی سرمایہ کاری کروائی۔ ویشیا نے 21 جون 2024 سے اس کمپنی میں پیسہ لگا کر کچھ منافع بھی حاصل کیا۔

تاہم دسمبر 2024 کے مہینے میں منافع واپس نہ ملنے کے بعد جب انھوں نے کمپنی سے رابطہ کیا تو انھیں دفتر آنے کو کہا گیا جہاں پردیپ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہو چکا ہے۔

اس کے بعد ہی دیپ کمار دادر شیواجی پارک تھانے پہنچے۔

’جعلی زیور‘

بی بی سی مراٹھی سے بات کرتے ہوئے پردیپ کمار نے کہا کہ ’مجھے پرکشش منافع مل رہا تھا۔ اس لیے میں نے اپنی زندگی کی بچت اور رشتہ داروں اور دوستوں کی بچت سمیت 37 لوگوں کی رقم اس کمپنی میں لگائی۔ جون کے مہینے میں منافع ملا تو دوبارہ سرمایہ کاری کی۔‘

پردیپ کو منافع کے طور پر جو زیورات ملے ہیں اب پتہ چلا ہے کہ وہ بھی جعلی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے زیادہ رقم حاصل کرنے کے لالچ میں ایک جاننے والے کے مشورے پر رقم لگائی۔ پچھلے مہینے مجھے کوئی منفع نہیں ملا اور پوچھنے پر ملے جلے جواب ملے۔ کل مجھے معلوم ہوا کہ مجھ جیسے بہت سے لوگوں کو دھوکہ دیا گیا ہے تومیں نے فوری طور پر شکایت درج کی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں ہمارے پیسے واپس ملنے چاہیے۔‘

بہت سے لوگوں نے آنکھیں بند کر کے ٹورس کمپنی میں لاکھوں روپے لگائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبہت سے لوگوں نے آنکھیں بند کر کے ٹورس کمپنی میں لاکھوں روپے لگائے

ممبئی کے مرتضیٰ جوارا نے اس کمپنی میں ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی۔ مرتضیٰ نے کسی سے ادھار پیسے لیے اور اگست کے مہینے میں سرمایہ کاری کی۔

انھوں نے بی بی سی مراٹھی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں گذشتہ ماہ منافع نہ ملنے پر کل کمپنی گیا اور پتہ چلا کہ مجھ جیسے بہت سے لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔‘

ایسے ہی ممبئی میں رہنے والے پردیپ دیوالیا نے اس کمپنی میں ساڑھے آٹھ لاکھ روپے لگائے تھے۔ انھیں سرمایہ کاری کیے دو ماہ ہو چکے تھے اور ابھی فقط ایک ماہ کی رقم واپس ملی تھی۔

وہ درخواست کر رہے ہیں کہ ’پولیس اس معاملے کی تحقیقات کرے اور ہماری رقم واپس لے۔‘

پولیس کا کیا کہنا ہے؟

پولیس فی الحال اس کمپنی سے متعلق افسران اور ملازمین سے تفتیش کر رہی ہے۔

دادر میں سرمایہ کار کی شکایت کے مطابق ملزمان کے نام درج ذیل ہیں۔

سرویش اشوک سروے، وکٹوریہ کووالینکو، توفیق ریاض کارٹر، تانیہ کسٹووا اور ویلنٹینا کمار شامل ہیں۔

دادر شیواجی پارک پولیس نے کہا ہے کہ پولیس اس معاملے میں مزید تحقیقات کر رہی ہے۔ کیس کو ممبئی پولیس کے مالیاتی جرائم ونگ کو منتقل کر دیا گیا ہے اور اب پولیس کی مختلف ٹیمیں تحقیقات کر رہی ہیں۔

کمپنی نے سی ای او کو ذمہ دار ٹھہرایا

ٹورس جیولری کی ممبئی میں بہت سی شاخیں تھیں۔ اس کمپنی نے گرانٹ روڈ، نوی ممبئی، کلیان، میرا روڈ جیسے اہم مقامات پر اپنی شاخیں کھولی تھیں۔

تاہم اس فراڈ کے سامنے آنے کے بعد پولیس نے کمپنی کے اعلیٰ افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

دوسری جانب اس کمپنی نے سوشل میڈیا کے ذریعے کمپنی کے سی ای او توصیف ریاض کو اس مبینہ گھپلے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

کمپنی نے سوشل میڈیا کے ذریعے کہا گیا ہے کہ ’ہمارے سامنے یہ بات آئی کہ توصیف اور اس کے ساتھی پچھلے کئی مہینوں سے کمپنی کا پیسہ بھی لوٹ رہے ہیں۔‘

تاہم کمپنی نے ابھی تک سرمایہ کاروں کے الزامات کا جواب نہیں دیا ہے۔

اس کے علاوہ جب بی بی سی مراٹھی نے اس ادارے سے رابطہ کیا تو کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

فراڈ کو کیسے پہچانا جائے؟

ایسی بوگس سکیموں یا کمپنیوں کا شکار ہونے سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

اس طرح کی سکیمیں جو انتہائی زیادہ منافع کا لالچ دیتی ہیں ’پانزی سکیمیں‘ کہلاتی ہیں۔

امریکہ میں 1920 کی دہائی میں چارلس پانزی نامی ایک شخص نے ایک سکیم متعارف کروائی جس میں سرمایہ کاری پر بہت زیادہ شرح منافع کی پیشکش کی گئی۔ اس لیے ایسی تمام سکیموں کو ’پانزی‘ سکیمیں کہا جانے لگا۔

ان تمام قسم کی سرمایہ کاری سکیموں میں اب تک ایک چیز مشترک ہے - مختصر مدت میں منافع کی بہت زیادہ شرح۔

کم وقت میں زیادہ پیسہ کمانے کی خواہش سے سرمایہ کار ان سکیموں کی طرف راغب ہوتے ہیں:

اس میں گارنٹی شدہ واپسی کی شرح کی نسبت زیادہ پیسہ دینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

  • دوسروں سے شرکت کی اپیل کی جاتی ہے۔
  • سرمایہ کاری کی زیادہ واپسی کی ضمانت زیادہ ہے۔
  • اکثر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سکیم یا اسے چلانے والا شخص انتہائی قابل اعتبار ہے۔
  • اس کے پیچھے مفروضہ یہ ہے کہ لوگ دھوکہ کھانے کے بعد ذلت کے خوف سے شکایت نہیں کریں گے۔