کسٹرڈ پاؤڈر: مزیدار اور بے ضرر نظر آنے والا پاؤڈر جو بڑا دھماکہ کر سکتا ہے

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآپ اپنے گھر پر موجود کسٹرڈ پاؤڈر سے یقیناً مزیدار سویٹ ڈش بناتے ہوں گے۔ لیکن مخصوص حالات میں یہ چیز ایک زوردار دھماکہ بھی کر سکتی ہے

آپ اپنے گھر پر موجود کسٹرڈ پاؤڈر سے یقیناً مزیدار سویٹ ڈش بناتے ہوں گے۔ لیکن مخصوص حالات میں یہ چیز ایک زوردار دھماکہ بھی کر سکتی ہے۔

کسٹرڈ پاؤڈر کو صرف کچھ پانی اور حرارت دے کر عموماً گھروں میں سویٹ ڈش بنائی جاتی ہے۔ مگر 18 نومبر 1981 کو آکسفورڈ شائر کی برڈز کسٹرڈ فیکٹری میں اس کا ایک تاریک پہلو عیاں ہوا۔

کسٹرڈ پاؤڈر سے بھرا کنٹینر اوور فلو کر گیا اور نتیجاً اس کے دھویں کے بادل میں آگ لگی اور یہ پھٹ پڑے۔

اس دھماکے میں نو لوگ زخمی ہوئے۔ اسی طرح 1871 کے دوران منیسوٹا میں 14 افراد کی ہلاکت ہوئی جب ایک فلور مل میں دھماکہ ہوا۔ آئیووا میں ایک دھماکے سے بچے سمیت 44 افراد کی موت ہوئی۔

ایک مبصر نے بعد میں اس حوالے سے لکھا کہ ’مرکزی دھماکے سے عمارت اور اس میں موجود لوگ اوپر کی جانب اٹھے اور پھر اپنے وزن سے نیچے گِرے۔‘

کسٹرڈ پاؤڈر کی دھول سے ہونے والے دھماکوں نے کئی افراد کی جانیں لی ہیں۔ 2014 میں چین کی ایک فیکٹری میں 97 افراد مارے گئے جبکہ 2022 کے دوران ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ عالمی سطح پر ایسے 50 دھماکے ہو چکے ہیں۔

Alamy

،تصویر کا ذریعہAlamy

مگر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک سادہ سویٹ ڈش کے اجزا اتنا نقصان کیسے پہنچا سکتے ہیں؟

ان کے اجزا سے اڑنے والی گرد سے ہونے والے دھماکوں میں تین چیزیں مشترک ہوتی ہیں۔ یہ پاؤڈر ایسے اجزا کا ہوتا ہے جو آگ پکڑ سکتا ہو جیسے گندم کا آٹا، مکئی کا آٹا، چینی، کوئلہ، پلاسٹک اور الومینیئم پاؤڈر سے اڑنے والی گرد آگ پکڑ سکتی ہے، یعنی اگر یہ ہوا میں جائیں تو ایک زوردار دھماکے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ گرد آسمان میں ٹھہر جائے تو یہ فضا میں موجود آکسیجن کے ساتھ ردعمل دیتی ہے جس سے فوراً آتشزدگی ہوتی ہے۔ اگراس پاؤڈر کے کچھ ذرات بھی آگ پکڑ لیں تو یہ آگ رگڑ لگنے سے تیزی سے پھیلتی ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے کسی بون فائر پر آگ لگانے کے لیے لکڑیوں کا برادہ استعمال ہوتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

برڈز کسٹرڈ فیکٹری پر اس شب 20 ملازمین ڈیوٹی پر تھے۔ اس حادثے کی رپورٹ کے مطابق ایک ٹوکری میں سے نشاستہ باہر نکل رہا تھا۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’عینی شاہدین نے دیکھا کہ ٹوکری کے اوپر چنگاری جل رہی ہے جو ٹوکری کی دیواروں کے ساتھ ساتھ اوپر کی طرف پھیل رہی ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ شدید تیز ہوا چل رہی تھی جس میں آگ کے خطرناک شعلے شامل تھے جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے میں پھیل گئے۔ اس سارے معاملے کے بعد ہونے والے معائنے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ نشاستے کو مختلف ڈبوں میں ڈالنے والی مشینری خراب ہو گئی تھی۔ لہذا مشینری کے خراب ہو جانے کی وجہ سے نشاستہ کنٹینر میں اس وقت تک بھرتا رہا جب تک کہ کنٹینر مکمل طور پر بھر جانے کے بعد اس سے باہر بھی گرنے لگا۔

اس طرح کے دھماکوں کے خطرے کو کم رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس مسئلے کو کئی زاویوں سے دیکھا جائے۔ جیسا کہ فیکٹری میں تمام مشینوں کو گراؤنڈ کرنا، فلٹریشن سسٹم کی تعمیر جو ہوا سے دھول کو ہٹانے میں مدد کرے اور دھول کے جمع ہونے جانے کی صورت میں اس حوالے سے بروقت آگاہی شامل تھے۔ یہ سب کرنے کی سفارش صحت اور حفاظتی امور کی نگرانی کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے کی گئی تھی۔

Alamy

،تصویر کا ذریعہAlamy

ایک چمچ نشاستے یا کسٹرڈ پاؤڈر کو دیکھیں اس کے بعد یہ تصور کرنا انتہائی مُشکل یا تقریباً نامُمکن لگاتا ہے کہ یہ کس قدر تباہ کُن ثابت ہو سکتا ہے۔

ہم میں سے بہت کم لوگوں کو براہ راست ایسے واقعات کا تجربہ ہوا ہو گا۔ لہذا آپ نے کبھی ان مادوں کو اس طرح سے نہیں دیکھا ہوگا کہ جیسے کہ آپ موم بتی کے قریب رکھے ہوئے کاغذ یا پھر خشک پتوں کے ڈھیر کے قریب پڑے سُلگتے ہوئے سگریٹ کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ابھی کُچھ بہت خراب ہونے والا ہے۔

ایسے حالات میں آپ کو حقیقی زندگی میں اس خطرناک کیمیائی حادثے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم اس بارے میں کبھی نہیں سوچا ہوا گا کہ کسٹرڈ فیکٹری میں ایسا کچھ ہوگا۔

ایسی پارٹیاں جن میں رنگ برنگے پاؤڈر جو کہ اکثر نشاستہ ہوتا ہے اور انھیں ہندوؤں کے موسم بہار کے مقبول ترین تہوار ہولی کی آمد پر ایک دوسرے یا اکثر لوگوں کی ایک بھیڑ پر چھڑکا یا پھینکا جاتا ہے۔

سنہ 2015 میں تائیوان کے ایک واٹر پارک میں ہولی سے متاثر ہو کر کنسرٹ کے سامعین پر رنگین نشاستہ پھینکا گیا تھا، جس کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی تھی۔ آگ کی وجہ سے 500 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے اور اسی واقعے میں 20 افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔

پارک کی انتظامیہ نے کہا کہ انھیں اس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ نشاستے کے بادلوں یا ہوا میں اس کی دھول کے نتیجے میں اس طرح کی خطرناک اور جان لیوا آگ لگ سکتی ہے۔ درحقیقت رنگین پاؤڈر اکثر اُس لیبل کے ساتھ فروخت کیے جاتے ہیں کہ جن پر یہ لکھا ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے آگ کے لگنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ تاہم سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے سنہ 2023 میں جب ان پاؤڈرز کے بارے میں جب تحقیق کی تو یہ بات سامنے آئی کہ ان پاؤڈرز میں آگ پکڑنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

سنہ 1981 میں برڈز کسٹرڈ فیکٹری میں دھول نے آگ نہیں پکڑی ورنہ حالات مزید خراب ہو سکتے تھے۔ لیکن دھول کی وجہ سے لگنے والی آگ کا بدتر ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے کیونکہ دھول کو اس میں لگی آگ کو پھیلنے سے روکنا اکثر اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔ کمپنیوں کے لیے خطرات کا جائزہ لینے والے کنسلٹنٹس کا کہنا ہے کہ ان خطرناک اور جان لیوا واقعات کو روکنے کا واحد طریقہ احتیاط ہے۔

ایسی جگہوں کو صاف رکھیں جہاں پاؤڈر استعمال کیے جاتے ہیں، مسلسل ایسے مقامات کی نگرانی جاری رکھیں اور سب سے بڑھ کر کسٹرڈ جیسے معصوم نظر آنے والے تباہ کن پاؤڈر کی طاقت کو کبھی نظر انداز نہ کریں۔