معذور خاتون جنھوں نے 43 سال کی عمر میں ’سیکس کا پہلا تجربہ‘ 400 ڈالر فی گھنٹہ میں کیا

میلانیا

کورونا وائرس کی وبا کے دوران آسٹریلیا میں رہنے والی ایک معذور عورت نے خود سے ایک وعدہ کیا۔

43 سالہ میلانیا کی خواہش تھی کہ کورونا کی پابندیوں کے بعد جب پہلی مرتبہ وہ اپنے گھر سے نکلیں گی تو ایک سیکس ورکر کی خدمات حاصل کرکے پہلی مرتبہ جنسی تعلق قائم کریں گی۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’یہ وہ پریشانیاں یا مسائل ہیں جن کا سامنا میں نے قربت، بے تکلفی اور محبت کے معاملات میں ایک معذور شخص ہونے کے ناطے کیا۔‘

یہ مشورہ اس سماجی کارکن کی طرف سے آیا تھا جو میلانیا کی مدد کرتی ہیں۔ ٹریسی (فرضی نام) اور میلانیا نے کورونا میں پابندیوں کا سامنا ایک ساتھ کیا۔ ٹریسی میلانیا کا مساج کیا کرتی تھیں۔

اس سے پہلے کسی نے میلانیا کو طبی وجوہات کے علاوہ نہیں چھوا تھا اور 43 سال کی عمر میں انھیں اس بات کا احساس ہوا کہ انھیں اب ایک تعلق قائم کرنا چاہیے۔

ٹریسی نے ان کے سامنے اس بات کا انکشاف کیا کہ وہ پہلے ایک سیکس ورکر تھیں اور اسی بات سے انھیں یہ خیال آیا کہ میلانیا کے لیے کسی انجان شخص سے پیسوں کے عوض جنسی تعلق قائم کرنا ایک اچھا آپشن ہو سکتا ہے۔

میلانیا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انھوں (ٹریسی) نے میری آنکھیں کھول دیں کہ شاید میں یہ تجربہ کر سکتی ہوں۔‘

میلانیا کو آن لائن ایک ایسی ایجنسی کے بارے میں پتا چلا جو پیسوں کے عوض پارٹنر فراہم کرنے کا بندوبست کرتی ہے۔ اس ایجنسی کے چیس نامی شخص کی پروفائل نے میلانیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان دونوں کے ملاقات کے لیے وقت مقرر کیا گیا اور پھر میلانیا اُن کے اپارٹمنٹ پہنچیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’ٹریسی نے مُجھے وہیل چئیر کی مدد سے چیس کے کمرے تک پہنچایا اور پھر خود واپس چلی گئیں جس کے بعد اُس کمرے میں بس ہم دونوں ہی تھے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اب اس سے آگے کیا اور کیسا ہو گا۔‘

میلانیا تین سال کی عمر سے وہیل چیئر استعمال کر رہی ہیں۔ ان کی ریڑھ کی ہڈی میں سوزش کی تشخیص ہوئی تھی، جسے ’ٹرانسورس مائلائٹس‘ کہا جاتا ہے۔ اس بیماری اور پھر فالج کی وجہ سے ان کی ٹانگیں بے جان ہو گئیں اور بس یہی نہیں بلکہ ریڑھ کی ہڈی میں سوزش کی وجہ سے ان کے ہاتھ بھی بس محدود حرکت کرنے کے قابل ہیں۔ اب روزمرّہ زندگی کے کاموں میں مدد کرنے کے لیے اُن کے معاونین موجود ہیں۔

میلانیا جاپان میں رہتی ہیں اور وہ ایک ویڈیو ایڈیٹر ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں کبھی کسی کے ساتھ ایسے تعلق یا رشتے میں نہیں رہیں اور نہ ہی میں نے کبھی ایسا کچھ سوچا تھا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ڈیٹنگ اور دوسروں کے سامنے آنا ہمیشہ خوفناک سا لگتا ہے اور دنیا تو ہمیشہ معذور افراد کو جنسی تعلق کے لیے تسلیم نہیں کرتی ہے۔‘

برطانوی حکومت کی جانب سے 2021 میں شائع ہونے والے ایک سروے (یو کے ڈس ایبلٹی سروے) کے مطابق صرف 56 فیصد برطانوی لوگوں نے کہا کہ وہ معذور شخص کے ساتھ قریبی تعلقات میں سکون محسوس کریں گے۔

میلانیا خود کہتی ہیں کہ انھیں کبھی یقین نہیں تھا کہ اس موضوع سے کیسے نمٹا جائے لہٰذا انھوں نے اس بارے میں پہل کرنے کا سوچا۔

چیس اور میلانیا کے درمیان ایک ای میل کے بعد متعدد ویڈیو کالز ہوئیں جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جان سکیں اور ممکنہ طور پر سامنے آنے والے مسائل پر کھل کر بات کر سکیں۔

میلانیا کہتی ہیں کہ ’میں نے ایک لاکھ سوالات پوچھے: کیا آپ نے اس سے پہلے کبھی ہائسٹ (یعنی کسی معذور فرد کو بستر یا کُرسی اُٹھانے اور دوسری جگہ بٹھانے والی مشین یا آلہ) استعمال کیا ہے؟ کیا آپ کا اپارٹمنٹ وہیل چیئر کے لیے قابل رسائی ہے؟ آپ کی عمارت میں لفٹ کتنی مرتبہ خراب ہوتی ہے۔‘

چیس نے بس اتنا جواب دیا کہ ’تقریبا ہر چھ مہینے میں ایک بار۔‘

میلانیا

،تصویر کا ذریعہMELANIE

،تصویر کا کیپشنچیس اور میلانیا کے درمیان ایک ای میل کے بعد متعدد ویڈیو کالز ہوئیں جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جان سکیں

میلانیا کے لیے چیس کے جوابات اس کے اپارٹمنٹ میں ایک سیشن شیڈول کرنے یا ایک ملاقات کے لیے کافی تھے۔ میلانیا نے بنا گھبرائے اس ملاقات کے لیے معاملات کو آگے بڑھایا۔ وہ اس ملاقات کے بہت پرجوش تھیں کیونکہ چیس بھی اُن سے ملنے کے لیے پراعتماد انداز میں آگے بڑھ رہے تھے۔

قانونی نقطہ نظر سے اس ملاقات میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ مغربی آسٹریلیا کی ریاست میں جہاں میلانیا رہتی تھیں، اگرچہ سٹریٹ سیکس یا قحبہ خانہ چلانا غیر قانونی ہے، تاہم جسم فروشی کا عمل قانون کے خلاف نہیں اور ایسکارٹ ایجنسیاں بھی قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔

یہ ملک کی دیگر ریاستوں سے مختلف ہے، جیسے وکٹوریہ، نیو ساؤتھ ویلز اور شمالی علاقے جہاں سیکس ورک کو اب جرم تصور نہیں کیا جاتا ہے۔

برطانیہ میں بھی صورتحال ایسی ہی ہے۔ برطانیہ میں پیسے کے عوض جنسی تعلقات روا رکھنا قانونی ہے لیکن قحبہ خانہ چلانے پر پابندی ہے۔ شمالی آئرلینڈ میں اس حوالے سے مکمل طور پر پابندی عائد ہے۔

جب میلانیا چیس کے اپارٹمنٹ میں پہنچیں تو انھوں نے حالات کا باقائدہ اور واضح انداز میں جائزہ لیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی تھی کہ میرے پاس کوئی تجربہ نہیں اور میں دباؤ محسوس کر رہی تھی کیونکہ میرے سامنے ایک ایسا شخص کھڑا تھا جو اس کام کا ماہر تھا۔‘

لیکن جوں جوں اُن دونوں نے ایک دوسرے سے بات کرنا شروع کی اور معاملات آگے بڑھنا شروع ہوئے، میلانیا پرسکون ہو گئیں۔

میلانیا کہتی ہیں کہ ’ظاہر ہے مجھے اپنی معذوری کے حوالے سے علم ہے لیکن چیس کو اس کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ ہم ایک دوسرے کی کم علمی اور معصومیت پر ہنستے رہے۔ دو گھنٹے بعد ہم اچھے دوست بن گئے۔‘

چھ سال تک کال بوائے کے طور پر کام کرنے والے چیس کا کہنا ہے کہ ’جب نئے گاہکوں کی بات آتی ہے تو ’توقعات‘ سب سے بڑا مسئلہ ہوتی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’آپ کو یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ کسی بھی ایسے فرد کو جو پہلی مرتبہ آپ کے قریب آ رہا ہے اُس کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں کون سی چیز اہم کردار ادا کرے گی۔‘

چیس کی خدمات حاصل کرنے سے پہلے میلانیا کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ جب کوئی اجنبی ان کے جسم کو چھوئے گا تو اس کا رد عمل کیا ہو گا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہی وجہ تھی کہ میں نے چیس کو اپنے قریب آنے کی ذمہ داری اور موقع دیا۔ میں ایک اجبنی لڑکے کے ساتھ شراب خانے سے اس کے گھر نہیں جانا چاہتی تھی جہاں جا کر میں عجیب الجھن کا شکار ہوتی، خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی اور خوف زدہ رہتی۔‘

تو بس میلانیا کو اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ وہ چیس کے ساتھ وقت کو پُر لطف بنا سکتی ہیں اور انھیں کسی بھی موقع پر اپنے آپ کو محدود کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ اُن کی ٹانگیں غیر متوقع طور پر بے قابو ہو کر انھیں بستر سے گرا سکتی ہیں۔ لہٰذا چیس سے ملاقات کے بعد انھیں فزیوتھراپی سیشن کی ضرورت پیش آئی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مُجھے اس بات کا احساس ہوا کہ سب سے پہلے تو بستر پر میری ٹانگوں کو قابو میں کرنے کی ضرورت ہے باقی بس کسی چیز کی پریشانی نہیں۔‘

کسی انجان کے گھر پر ایک معذور فرد کے طور پر، میلانیا بہت سے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہو سکتی تھیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’یہ پہلا موقع تھا جب میں ہسپتال سے باہر کسی انجان کے سامنے برہنہ حالت میں تھی۔‘

چیس، جنھوں نے صدمے کا سامنا کرنے والے بہت سے لوگوں کے ساتھ کام کیا ہے، کہتے ہیں کہ ’میلانیا کو ایک محفوظ اور پُرسکون ماحول فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔‘

اس تعلق نے میلانیا کو اپنی زندگی کے تمام ہی پہلوؤں میں ایک نئی زندگی اور توانائی محسوس کرنے کا موقع دیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں جانتی تھی کہ چیس کو اس سروس کی ادائیگی کرنے سے میں اب بہت کنٹرول میں تھی۔ میں جانتی تھی کہ اگر چیس نے میرے ساتھ مختلف سلوک کیا یا کچھ ایسا کیا جو مجھے پسند نہیں تھا تو وہ رک جائے گا۔‘

میلانیا نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو وہ اس سے دوبارہ کبھی سروس نہ لیتیں۔ لیکن اس سب کی وہ ایک بھاری قیمت ادا کر رہی تھیں۔

چیس نے اپنے 48 گھنٹوں کی آمدن کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہزاروں میں ہے۔‘ وہ فی گھنٹہ کے حساب سے تقریباً 400 آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 74 ہزار پاکستانی روپے) وصول کر رہے تھے۔

اس رقم کی وصولی کی وضاحت کرتے ہوئے چیس کا کہنا تھا کہ ’بہت سے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ جب آپ کسی کے ساتھ 48 گھنٹے تک ہوتے ہیں، چاہے وہ کتنا ہی اطمینان بخش عمل کیوں نہ ہو، آپ کچھ اور نہیں کر پاتے جو آپ زندگی میں کرنا چاہتے ہیں، یہ سب آپ مجبوراً اور بس پیسے کمانے کے لیے کر رہے ہوتے ہیں۔‘

لیکن وہ مزید کہتے ہیں کہ وہ اپنے کام سے بہت زیادہ اطمینان حاصل کرتے ہیں۔

’کون لوگوں کی مدد نہیں کرنا چاہتا؟ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتا، جو کُچھ اچھا محسوس کرنا چاہتے ہیں اور جنھیں اس کی ضرورت ہے۔‘

میلانیا کہتی ہیں کہ ’چیس سے محبت نہ کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن مجھے یاد رکھنا ہو گا کہ یہ ایک پیشہ ورانہ اور عارضی تعلق ہے۔‘

میلانیا

،تصویر کا ذریعہMELANIE

،تصویر کا کیپشنچیس کی خدمات حاصل کرنے سے پہلے میلانیا کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ جب کوئی اجنبی ان کے جسم کو چھوئے گا تو اس کا رد عمل کیا ہو گا

میلانیا کہتی ہیں کہ ’میں چیس کے متبادل کی تلاش میں ہوں۔ کوئی ایسا شخص جو مجھ سے محبت کرے اور جو مجھے پسند ہو اور یہ سب مفت میں کرتا ہو۔‘

اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ڈیٹنگ ایپس پر جاؤں گی اور مردوں سے آن لائن بات کروں گی اور اب میں عملی طور پر روزانہ ایسا کر رہی ہوں۔ میرا واحد افسوس یہ ہے کہ میں نے ایسا کرنے میں بہت دیر کر دی۔‘

میلانیا کہتی ہیں کہ ’میرا اعتماد بڑھ گیا ہے، میں پہلے سے کہیں زیادہ خوش ہوں، اور یہ زندگی بدلنے والا تجربہ انمول ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میں شروع میں کچھ بھی کہنے میں تھوڑی شرمندگی محسوس کرتی تھی، لیکن اس سب نے میری زندگی میں بہت بڑی تبدیلی پیدا کی ہے۔ میرے سے رہا نہیں گیا اور میں یہ خبر سب لوگوں کے ساتھ شیئر کرنے سے رک نہیں سکی اور وہ سب بھی میرے لیے بہت خوش ہیں۔ میرے چہرے پر پر وقت مسکراہٹ رہتی ہے۔‘