ہریانہ: سکول پرنسپل پر 60 سے زیادہ طالبات کو ’جنسی ہراساں‘ کرنے کے الزامات کی حقیقت کیا ہے؟

طالبات

،تصویر کا ذریعہSAT SINGH/BBC

    • مصنف, ست سنگھ
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے

انڈین دارالحکومت دہلی سے ملحق ریاست ہریانہ کے جند ضلع کے ایک سرکاری سکول میں ماحول کشیدہ ہے اور طالبات کے چہروں پر خوف کے آثار دیکھے جا رہے ہیں۔

تقریباً دو ماہ قبل ضلع کے ایک گاؤں کے ایک سرکاری سکول میں تقریباً 60 طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

اس سلسلے میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی، خواتین کمیشن اور کئی اعلیٰ حکام کو خطوط لکھے گئے۔

خود سکول کے پرنسپل پر طالبات کے جنسی استحصال کا الزام ہے۔

اس معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے پرنسپل کو گذشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا اور اس متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ لیکن لڑکیوں میں اب بھی خوف و ہراس ہے۔

بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ

،تصویر کا ذریعہSAT SINGH/BBC

،تصویر کا کیپشنبیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ

سکول کا ماحول کیسا ہے؟

صبح کے تقریباً 11 بجے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے چار اراکین جند ہیڈ کوارٹر سے بچوں کو پوسکو یعنی بچوں کو جنسی استحصال سے حفاظت فراہم کرنے کے قانون اور چائلڈ ہیلپ لائن نمبر کے بارے میں بتانے آئے ہیں۔

جس سکول میں یہ واقعہ پیش آیا وہ لڑکیوں کا سکول ہے، جہاں گاؤں اور قصبوں کی لڑکیاں پڑھنے آتی ہیں۔

اس سکول میں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تعداد 40 ہے جن میں نصف کے قریب خواتین اساتذہ ہیں اور طالبات کی تعداد 1200 سے زائد بتائی جاتی ہے۔

اس وقت سکول کا ماحول ایسا ہے کہ طالبات کو کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

جیسے ہی اساتذہ کی نظر باہر سے آنے والے لوگوں پر پڑی، وہ طالبات کو آگے نہ آنے کا اشارہ کرتے نظر آئے۔

پورے سکول میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ ایک کیمرہ پرنسپل کے کمرے میں بھی لگایا گیا ہے اور پرنسپل کے کمرے میں مانیٹرنگ پینل بھی لگا دیا گیا ہے۔

سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ملزم پرنسپل گذشتہ چھ سال سے ایک ہی سکول میں بنا تبادلہ ہوئے کیسے تعینات رہا جبکہ باقی سٹاف کا اس عرصے میں متعدد بار تبادلہ کیا جا چکا ہے۔

لوگ یہ بھی الزام لگا رہے ہیں کہ ملزم کا تعلق بااثر سیاسی خاندان سے ہے اس لیے اس کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

ان پر یہ بھی الزام ہے کہ پرنسپل کی مبینہ حرکتوں کی وجہ سے کئی لڑکیاں سکول چھوڑ کر چلی گئیں۔

سکول

،تصویر کا ذریعہSAT SINGH/BBC

وزیراعظم سمیت کئی لوگوں کے نام گمنام خطوط

31 اگست کو ملک کے صدر جمہوریہ، وزیر اعظم، چیف جسٹس آف انڈیا، مرکزی خواتین کمیشن، ہریانہ خواتین کمیشن اور ہریانہ کے وزیر تعلیم کو پانچ صفحات پر مشتمل ایک گمنام خط بھیجا گیا تھا۔

اس میں طالبات نے شکایت کی تھی کہ انھیں جنسی ہراسانی کا سامنا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سکول پرنسپل طالبات کو کالے شیشے والے کیبن میں بلاتا ہے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے۔

خط میں قابل اعتراض انداز میں چھونے کا بھی ذکر ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایسا کرتے ہوئے پرنسپل نے طالبات کو دھمکی دی کہ اگر انھوں نے کسی کو بتایا تو انھیں پریکٹیکل اور امتحانات میں فیل کر دیا جائے گا۔

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعلامتی تصویر

سیاہ شیشے کی کیبن

خط میں لکھا ہے کہ کالے شیشے کے اس کیبن میں باہر سے کچھ نظر نہیں آتا جب کہ اندر سے باہر کا منظر صاف نظر آتا ہے۔

خط میں طلبہ کے حوالے سے کہا گیا کہ اگر اہلکار سکول کے باہر آکر طلبہ سے بات کریں گے تو وہ انھیں پرنسپل کی تمام حرکتیں بتائیں گی۔

خط میں ایک خاتون ٹیچر کا بھی ذکر ہے جس کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ پرنسپل کی ہدایت پر وہ طالبات کو کالے شیشے والے کیبن میں بھیجتی تھی۔

بہر حال اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد اب کالے شیشے والے کیبن کو ہٹا دیا گیا ہے۔

پرنسپل روم

،تصویر کا ذریعہSAT SINGH/BBC

،تصویر کا کیپشنپرنسپل روم

پرنسپل گرفتار

خط ملنے کے بعد 14 ستمبر کو خواتین کمیشن نے ہریانہ پولیس سے اس سلسلے میں کارروائی کرنے کو کہا۔ الزام ہے کہ پولیس نے کیس میں تاخیر کی اور ایک ماہ گزرنے کے بعد پرنسپل کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

اس معاملے میں پرنسپل کو گذشتہ ہفتے ہی گرفتار کیا گیا ہے۔ جند پولیس نے بتایا کہ پرنسپل کے خلاف دفعہ 354 (جنسی ہراسانی)، 341، 342 آئی پی سی اور پوسکو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھے

سکول

،تصویر کا ذریعہSAT SINGH/BBC

سکول کے عملے نے کیا کہا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سکول کے ایک مرد ٹیچر نے کہا کہ الزام پرنسپل پر عائد ہوتا ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں طالبات کے ساتھ کچھ غلط ہو رہا تھا تو عملے کے ارکان کو بھی اس کا علم ہونا چاہیے تھا۔

ٹیچر نے دعویٰ کیا کہ اسے اس معاملے کا علم اس وقت ہوا جب محکمہ تعلیم کی ٹیم تحقیقات کے لیے سکول پہنچی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس تین رکنی انسداد جنسی ہراسانی کمیٹی بھی ہے، لیکن انھیں بھی کچھ نہیں بتایا گیا۔ خط براہ راست اعلیٰ حکام کو بھیجا گیا تھا۔ اگرچہ اس کی صداقت کا علم تحقیقات کے بعد ہو گا تاہم کسی طالبہ یا والدین نے سکول کے عملے سے بات نہیں کی۔ واقعے کے بعد تمام اساتذہ صدمے میں ہیں کہ اتنا بڑا واقعہ ہوا اور انھیں خبر تک نہیں ہوئی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ سکول کا بیشتر سٹاف گذشتہ سال ٹرانسفر کے بعد آیا تھا اور اس وقت سکول میں کالے شیشوں والا کیبن بنا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں اس میں کوئی عجیب بات نہیں لگی اور نہ ہی وہ اس کے بارے میں کچھ بھی جانتے ہیں۔

ٹیچر نے بتایا کہ اس سکول کے دسویں اور بارہویں جماعت کے نتائج بہت اچھے رہے ہیں اور بیس، تیس طالبات میرٹ میں بھی آئی ہیں۔

سکولی طالبات

،تصویر کا ذریعہSAT SINGH/BBC

،تصویر کا کیپشنسکولی طالبات

’متاثرہ لڑکیاں بہت خوفزدہ ہیں‘

جند کی ضلع چائلڈ پروٹیکشن آفیسر سجاتا چائلڈ ویلفیئر ٹیم کے ساتھ سکول پہنچیں۔ انھوں نے کہا کہ متاثرہ اور دیگر طالبات صدمے میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لڑکیاں کھل کر بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہی ہیں اور ان کے والدین بھی اس وقت بات نہیں کر رہے۔

سجاتا کے مطابق ان سے بات کرنے اور انھیں سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ سکون محسوس کریں۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت متاثرہ لڑکیوں کی تعداد 60 سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کی کونسلر ممتا شرما کا کہنا ہے کہ طالبات بہت خوفزدہ ہیں اور ان کے ذہن میں کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن ماحول ان کے خلاف ہے۔ ممتا شرما کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا لڑکیوں کے ذہنوں پر گہرا اثر ہوا ہے اور مستقبل میں کچھ نئی چیزیں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔

پولیس نے ملزمان کے موبائل فون اور دیگر سم کارڈ بھی قبضے میں لے لیے ہیں۔

طالبات

،تصویر کا ذریعہSAT SINGH/BBC

’تحقیقات جاری ہیں‘

جند کے ڈپٹی کمشنر محمد اے راجہ نے کہا ہے کہ انھیں واٹس ایپ پر بھی خط موصول ہوا ہے اور انھوں نے اس پر کارروائی کی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کی اپنی تفتیش بھی جاری ہے، جس میں پرنسپل کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ڈائریکٹر آف سکول ایجوکیشن، پنچکولہ بھی اپنی جانچ کر رہے ہیں اور ہریانہ حکومت بھی کام کی جگہ پرجنسی ہراسانی کے قانون کے تحت تحقیقات کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ خواتین کمیشن کی تحقیقات بھی مختلف انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔