ریلوے میں پکی نوکری کا جھانسہ جس میں امیدواروں سے آتی جاتی ٹرینوں کی گنتی کروائی گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا ایسا بھی ممکن ہے کہ ریلوے میں نوکری کا جھانسہ دے کر لوگوں کو آتی جاتی ٹرینوں کی گنتی پر لگا دیا جائے؟
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس اسی نوعیت کی ایک شکایت پر تحقیقات کر رہی ہے جس میں قریب 28 مردوں سے کئی روز تک یہ کام لیا گیا۔
ان لوگوں کو یقین تھا کہ وہ انڈین ریلویز میں ملازمت کے لیے تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
ایک سابق فوجی افسر کا کہنا ہے کہ انھوں نے نہ جانتے ہوئے ان لوگوں کا رابطہ مبینہ جعلسازوں سے کرایا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جیسے ہی اس فراڈ کا علم ہوا تو انھوں نے پولیس کو اطلاع دی۔
مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق متاثرین نے نوکری کے حصول کے لیے دو لاکھ سے 24 لاکھ روپے تک ادا کیے۔
دلی پولیس کے مالی جرائم کے ونگ نے نومبر میں اس مبینہ جلعسازی کی تحقیقات شروع کیں تاہم اس حوالے سے مصدقہ اطلاعات گذشتہ ہفتے ہی موصول ہوئی ہیں۔
ریلوے میں نوکری کے ان خواہشمند افراد کا تعلق شمالی ریاست تمل ناڈو سے ہے۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ان افراد کو کہا گیا تھا کہ وہ دلی میں ایک ماہ تک روزانہ آٹھ گھنٹے مرکزی ریلوے سٹیشن کے مختلف پلیٹ فارمز پر کھڑے رہیں۔ وہاں انھیں یہ گنتی کرنا تھی کہ روزانہ سٹیشن سے کتنی ٹرینیں گزری ہیں۔
ان افراد سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انھیں ٹکٹ چیکر، ٹریفک اسسٹنٹ یا ریلوے کلرک کی آسامیوں پر بھرتی کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ انڈین ریلویز ملک کی بڑی سرکاری کمپنیوں میں سے ایک ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ بھی پڑھیے
متاثرین میں سے ایک شخص نے اخبار دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ کووڈ 19 کی عالمی وبا کے بعد وہ اپنے خاندان کی کفالت کے لیے مختلف طریقے تلاش کر رہے تھے۔ ’ہم تربیت حاصل کرنے کے لیے دلی گئے۔
’مگر ہمیں ٹرینوں کی گنتی کے کام پر لگا دیا گیا۔ ہمیں اس پر شکوک و شبہات تھے تاہم ملزم ہمارے پڑوسی کا اچھا دوست تھا۔ اب میں اس پر شرمندہ ہوں۔‘
پولیس سے شکایت کرنے والے سابق فوجی افسر سبوسوامی نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ وہ تمل ناڈو میں اپنے آبائی شہر ویرودھونگر کے نوجوان لڑکوں کی مدد کر رہے تھے تاکہ وہ ان کے لیے نوکریاں ڈھونڈ سکیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس میں ان کا ’کوئی مالی مفاد نہیں تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ وہ سوارامن نامی ایک شخص سے ملے تھے جن کا دعویٰ تھا کہ وہ ارکان اسمبلی اور وزرا سے رابطے میں ہیں اور بے روزگار لوگوں کو سرکاری نوکریاں دلوا سکتے ہیں۔
اسی لیے سبوسوامی نے بے روزگار افراد کا رابطہ اس شخص سے کروایا۔ وہ انھیں جعلی طبی معائنوں کے لیے بھی لے گئے۔ پھر ایک وقت آیا جب اس نے ان کے فون اٹھانا چھوڑ دیے۔
متاثرین میں سے بعض کا کہنا ہے کہ انھوں نے ادھار لے کر اور قرض اٹھا کر مبینہ جعلسازوں کو پیسے دیے تھے۔
انڈیا میں اکثر سرکاری نوکریوں سے متعلق جعلسازیوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ لاکھوں نوجوان انھیں پکی اور مستحکم نوکری سمجھ کر مجبوری میں اس دھوکے کی زد میں آ جاتے ہیں۔
مارچ 2021 میں جنوبی شہر حیدرآباد میں سینکڑوں امیدواروں کو دھوکہ دینے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کیس میں بھی ریلوے کی نوکری کا جھانسہ دے کر امیدواروں کا استحصال کیا گیا تھا۔










