اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات سخت: سکیورٹی میں سختی سے ہی چند روز قبل ’خودکش حملہ آور کو روکنے میں کامیاب ہوئے‘

اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو

ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافے کے بعد اسلام آباد پولیس نے وزارت داخلہ کی ہدایت پر وفاقی دارالحکومت اور بالخصوص ریڈ زون میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں اور وہاں پر قائم سرکاری عمارتوں کے باہر فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے یعنی نیکٹا کے توسط سے متعدد رپورٹس موصول ہوئی تھیں جس میں خفیہ اداروں کی طرف سے اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ کالعدم تحریک طالبان کے جو شدت پسند فوجی آپریشن کے بعد زیر زمین چلے گئے تھے، اب دوبارہ متحرک ہوگئے ہیں اور وہ ایک مرتبہ پھر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے شدت پسندی کی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

چند روز قبل داخلہ امور سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں نیکٹا کے حکام نے بتایا تھا کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان مذاکرات کی آڑ میں ملک کے مختلف شہروں میں خود کو مضبوط کر رہی ہے اور اس ضمن میں اس تنظیم کے مختلف دھڑے بھی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔

نیکٹا کے حکام کی طرف سے قائمہ کمیٹی کے ارکان کو یہ بھی بتایا گیا کہ سوات میں جب اس تنظیم کے کارکنوں نے اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تو وہاں پر لوگوں کی طرف سے شدید ردعمل اور ریاستی عمل دادری کو یقینی بنانے کے بعد اس کالعدم تنظیم کے کارکن بظاہر خاموشی سے بیٹھ گئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے دوسرے شہروں میں اپنے ٹھکانے بنانے اور مقامی سہولت کاروں کی مدد سے وہاں پر اپنی سرگرمیوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق خفیہ اداروں کی ان رپورٹس کی روشنی میں اسلام آباد پولیس کے حکام کو شہریوں اور سفارت کاروں کی سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہReuters

اسلام آباد پولیس کے حکام کے مطابق ان ہدایات کی روشنی میں شہر میں پولیس کا گشت بڑھانے کے ساتھ ساتھ کچھ ناکوں کو دوبارہ بحال کرنا شروع کر دیا گیا ہے جنھیں گذشتہ دورِ حکومت میں ختم کر دیا گیا تھا۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان جواد تقی کے مطابق ’پولیس کی نفری بڑھانے اور ناکے بحال کرنے کی وجہ سے ہی پولیس اہلکار چند روز قبل ایک خودکش حملہ اور کو روکنے میں کامیاب ہو گئے تھے‘ تاہم اس واقعے میں مبینہ دہشت گرد کے علاوہ ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں واقع فائیو سٹار ہوٹلز کے باہر سکیورٹی میں اضافہ 23 دسمبر کو دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنانے کے بعد ہی کسی مزید ممکنہ شدت پسندی کے واقعے کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اس واقعے سے متعلق وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا تھا کہ مبینہ دہشت گرد کسی ’ہائی ویلیو ٹارگٹ‘ کے پیچھے تھا تاہم انھوں نے اس ہائی ویلیو ٹارگٹ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

اس واقعے سے ایک روز قبل بھی اسلام آباد پولیس کے ترجمان کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پولیس نے خفیہ اداروں کی مدد سے کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں آتشیں اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس کارروائی کے دوران جو اسلحہ قبضے میں لیا گیا ہے اس میں ہینڈ گرنیڈ کے علاوہ آتش گیر مادہ اور ڈیٹونیٹرز شامل ہیں۔ اس واقعے میں جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان سے نامعلوم مقام پر تفتیش کی جا رہی ہے۔

اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہEPA

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق ڈپلومیٹک انکلیو کے علاوہ اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں بھی سکیورٹی سخت کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کی گشت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے کی طرف سے ایک سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے جس میں انھوں نے سفارت خانے کے سٹاف کو اسلام آباد میں واقع ایک فائیو سٹار ہوٹل میں جانے سے منع کیا ہے۔ اس سکیورٹی الرٹ کے مطابق امریکی حکومت اس بات سے آگاہ ہے کہ کچھ نامعلوم افراد اس ہوٹل میں ممکنہ طور پر امریکیوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

 اس کے علاوہ اس سکیورٹی الرٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ اسلام آباد میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے، اس لیے پاکستان کے دوسرے شہروں میں امریکی مشن کے لوگ چھٹیوں کے دوران اسلام آباد آنے سے اجتناب کریں۔

اسی طرح کی ایک ٹریول ایڈوائزری برطانیہ کے دفترِ خارجہ کی طرف سے بھی جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانوی شہری صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں بشمول باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاوہ چارسدہ، کوہاٹ، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان سوات، بونیر اور لوئر دیر کا سفر نہ کریں۔ 

اس کے علاوہ اس ایڈوائزری میں بلوچستان کے کچھ علاقے بھی شامل ہیں جن میں سفر نہ کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

اس ٹریول ایڈوائزری میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے جاری ہونے والے تھریٹ الرٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔