ٹی ٹی پی میں مکران سے شامل ہونے والا گروہ کون ہے اور کیا اس سے شدت پسند کارروائیوں میں تیزی آئے گی؟

عسکریت پسند

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان میں دہشت گردی کے سائے پھر منڈلانے لگے ہیں، بنوں کینٹ کا واقعہ ہو یا دو روز قبل پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والا خودکش دھماکہ، یہ تمام واقعات اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ دہشت گرد عناصر ایک بار پھر منظم کارروائیوں کے لیے متحرک ہو رہے ہیں۔

اسلام آباد میں ہونے والے خود کش دھماکے کے بعد کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے نہ صرف اس حملے کی ذمہ داری قبول کی بلکہ ملک کے سورش زدہ صوبے بلوچستان کے علاقے مکران کے ایک عسکریت پسند گروہ کا ٹی ٹی پی سے بیعت کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

مکران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو پہلے ہی سے بلوچ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں سے متاثر ہیں جس کے باعث وہاں نیم فوجی دستوں کے ساتھ فوج کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

مکران میں ٹی ٹی پی کے ساتھ شامل ہونے والے لوگ کون ہیں اور مکران میں ان کی کارروائیوں کے کیا اثرات پڑ سکتے ہیں، ہم نے اس بارے میں سکیورٹی امور کے ماہرین سے بات کی ہے۔

مکران سے شمولیت کرنے والے کون ہیں؟

کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی کے مطابق بلوچستان کے مکران ڈویژن سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے ٹی ٹی پی کے امیر ابو منصور عاصم مفتی نور ولی کے ہاتھ پر ہجرت و جہاد کی بیعت کی ہے۔

ٹی ٹی پی نے مکران کے حوالے سے بیعت کرنے والوں کے بارے میں جو بیان جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ’مزار بلوچ کی قیادت میں بیعت کرنے والی یہ جماعت مثبت ماضی کی حامل ہے۔‘

اس سلسلے میں پاکستان میں سکیورٹی امور کے ماہر اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر معروف لوگ ہیں۔ جن لوگوں کا ٹی ٹی پی نے ذکر کیا ہے وہ پہلے کسی سرگرمی میں ملوث نہیں رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگرچہ پہلے بھی طالبان کا سپورٹ نیٹ ورک تھا لیکن یہ ان سے باقاعدہ وابستہ نہیں رہے۔‘

عسکریت پسند

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیئر تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ ماننا تھاکہ یہ معروف لوگ نہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ مکران میں مذہبی لوگ اور رہنما ہیں لیکن کسی مذہبی جماعت نے مکران سے کسی انتخاب میں اب تک کامیابی حاصل نہیں کی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اکا دکا مذہبی رحجانات کے حامل افراد انفرادی طور پر انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں لیکن کسی مذہبی تنظیم کو یہاں سے کوئی کامیابی نہیں ملی۔‘ 

انھوں نے کہا کہ آگے چل کر یہ لوگ مکران میں یا کسی اور علاقے میں اگر کوئی کارروائی کرتے ہیں تو اس سے پتا چل جائے گا کہ یہ کتنا مؤثر گروہ ہے لیکن تاحال یہ کوئی منظم گروہ نہیں، شاید کچھ انفرادی لوگ ہوں گے جو اپنا ونگ بنانا چاہتے ہیں۔

ٹی ٹی پی بلوچستان کے کن علاقوں میں زیادہ کارروائیاں کرتی رہی ہے؟

سورش کے بعد سے بلوچستان میں بدامنی کے جو واقعات پیش آ رہے ہیں ان میں سے بعض کی ذمہ داری دیگر شدت پسند تنظیموں کی طرح تحریک طالبان پاکستان بھی قبول کرتی رہی ہے۔

لیکن تحریک طالبان پاکستان جن کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے، وہ کوئٹہ یا بلوچستان کے پشتون علاقوں تک محدود رہی ہیں۔

اگرچہ تحریک طالبان کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ مکران ڈویژن سے قبل رخشان ڈویژن میں نوشکی سے بھی ایک گروہ نے ان سے بیعت کی تھی لیکن نوشکی یا اس سے متصل کسی اور علاقے سے ٹی ٹی پی کی جانب سے کسی واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ مکران میں مذہبی عسکریت پسندی کے حوالے سے کوئی معروف گروہ نہیں رہا تاہم کچھ ایسے لوگ ضرور تھے جو پرائیویٹ سکولوں کے خلاف تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ مذہبی شدت پسندی کے حوالے سے ایرانی شہریت رکھنے والے بعض لوگ مکران آتے رہے ہیں جن میں ملا عمر نامی ایک شخص بھی تھا جو اپنے بیٹوں کے ساتھ کچھ عرصہ قبل ضلع کیچ میں مارا گیا۔

عسکریت پسند

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عامر رانا کا کہنا ہے کہ پہلے مکران میں ایسی بڑی کوئی پیش رفت نہیں تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ’پنجگور میں کچھ گروہ تھے جو طالبان کی حمایت کرتے تھے اور انھوں نے ان کے حق میں کچھ چیزیں کی بھی تھیں۔ طالبان کے ساتھ شامل ہونے والے وہی لوگ ہو سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا اس علاقے میں ایران میں کارروائی کرنے والی شدت پسند تنظیم جیش العدل کے لوگوں کے بارے میں امکان تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ جا سکتے ہیں لیکن انھوں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا اور وہ آزادانہ طور پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’طالبان کے ساتھ شامل ہونے والوں نے منظم کارروائی کی تو مکران پر اثر پڑے گا‘ 

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بلوچستان میں جتنی بھی کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں ہیں وہ سیکولر پس منظر رکھنے والی تنظیمیں ہیں۔ مکران کے مختلف علاقوں میں یہ عسکریت پسند تنظیمیں بعض مذہبی پس منظر رکھنے والے لوگوں کے خلاف کارروائیاں بھی کرتی رہی ہیں۔

اس تناظر میں ایک سوال پر عامر رانا کا کہنا تھا کہ مکران میں عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لیبریشن فورس (بی ایل ایف) اور بلوچستان لیبریشن آرمی (بی ایل اے) بعض مذہبی پس منظر رکھنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرتی رہی ہیں لیکن وہ ایسے لوگ تھے جن کو یہ ڈیتھ سکواڈ قرار دیتے رہے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ گروہ جس نے ٹی ٹی پی کے ساتھ اتحاد کیا ہے، وہ ڈیتھ سکواڈ نہیں تو بلوچ عسکریت پسند اور ان کے درمیان تعاون کے امکانات ہو سکتے ہیں۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ایسا ہونے سے دنیا میں سیکولر اور مذہبی پس منظر رکھنے والے لوگوں کا یہ کوئی پہلا اتحاد نہیں ہو گا بلکہ اس سے قبل ایران اور دنیا کے دیگر حصوں میں نظریاتی اختلاف رکھنے والے گروہوں کے درمیان تعاون رہا ہے۔ 

وہ کہتے ہیں کہ ’اگرچہ ان کے درمیان نظریاتی اختلاف ہے لیکن ان کے درمیان اتحاد کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ ایک علاقے میں جب دو متحارب گروہ ہوں تو کبھی نہ کبھی ان کی آپریشن کوآرڈینیشن بڑھ جاتی ہے۔ اس کے امکانات ہیں اور اگر ایسا ہوا تو یہ خطرناک ہوگا۔‘

عسکریت پسند

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شہزادہ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ اگر تحریک طالبان کا یہ دعویٰ درست ہے تو وہ یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ مکران جو کہ قوم پرستوں کا گڑھ ہے وہاں بھی اس کا اثر ہے اور وہاں سے بھی لوگ اس میں شامل ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ گروہ کتنا مؤثر ہو گا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن اگر یہ منظم ہوا اور اس نے کوئی کارروائیاں کیں تو مکران پر اس کا اثر پڑے گا اور اس سے ان کا کام آسان ہو گا جو پہلے سے وہاں اس نوعیت کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر واقعی یہ تربیت یافتہ لوگ ہیں اور اگر بلوچ عسکریت پسندوں اور ان کے درمیان کوئی تعاون ہوا تو وہ حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ صرف ایک گروہ ہے جس کو طالبان نے میڈیا میں توجہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا ہے تاکہ حکومت کو پریشان کیا جاسکے تو اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

مکران ڈویژن کی اہمیت

انتظامی لحاظ سے مکران بلوچستان کے تین اضلاع گوادر ،کیچ اور پنجگور پر مشتمل ہے۔ ان تینوں اضلاع کی طویل سرحد مغرب میں ایران سے لگتی ہے۔

 مکران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں صرف مختلف بلوچ قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔

اس ڈویژن کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں بھی ہوتا ہے جہاں تعلیم کی شرح بھی زیادہ ہے ۔

اگرچہ مکران کے لوگوں کا تعلق بلوچستان کے مختلف قبائل سے ہے لیکن وہاں قبائلی نظام اس طرح مضبوط نہیں جس طرح قلات ڈویژن، سبی ڈویژن، نصیرآباد ڈویژن یا بلوچستان کے بعض دیگر علاقوں میں ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )کے اہم منصوبوں کا مرکز گوادر نہ صرف مکران ڈویژن کا حصہ ہے بلکہ گوادر پورٹ کو بلوچستان یا پاکستان کے دیگر علاقوں سے منسلک کرنے والے راستے بھی مکران کے مختلف علاقوں سے ہو کر گزرتے ہیں۔