بنوں میں سی ٹی ڈی دفتر پر حملہ: دہشتگردی سے تحفظ کا ذمہ دار محکمہ خود کیسے نشانہ بن گیا؟

بنوں

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کے دفتر میں پیش آنے والا واقعہ حیران کن اس لیے بھی ہے کہ زیر حراست ملزمان نے کیسے سکیورٹی اہلکاروں کو اسلحے کی نوک پر یرغمال بنایا۔ 

منگل کو رات گئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ 35 شدت پسندوں نے یہ صورتحال پیدا کی تھی جن میں سے 25 سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے، سات نے ہتھیار ڈالے اور تین فرار کی کوشش میں گرفتار ہوئے۔

سی ٹی ڈی بنوں کے دفتر میں دو کمرے حوالات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں جہاں دیگر ملزمان کے ساتھ شدت پسندوں کو بھی تفتیش کے لیے لایا گیا تھا۔

اتوار کے روز شدت پسندوں نے ایک اہلکار سے اسلحہ چھین کر وہاں موجود تمام اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا جس کی ایک بڑی وجہ اس دفتر میں عملے کی کمی بھی بتائی گئی ہے۔ 

اتوار کے روز اس دفتر میں کل سات سے آٹھ اہلکار موجود تھے جن میں کچھ سکیورٹی اہلکار شدت پسندوں سے تفتیش کے لیے آئے تھے۔ 

سی ٹی ڈی بنوں کا دفتر کیسا ہے؟

بنوں میں انسداد دہشت گردی کے جس دفتر میں حملہ ہوا، یہ ریجنل ہیڈ کوارٹر ہے اور چھاؤنی میں کرائے کے مکان میں قائم کیا گیا ہے جبکہ سی ٹی ڈی کی اپنی عمارت زیر تعمیر ہے۔ صوبے میں کُل چار ریجنل ہیڈ کوارٹرز ہیں۔ 

اس دفتر میں چھ کمرے ہیں اور ایک سرونٹ کوارٹر کے دو کمرے ہیں۔ یہ مکان کوئی ایک سے ڈیڑھ کنال کے رقبے پر واقع ہے۔

سرونٹ کوارٹر کے دو کمرے حوالات کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں جہاں ان ملزمان کو رکھا جاتا ہے جن سے پوچھ گچھ یا تفتیش کرنی مقصود ہوتی ہے۔ اس عمارت میں باقی کمرے دفتری امور کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ 

پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بنیادی طور پر ان ملزمان کو بنوں کے منڈان کے علاقے میں سی ٹی ڈی انسداد دہشت گردی کے محکمے کے تھانے میں رکھا جاتا ہے لیکن جب ان ملزمان سے پوچھ گچھ یا کسی قسم کی تفتیش کی جاتی ہے تو انھیں یہاں چھاؤنی میں قائم دفتر میں لایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ تفتیش کے لیے لائے گئے ملزمان میں زیادہ تر کالعدم تنظیم کے تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ لوگ تھے جن میں ٹی ٹی پی کے ایک مقامی کمانڈر ضرار شامل تھے۔ 

اس دفتر میں اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے بعد کمانڈر ضرار کی ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں وہ اس عمارت میں موجود ہیں اور اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے ہیں۔

بنوں

،تصویر کا ذریعہReuters

وسائل کی کمی

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک سال کے دوران تشدد کے 700 سے زیادہ واقعات میں 300 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے لیکن اس شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے قائم انسداد دہشت گردی کے محکمے کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ 

قومی سلامتی کی ایک کمیٹی میٹنگ میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کا بجٹ صوبہ پنجاب کے بجٹ کے نصف سے بھی کم ہے اور آپریشنل ڈیوٹیز پر بجٹ کا صرف چار فیصد ہی خرچ ہو پاتا ہے جبکہ 96 فیصد تنخواہوں میں چلا جاتا ہے۔ 

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں ایک سال میں تشدد کے متعدد واقعات ہوئے جبکہ اس محکمے کا بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ 

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا میں حالات انتہائی ابتر ہیں اور یہاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قائم محکمے کے پاس وسائل ہیں اور نہ ہی اہلکاروں کی تربیت کا کوئی پروگرام اس وقت موجود ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیے

صوبہ پنجاب میں گذشتہ ایک سال میں دہشت گردی کے پانچ واقعات پیش آئے ہیں جن میں تین افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں تشدد کے 704 واقعات پیش آئے جن میں 305 افراد ہلاک اور 689 زخمی ہوئے ہیں۔ اسی طرح ایک سال میں 93 شدت پسند ہلاک ہوئے اور ان میں بیشتر سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مارے گئے ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے اتنے واقعات اور گھمبیر صورتحال کے باوجود اہلکاروں کی تربیت اور اس سے نمٹنے کے لیے کوئی باقاعدہ پروگرام نظر نہیں آ رہا۔ 

اسی طرح رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں اس محکمے کے اہلکاروں کی تعداد انتہائی کم ہے اور جو تعینات کیے گئے ہیں وہ ماضی کی لیویز یا خاصہ دار فورس سے لیے گئے ہیں جن کی اس بارے میں کوئی تربیت نہیں۔ 

بنوں

،تصویر کا ذریعہEPA

’پیٹرول بھی خود ڈلوانا پڑ رہا ہے‘

اس محکمے کے بجٹ کو دیکھیں تو صوبہ پنجاب کے 4.7 ارب روپے کے مقابلے میں خیبر پختونخوا کا بجٹ 2.18 ارب روپے ہے۔ خیبر پختونخوا کے بجٹ کا 96 فیصد تنخواہوں کے لیے مختص ہے اور دہشت گردی سے لڑنے کے لیے صرف چار فیصد بجٹ رکھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ اہلکاروں کی کمی، ہتھیاروں اور سکیورٹی کے لیے دیگر ضروریات کی کمی بھی محکمے کو درپیش ہے جبکہ موجودہ اہلکاروں کی تربیت کے لیے بھی کوئی پروگرام نظر نہیں آ رہا۔ 

اسی طرح صوبہ پنجاب میں سائبر ٹیکنالوجی کی اعلیٰ سہولیات ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کے پاس اس طرح کی کوئی سہولت نہیں۔

اس سلسلے میں انسداد دہشت گردی کے ایک افسر سے بات چیت ہوئی تو انھوں نے اپنے ضلع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ضرورت کے لیے ضلع میں پانچ ڈی ایس پیز ہونے ضروری ہیں جبکہ ان کے پاس صرف ایک ڈی ایس پی ہے، اسی طرح انھیں پیٹرولنگ اور دیگر سرکاری کاموں کے لیے گاڑی استعمال کرنی ہوتی ہے جس کا پیٹرول اب ان کی برداشت سے باہر ہے جبکہ اس کے لیے فنڈز بھی جاری نہیں کیے جا رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں جس طرح اضافہ ہوا ہے اس حساب سے وہ اس موجودہ بجٹ میں مشکل سے گزارا کرتے ہیں۔