پاکستان نے ٹی20 سیریز میں آسٹریلیا کو کلین سویپ کردیا: محمد نواز کی پانچ وکٹیں اور ’بابر اعظم ورلڈ کپ کے لیے مکمل تیار‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے آسٹریلیا کو تیسرے ٹی 20 میچ میں 111 رنز سے شکست دے کر تین ٹی 20 میچوں کی سیریز میں کلین سویپ کر لیا ہے۔
208 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی ٹیم صرف 96 رنز پر ڈھیر ہو گئی، آسٹریلیا کے سات کھلاڑی ڈبل فگرز میں بھی داخل نہ ہو سکے جبکہ اوپنر مچل مارش اور میتھیو شارٹ بھی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔
آسٹریلیا کی جانب سے مارکوس سٹوائنس 22 گیندوں پر 23 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے جبکہ کیمرون گرین 24 گیندوں پر 22 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
پاکستان کی جانب سے محمد نواز نے چار اوورز میں صرف 18 رنز کے عوض پانچ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ شاہین شاہ آفریدی نے دو جبکہ ابرار احمد اور نسیم شاہ نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
اس سے قبل پاکستان نے بابر اعظم اور صائم ایوب کی نصف سینچریوں کی بدولت تیسرے اور آخری ٹی20 میں آسٹریلیا کو جیت کے لیے رنز208 کا ہدف دیا تھا۔
قذافی سٹیڈیم میں لاہور میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے مسلسل تیسرا ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
پاکستان کو اننگز کے آغاز پر ہی اُس وقت نقصان اُٹھانا پڑا جب 14 کے مجموعی سکور پر فخر زمان میتھیو شارٹ کی گیند پر کیمرون گرین کو کیچ تھما بیٹھے۔ فخر نے سات گیندوں پر 10 رنز بنائے۔
پاکستان کا مجموعی سکور 34 ہوا تو کپتان سلمان علی آغا تین گیندوں پر پانچ رنز بنا کر بین دروشوئس کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ کیمرون گرین نے ہی اُن کا بھی کیچ لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاور پلے میں دو وکٹیں گنوانے کے بعد اوپنر صائم ایوب نے بابر اعظم کے ساتھ مل کر پاکستان کا سکور 12 ویں اوور میں 103 تک پہنچا دیا، جہاں صائم ایوب ہمت ہار بیٹھے۔
وہ میتھیو کوہنیمن کی گیند پر بڑی شاٹ کھیلنے کی کوشش میں آؤٹ ہوئے۔ اُن کا کیچ میٹ رنشا نے لیا۔ صائم ایوب نے دو چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 37 گیندوں پر 56 رنز بنائے۔
پاکستان کی چوتھی وکٹ 131 رنز پر گری جب خواجہ نافع دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 12 گیندوں میں 21 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اُنھیں کوپر کنولی نے پویلین کی راہ دکھائی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی پانچویں وکٹ 188 رنز پر گری جب شاداب خان نے پانچ چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 19 گیندوں پر 46 رنز بنائے۔ محمد نواز پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ بابر اعظم 36 گیندوں پر 50 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ کے لیے پاکستان کی ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئیں، عثمان طارق اور عثمان خان اور صاحبزادہ فرحان کی جگہ خواجہ نافع، فہیم اشرف اور فخر زمان کو سکواڈ میں شامل کیا گیا۔
پاکستان تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے پہلے دو میچز میں کامیابی کے ساتھ سیریز پہلے ہی اپنے نام کر چکا ہے۔ پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں آسٹریلیا کو 22 رنز جبکہ دوسرے میں 90 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی تھی۔
پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں کامیابی کے ساتھ ہی سات سال بعد آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچ میں کامیابی حاصل کی تھی۔
’بابر اعظم اب ورلڈ کپ کے لیے تیار ہیں‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پہلے دو میچز میں ناقص کارکردگی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بننے والے بابر اعظم نے تیسرے میچ میں ایک چھکے اور تین چوکوں کی مدد سے 36 گیندوں پر 50 رنز بنائے۔
سوشل میڈیا پر بھی بابر اعظم کی اننگز کی تعریف ہو رہی ہے۔
صارف فرید خان لکھتے ہیں کہ ’اب بابر اعظم ورلڈ کپ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘
سلمان نامی صارف لکھتے ہیں کہ نمبر چار پر بیٹنگ کرتے ہوئے، بابر اعظم نے ففٹی بنائی، اُنھیں مسلسل ٹرول کیا گیا۔ ٹیم سے ڈراپ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن بابر اعظم نے بلے سے جواب دیا۔ یہ ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کے لیے اچھے اشارے ہیں۔
معاز نامی صارف نے لکھا کہ بابر اعظم نے اپنی ففٹی پر کوئی جشن نہیں منایا، اُنھوں نے ایک اینڈ سے اننگز کو سنبھالے رکھا۔ لیکن ہم نے انھیں مسلسل ٹرول کیا۔
بعض صارفین فخر زمان کی ناقص کارکردگی پر بھی تنقید کر رہے ہیں۔
عظیم صدیقی نامی صارف نے لکھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ فخر زمان اب بھی پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں کیوں شامل ہیں، اُنھیں خود یہ جگہ چھوڑ دینی چاہیے۔
محمد عدنان نامی صارف لکھتے ہیں کہ فخر زمان کریز پر بے چین نظر آتے ہیں، اُن کے پاس ردھم نہیں ہے اور یہ ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان کے لیے تشویش کی بات ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیمرون گرین کے اشارے پر عثمان طارق کا جواب
پاکستان ٹیم نے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں سپنر عثمان طارق کو شامل نہیں کیا۔ لیکن سنیچر کو دوسرے میچ کے دوران عثمان کی گیند پر کیچ آؤٹ ہونے کے بعد پویلین لوٹتے ہوئے آسٹریلوی آل راونڈر کیمرون گرین کے اشارے سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔
اپنے منفرد بولنگ سٹائل کی وجہ سے عثمان طارق پہلے بھی شہ سرخیوں میں جگہ بناتے رہے ہیں، لیکن کیمرون گرین نے پویلین لوٹتے ہوئے عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کی نقل اُتاری اور بظاہر اُن پر چکنگ کا الزام لگایا۔
عثمان طارق سنیچر کو اپنا تیسرا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل رہے تھے۔ اُنھوں نے 2٫4 اوورز میں 16 رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں۔
آسٹریلین ٹیم یا امپائرز کی جانب سے عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی گئی۔ تاہم 28 سالہ سپنر کے ایکشن پر انڈیا، پاکستان اور آسٹریلیا میں سابق کھلاڑی اور سوشل میڈیا صارفین تبصرے کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خود عثمان طارق نے اتوار کو اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر ایک ہنستے ہوئے ایموجی کے ساتھ ایک روتے ہوئے بچے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کپشن میں لکھا کہ ’آؤٹ ہونے کے بعد۔‘
سیج صادق نامی صارف نے ایکس پر کیمرون گرین پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ کرکٹرز کو صرف کرکٹ کھیلنی چاہیے اور یہ معاملہ امپائرز پر چھوڑنا چاہیے۔
آسٹریلوی کرکٹ براڈ کاسٹر پال ڈینیٹ نے ایکس پر لکھا کہ عثمان طارق بہتر کے مستحق ہیں۔ ان کے بولنگ ایکشن کا دو مرتبہ جائزہ لیا گیا اور اُنھیں کلیئر قرار دیا گیا۔ اس معاملے پر سوشل میڈیا پر غیر ضروری شور مچایا جا رہا ہے۔
ضیا رندھاوا نامی صارف نے لکھا کہ کیمرون گرین آؤٹ ہونے کے بعد عثمان طارق کے باؤلنگ ایکشن کے بارے میں شکایت کر رہے ہیں۔یاد رہے عثمان طارق کا باؤلنگ ایکشن آئی سی سی نے کلیئر کر دیا ہے اور مکمل قانونی ہے۔










