ہمارے اردگرد موجود ذرات جو ہمارے سیارے کی تاریخ محفوظ رکھے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانسیسی بندرگاہ پر موجود خوردبینی جانداروں کو دوسری عالمی جنگ کے بعد کبھی بھی نہیں دیکھا گیا تھا۔
سنہ 2012 سے سنہ 2017 کے درمیان ریفائیلی سیانو نے برسٹ بندرگاہ پر سمندر کی تہہ میں موجود ذرات کو نکالا تو وہ انھیں معلوم بھی نہیں تھا کہ انھیں کیا ملنے والا ہے۔
جب انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے سمندر پر سائنسی تحقیق کے حوالے سے موجود فرانسیسی انسٹیٹیوٹ میں ان نمونوں کا تجزیہ کیا تو انھیں کچھ ڈی این اے ملےـ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کوئی بہت زبردست چیز دریافت ہوئی ہے۔
سنہ 1941 سے پہلے کی قدیم ترین اور گہری ترین تہہ میں پلانکٹون کی باقیات ملیں جنھیں ڈائنو فلیگلیٹس کہا جاتا ہے۔ جو حیرت انگیز طور پر سمندر کی سطح سے ملنے والے پلانکٹون کی جنیات سے مختلف ہیں۔
سیانو کا کہنا ہے کہ دوسری عالمی جنگ سے قبل ان ڈائنو گلاجیلیٹس کا ایک گروپ ہے ایک گروہ بہت زیادہ تعداد میں موجود تھا اور پھر دوسری عالمی جنگ کے بعد وہ تقریباً ناپید ہو گیا۔
سیانو اور ان کے ساتھیوں نے اس تحقیق میں سامنے آنے والے نتائج کو سنہ 2021 میں شائع کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہوا یہ تھا کہ برسٹ ہاربر کو عالمی جنگ کے دوران بموں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسی ساحل پر سنہ 1947 میں ناروے کا ایک کارگو جہاز تباہ ہوا تھا۔ اس حادثے میں 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں ایلومینیم نائٹریٹ، زہر آلود کیمیکل جسے کھاد بنانے اور دھماکہ خیز مواد بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے سمندر میں پھیل گیا۔
بندرگاہ پر سمندر کی تہہ میں آنے والے سالوں جیسا کہ 1980 اور 1990 کی دہائی میں پلانکٹون کمیونٹی میں زید تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سیانو کہتے ہیں کہ ’ہم نے اس کا موازنہ زرعی سرگرمیاں کی وجہ سے ہونے والی آلودگی کی اقسام سے کیا۔‘
چیزوں کو یاد رکھنے کا قدرت کا ایک طریقہ کار ہے۔ انسانوں کی کچھ خاص سرگرمیاں خاص طور پر جو شدید آلودگی سے متعلق ہوں، کبھی کبھار وہ درختوں کے اندر، ساحل کی ریت اور مٹی پر اور ہمارے ماحولیاتی نظام میں دکھائی دیتی ہیں۔
اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انسانی تاریخ ہمارے سیارے کے ہر تانے بانے پر لکھی گئی ہے۔
سیانو اور ان کے ساتھی جو کہ بنیادی طور پر ماہرین ماحولیات ہیں مگر انھوں نے تاریخ دانوں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔
سیانو کہتے ہیں کہ زمین انسانی اثرات اور تاریخی واقعات کی وجہ سے بدل گئی۔
جب اس ٹیم نے برسٹ پر موجود سمندر کی تہہ کی ریت اور مٹی کا تجزیہ کیا تو انھیں یہ بھی پتہ چلا کہ اس میں بتدریج دھاتی آلودگی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی تھی۔
مثال کے طور پر اس کی نئی تہوں میں پارے، تانبے، لیڈ اور زنک کی بڑی مقدار موجود تھی۔
اس رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے ہوائی کے امریکی بحری اڈے، پرل ہاربر پر اسی پیمانے پر ان دھاتوں خاص طور پر لیڈ اور کرومیم موجود تھا جسے جاپانی جنگی جہازوں نے سنہ 1941 میں بموں سے نشانہ بنایا۔
سیانو نے کہا کہ وہ یقینی طور پر اس بارے میں وثوق سے نہیں کہ سکتے ہیں کہ یہ دھاتیں بموں سے براہ رات یہاں پہنچی ہیں۔
دونوں طرح سے بریسٹ اور پرل ہاربر دونوں میں انسانی تاریخ میں ایک تباہ کن، اور آلودگی پھیلانے والے لمحے کا اشارہ ہے ملتا ہے۔
دیگر تحیق کاروں نے بھی انسانی آلودگی کے ارضیاتی ریکارڈ کی تلاش میں سیارے کو چھان مارا ہے۔
چین میں سمندر میں مٹی کی تہہ میں سنہ 1950 کے بعد سے دھاتی آلودگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جس کا تعلق بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں فضائی آلودگی میں ہونے والے اضافے سے ہے۔
ایک اور الگ تحقیق میں یہ دیکھا گیا ہے کہ چین کے مخصوص حصوں میں کیسے صنعتوں کی آمد مثلاً جہاز بنانے کے عمل کو درختوں کے تنوں میں دھاتوں کی زیادہ موجودگی سے جوڑا جا سکتا ہے۔
حتیٰ کہ صدیوں پہلے رومی دھات کارینے بھی اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔
سنہ 2022 میں ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ یورپ میں برف، سمندر کی تہہ کی مٹی اور ناریل کی چھال کے اندر سیسے کی مقدار میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے، اس کا تعلق رومی صنعت کی ترقی سے ہے۔
تحقیق لکھنے والوں نے لکھا کہ کبھی کبھار یہ مشکل ہوتا ہے کہ کس مخصوص واقعے نے سیسے کی آلودگی میں اضافہ کیا ہے۔
جین لوس لوئزیو جینیوا یونیورسٹی میں طالب علم ہیں، انھوں نے وہاں جینیوا جھیل کی تہہ میں موجود مٹی اور ریت سمیت دیگر باقیات کے بارے میں پڑھا۔ خاص طور پر جھیل کے کنارے آلودہ پانی کو صاف کرنے والے پلانٹ کے قریب موجود چھوٹی سی جگہ پر ملنے والے مٹیریل کو دیکھا۔
وہ کہتے ہیں کہ وہاں موجود باقیات میں انسانی سرگرمیوں کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ نہایت اہم یہ ہے کہ جس طریقے سے پانی جھیل کے اس حصے میں بہہ رہا تھا اس نے اس قسم کے شواہد کو محفوظ کرنے میں بہت مدد کی۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ اکھٹا ہوتا ہے کیونکہ سمندر میں بننے والی لہریں اس مادے کو کنارے پر موجود پانی کے قریب رکھتا ہے۔
وہ اس دوران وڈے بے کا حوالہ دیتے ہیں جو کہ جھیل کے شمالی کنارے کے ساتھ ہے۔
سنہ 2017 میں انھوں نے اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ دھاتوں کی آلودگی کی وضاحت کی جو کہ یہاں پر واضح تھیں اور ان کی تہیں 1930 کی دہائی کی تھیں۔
اس حوالے سے مخصوص مثالیں دیتے ہوئے انھوں نے سنہ 1970 کی دہائی میں پارے کی آلودگی میں اضافے کے بارے میں بتایا۔
لوئے زیو کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ وہاں کی صنعتوں میں ایک میں ایک حادثہ ہوا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ پارہ نکل رہا تھا کیونکہ ٹینک ٹوٹ گیا تھا اور ہمیں پانی کی تہہ میں موجود مادوں میں اس کی بہت زیادہ تعداد ملی۔

،تصویر کا ذریعہfremer/ Thomas Pellissier
لوئی زو کا کہنا ہے کہ عناصر کی موجود مثال کے طور پر بیریم کا تعلق گاڑیوں کے اضافے سے بھی ہو سکتا ہے کیونکہ گاڑیوں کی بریک میں بھی اکثر بیریم موجود ہوتا ہے۔
دھاتوں کے علاوہ تابکاری مواد اکثر صنعتوں میں موجود ہوتا ہے، مثال کے طور پر ریڈیم کو ایک طویل عرصے تک گھڑی کو واضح کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ریڈیم کے اثرات گھڑی بنانے کی صنعتوں کے اردگرد کی زمین اور ملک کی عمارتوں میں غیر متوقع طور پر سامنے آئی اور کرہ ارض پر اس کے پھیلے ہوئے ٹکڑے، اس بری میراث کا ثبوت ہیں جو کہ 20 ویں صدی کے دوران رہ جانے والے جوہری ہتھیاروں کا ثبوت ہیں۔
مثال کے طور پر، نیواڈا کے صحرا میں بڑے بڑے ہتھیاروں کے ٹیسٹوں کے ذریعے بنائے گئے گڑھے کو لیجیے۔ لیکن جوہری دھماکوں کی وجہ سے ہونے والی کچھ آلودگی ایسی ہوتی ہے جس کا عمومی طور پرتجزیہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔
سنہ 2019 میں ماہرین نے یہ بتایا کہ ماہرین نے یہ انکشاف کیا ہے کہ جاپان کے شہر ہیروشیما کے کچھ ساحلوں پر ریت کے کچھ ذرات دراصل وہ ہیں جو امریکہ کی جانب سے دوسری عالمی جنگ کے آخر میں یہاں چھ اگست سنہ 1945 میں میں گرائے گئے جوہری بم کے دھماکے کے نتیجے میں پھیلے تھے۔
تحقیق لکھنے والوں نے تحریر کیا کہ اس مائع ملبے کے کیمیائی مرکبات ان کے ماخذ کے شواہد فراہم کرتے ہیں خاص طور پر شہر کی تعمیرات کے حوالے سے۔
دوسرے لفظوں میں ان بموں نے عمارتوں کو راکھ میں تبدیل کر دیا، دھماکوں سے پیدا ہونے والی گرمی نے اس گرد کو نئی شکل دی اور دھماکے نے باآخر اس مواد کو اردگرد کی زمین پر پھیلا دیا، اور اسے ہمیشہ کے لیے نشانی بنا دیا۔

،تصویر کا ذریعہEros
یہ بھی اہم ہے کہ جوہری دھماکوں کی باقیات صرف عمارتوں سے باہر ہونے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ اس کمرے میں بھی ہو سکتے ہیں جہاں آپ موجود ہوں۔
جیسے کہ شہری علاقوں میں موجود گرد کے برعکس کسی اور بند جگہ میں موجود گرد کبھی کبھار دہائیوں تک جھاڑی نہیں جاتی، تو اس میں آلودگی کے اثرات پڑے رہ جاتے ہیں۔
سنہ 2003 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق امریکی ریاست نیو جرسی کے 201 گھروں کا سروے ہوا۔
اس کے نتائج سے محققین کو پتہ چلا کہ وہاں سیسے کی موجودگی کے شواہد ملے جس سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ اس کا تعلق وہاں 20ویں صدی میں فضا میں سیسے کی موجودگی سےہے۔
تاہم وہاں انھیں سیسیم 137، ریڈیو ایکٹو آئی سو ٹوپ کی تھوڑی سی مقدار بھی ملی۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ سنہ 1959 سے 1960 کے دوران امریکہ کی جانب سے زمین کی سطح پر کیے جانے والے جوہری تجربوں کی باقیات ہو سکتی ہیں۔

سیانو اور ان کے دوست اب قدرت پر انسانی تاریخ کے اثرات و شواہد کی مزید تلاش میں ہیں۔
اس ٹیم نے نو یورپی ممالک میں سمندر کی تہہ میں 120 سے زیادہ ٹھوس مواد کے نمونے اس امید کے ساتھ لیے کہ وہ تاریخی واقعات اور ڈی این اے کے شواہد کے ذریعے یا اس مواد پر دھاتوں کی آلودگی کے درمیان کوئی مزید تعلق جان سکیں۔
سیانو کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں ہم نیپال میں نکلنے والے ویسوویس نامی آتش فشاں کے اثرات دیکھ سکتے ہیں جو کہ آخری بار سنہ 1994 میں پھٹا تھا۔
یہاں ایک اور جگہ ہے جہاں ٹیم نے شاید تابکاری مواد کی موجودگی کا پتہ لگایا ہے جو کہ چرنوبل کی تباہی کے وجہ نکلا تھا۔ یہ آلودگی 40 فیصد یورپ میں پھیل گئی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ان سوالات کے جوابات دینے کے لیے تمام مواد موجود ہے۔











