25 کروڑ جیتنے والے رکشہ ڈرائیور کی زندگی خوشی سے خوف میں کیسے بدلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, میرل سبیسشیئن
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کوچی
'ابھی اپنے بیٹے کے لیے ایک بیگ خریدنے کے لیے ایک دکان پر گیا تو دکاندار نے مجھے باقی پیسے واپس نہیں دیے، کیونکہ دکاندار یہ سمجھ رہا تھا کہ مجھے اُن کی کوئی ضرورت نہیں۔'
یہ جنوبی ہند کی ریاست کیرالہ کے انوپ بی کا کہنا ہے۔ اور ایسا ان کے ساتھ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔
32 سالہ انوپ نے دو ماہ قبل سرکاری لاٹری کا جیک پاٹ جیتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد سے ان کی زندگی اس طرح بدل گئی ہے جس کا انھیں گمان بھی نہیں تھا۔
وہ اپنے گھر سے باہر کہیں بھی قدم نکالیں تو لوگ انھیں فوراً پہچان لیتے ہیں، جبکہ ان کے بہت سے دوست اور رشتہ دار اُن سے ناراض ہیں جبکہ ان کے مطابق جو کوئی بھی اُن سے ملتا ہے وہ پیسے مانگتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بہت سے لوگ جو کبھی ہمارے بہت قریب تھے اب ہم سے بات تک نہیں کرتے۔‘
انوپ نے ستمبر میں اس وقت قومی اخباروں کی شہ سرخیوں میں آئے جب انھوں نے 25 کروڑ روپے یا 31 لاکھ ڈالر جیتے جو کہ ریاست میں لاٹری کے لیے پیش کی جانے والی اب تک کی سب سے زیادہ رقم ہے۔
لاٹری بہت سی انڈین ریاستوں میں غیر قانونی ہے لیکن کیرالہ سمیت کچھ ریاستوں میں سخت ضابطوں کے ساتھ اس کی اجازت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب رواں ہفتے بی بی سی نے انوپ سے رابطہ کیا تو وہ پہلے تو بات کرنے سے گریزاں رہے۔ پھر تیار ہوئے تو انھوں نے یہ بھی درخواست کی کہ ان کی تصویر شائع نہ کی جائے کیونکہ ’ہر نیا مضمون ایک بار پھر سے ان پر لوگوں کی توجہ مرکوز کرتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انھوں نے فون پر کہا: ’میرے خیال میں آپ اسے صرف اسی وقت سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کیسا ہے اگر آپ اس سے گزرے ہوں۔ یہ کسی فلم کے سین کی طرح ہے۔ اچانک، آپ کے جاننے والے، ہر کوئی آپ کے گھر آ جاتا ہے۔‘
انوپ پہلے کھانا پکانے کا کام کرتے تھے یعنی باورچی تھے۔ لیکن پھر وہ اپنے آبائی ضلع میں ٹُک ٹُک (ایک قسم کا رکشہ) چلانے لگے۔ وہ تقریباً ایک دہائی سے لاٹری کے ٹکٹ خرید رہے تھے اور انھیں پہلے بھی چھوٹے موٹے انعام ملے ہیں۔
لیکن جیک پاٹ نے ان کی زندگی کو اس قدر بدل کر رکھ دیا ہے کہ وہ اس سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے ابھی تک جدوجہد کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آپ کے بارے میں لوگوں کا رویہ راتوں رات بدل جاتا ہے۔‘
اعلان کے بعد کے ہفتوں تک ان کا گھر اور پڑوس سینکڑوں لوگوں سے بھرا رہا جو ان سے مدد طلب کرنے وہاں پہنچے تھے۔
وہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم جاگتے تو باہر ایک بھیڑ کو کھڑا دیکھتے۔ وہ صبح پانچ بجے سے اکٹھا ہونا شروع ہو جاتے اور رات گئے تک وہاں ٹھہرتے۔‘
یہ بھی پڑھیے
انوپ کی بیوی مایا نے ایک مقامی نیوز چینل کو بتایا تھا کہ انھوں نے رقم ملنے کے بعد لوگوں کی مدد کرنے کے امکان پر غور کیا تھا۔
وہ کہتی ہیں: ’لوگ محض یہ بات سُن کر ہی ان کے پاس بھاگے چلے آئے۔‘
ریاست بھر سے امداد کی درخواستیں موصول ہونے لگیں۔ کچھ نے اپنے رہن یا قرض کی ادائیگی کے لیے مدد کی درخواست کی، جبکہ دوسروں نے اپنی بیٹیوں کی شادی کے اخراجات میں مدد کے لیے درخواست کی۔
انوپ کہتے ہیں کہ ’بینکوں اور انشورنس ایجنٹوں کی طرف سے بہت ساری کالیں آنے لگیں۔ چنئی (پڑوسی ریاست تمل ناڈو کا دارالحکومت) سے ایک گروپ میرے پاس فلم کے لیے فنڈز حاصل کرنے بھی آیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ تو واقعی ان سے مدد حاصل کرنے آئے لیکن کچھ ایسے بھی تھے جن کا خیال تھا کہ اس لاٹری کی رقم میں ان کا بھی حصہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہANI
انھوں نے کہا: ’ہر کوئی سوچتا ہے کہ مجھے یہ رقم مفت میں ملی ہے، کچھ نہ کر کے، اور اس لیے وہ پوچھتے ہیں کہ میں انھیں اس میں سے کچھ کیوں نہیں دے سکتا۔‘
انوپ اور ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ آن لائن افواہوں نے ان کے سکون کو بھی متاثر کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس بھی تھیں کہ میں لاٹری جیتنے کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہوں کیونکہ میرے پاس پہلے ہی بہت پیسہ تھا اور یہ کہ میری جیت فراڈ ہے۔‘
انوپ کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی گھر سے باہر جانے سے ڈرتے ہیں۔
’میں جہاں بھی جاتا ہوں لوگ مجھے پہچان لیتے ہیں کیونکہ میرا چہرہ بہت سارے نیوز چینلز، ویب سائٹس اور اخباروں میں آیا تھا۔‘
وہ اپنی آٹھ ماہ کی حاملہ بیوی اور چھوٹے بیٹے کی حفاظت کے متعلق بھی پریشان ہیں۔
لیکن ایک چیز جس نے انھیں قدر اطمینان بخشا ہے وہ یہ جاننا ہے ان کا تجربہ کوئی انوکھا نہیں۔
گذشتہ ماہ اکتوبر میں ایک مقامی ٹی وی چینل پر ایک گیم شو میں شامل ہونے کے دوران انوپ کی ملاقات 59 سالہ جے پالن سے ہوئی، جنھوں نے پچھلے سال یہی جیک پاٹ جیتا تھا۔
جے پالن نے 12 کروڑ روپے جیتے تھے اور اس وقت بھی میڈیا کی توجہ اور مالی امداد کی درخواستوں کی اسی طرح بہتات تھی۔
انھوں نے شو کے دوران کہا کہ ’یہ سمجھنا مشکل ہو گیا کہ اصل میں کس کو مدد کی ضرورت ہے اور کس کو صرف پیسے چاہیے تھے۔‘
جے پالن اب بھی ٹک ٹک چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’دوست دشمن بن جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ اب بھی شاکی ہیں کہ میں نے انھیں پیسے نہیں دیے۔‘
کچھ دھمکی آمیز خطوط موصول ہونے کے بعد انھیں پولیس میں شکایت درج کرانی پڑی۔ اور انھوں نے اپنے گھر کے ارد گرد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرائے۔
انوپ کو ان کا مشورہ تھا کہ پیسوں کے معاملے میں بہت محتاط رہیں۔
انوپ کہتے ہیں: ’لوگوں کا خیال ہے کہ لاٹری جیتنے سے پیسے کے بارے میں میرے تمام خدشات دور ہو جاتے ہیں۔ لیکن سب کچھ ابھی تک غیر یقینی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ٹیکس کے بعد میرے پاس کتنی رقم باقی رہ جائے گی۔‘
جیتنے والے کو کتنی انعامی رقم ہاتھ میں ملتی ہے اس کا حساب کتاب ’پیچیدہ‘ ہے۔ یہ بات لاٹری کے دونوں فاتحین نے شو میں کہی۔
جیت کی رقم حوالے کرنے کے وقت ریاستی حکومت کی طرف سے 30 فیصد ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے اور پھر ٹکٹ ایجنٹ کے اپنے کمیشن ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ لاٹری جیتنے والے کو وفاقی حکومت کو سیس اور سرچارج بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔
انوپ کی جیت سے پیدا ہونے والے ہنگامے کے بعد ریاستی حکومت نے پیسے کے انتظام اور سے ٹھیک سے رکھنے کے لیے ایک دن کا تربیتی پروگرام منعقد کیا تاکہ ان کی رقم کو اچھی طرح سے استعمال کرنے میں مدد کی جا سکے۔
اب وہ اپنی جیت کی رقم کا کیا کریں گے اس کا فیصلہ کرنے سے پہلے چند سال انتظار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’اس میں کوئی شک نہیں کہ پیسہ ایک نعمت ہے۔‘













