روسی صدر کے اتحادی جو فوجی جرنیلوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں، یہ آزادی اظہار رائے ہے یا کوئی نیا کھیل؟

    • مصنف, ایلیا ابیشو اور کترینا خینکولووا
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

روس کی فوجی قیادت کو یوکرین پر حملے کے بعد شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ان تنقیدی آوازوں میں سے دو رہنما قابل ذکر ہیں۔ ایک چیچن رہنما رمضان قادروف اور دوسرے ایوگینی پریگوزن، جو ’ویگنر مرسری‘ گروپ کے بانی ہیں۔ یہ مخالفت ہی ان کی اہمیت میں اضافے کا باعث بنی ہوئی ہے۔

ایک غیر متوقع اتحاد

یہ دونوں رہنما باضابطہ طور پر روس کی کسی بھی فوج یا سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ نہیں ہیں اور پھر بھی انھیں کسی نہ کسی طرح فوجی کمانڈروں پر اتحاد میں تنقید کرنے اور ایک دوسرے کے خیالات کی تعریف کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یوکرین میں روس کی جنگ نے اس کی فوج کی ایک مؤثر اور اچھے ادارے کے طور پر کام کرنے والے تاثر کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس شبیہہ کو سرکاری ٹی وی کے تین دن میں کئیو پر قبضہ کرنے کے وعدے کو پورا کرنے میں ناکامی سے لے کر یوکرین کے بڑے حصے سے اس کی پسپائی تک نقصان پہنچا ہے۔ یوکرین میں روسی افواج کے نئے تعینات ہونے والے سربراہ جنرل سرگئی سرووکین ابھی تک صرف یوکرین کے پاور سٹیشنوں کو اڑانے میں کامیابی کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔

لیکن محض حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں افراد کو اس لیے خاموش نہیں کیا گیا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ولادیمیر پوتن ان کی رائے کو مدنظر رکھتے ہیں۔ وگرنہ ایسی تنقید کو روس میں عام طور پر تو بے وفائی کے اظہار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یہاں پر معاملہ کرنل جنرل الیگزینڈر لاپین کا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق وہ یوکرین میں اعلیٰ روسی کمانڈروں میں سے ایک ہیں، جنھیں اس ہفتے کے آخر میں برطرف کر دیا گیا تھا۔ رمضان قادروف نے صرف دو دن پہلے ہی انھیں ’ٹیلنٹلیس‘ کے طور پر بیان کیا تھا، جس میں انھیں حالیہ شکست کے لیے مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا، جس میں اکتوبر کے اوائل میں مشرقی قصبے لیمان پر یوکرین کی افواج کے ہاتھوں دوبارہ قبضہ بھی شامل تھا۔ چیچن رہنما نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جنرل لاپین کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ’عام آدمی کے طور پر فرنٹ لائن پر بھیجا جانا چاہیے۔

انھوں نے روسی جنرل پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں اپنی شرمندگی کو خون سے دھونے کی ضرورت ہے‘۔ ایو گینی پرگوزینی نے ان روسی جیلوں کا دورہ کیا ہے جہاں یوکرین کی لڑائی میں سزا یافتہ افراد کو رکھا گیا ہے۔ اعلیٰ سطح کی اجازت کے بغیر اس قسم کا دورہ ممکن نہیں ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے یوکرین کے ولادیمیر زیلنسکی کو ایک ’ٹھوس، پراعتماد، عملی اور پسند کی جانے والی شخصیت‘ کے طور پر متعارف کرایا ہے۔

ایوگینی پریگوزن اور رمضان قادروف کون ہیں؟

ایوگینی پریگوزن سب سے پہلے ’پیوتن کے شیف‘ کے نام سے مشہور ہوئے کیونکہ وہ کریملن میں سرکاری تقریبات کے لیے کھانے پینے کی چیزیں فراہم کرتے تھے۔ روس کے دوسرے سب سے بڑے شہر سینٹ پیٹرزبرگ سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر کے بارے میں یہ افواہ ہے کہ وہ ولادیمیر پوتن کو سنہ 1990 کی دہائی سے جانتے ہیں، جب مستقبل کے صدر، میئر کے دفتر میں کام کرتے تھے اور اس ریستوران میں اکثر آتے تھے جو مقامی حکام میں مقبول تھا۔

سنہ 2010 کی دہائی تک کئی صحافتی تحقیقات نے انھیں سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک نام نہاد ’ٹرول فیکٹری‘ کا مہرہ قرار دیا تھا، جس کا کام ڈس انفارمیشن یونٹ میں خدمات انجام دینا تھا۔ اس یونٹ کا مقصد روس کی حکومت کے سیاسی مخالفین کو سوشل میڈیا پر بدنام کرنا جبکہ کریملن کو اچھا بنا کر پیش کرنے سے متعلق مواد تیار کرنا تھا۔ سنہ 2016 میں بعد میں امریکی سپیشل کونسلر رابرٹ مولر کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے مطابق ٹرول فیکٹری امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کی کوشش کا حصہ تھی۔ ایوگینی پریگوزن نے ٹرول فیکٹری سے روابط کی تردید کی تھی۔ کئی برسوں تک انھوں نے واگنر گروپ نامی کرائے کی بھرتی کرنے والی کمپنی سے روابط سے بھی انکار کیا۔ واگنر پہلی بار سنہ 2014 میں مشرقی یوکرین میں ابھرا اور اس گروپ کے جنگجو بعد میں شام اور کئی افریقی ممالک میں منظر عام پر آئے۔ حال ہی میں انھوں نے ویگنر سے تعلق کا اعتراف کیا، جو یوکرین کی جنگ میں زیادہ مؤثر روسی یونٹوں میں سے ایک ثابت ہوا ہے۔ صدر پوتن کے چند اتحادی چیچن صدر رمضان قادروف کی طرح شدید وفادار ہیں، جنھیں روسی رہنما نے سنہ 2007 میں شمالی قفقاز کے علاقے میں خود مختار جمہوریہ پر حکمرانی کے لیے منتخب کیا تھا۔

اس اشارے میں کہ کریملن کی طرف سے ان کی وفاداری کی تعریف کی گئی ہے، چیچن رہنما کو بریگیڈیئر جنرل سے کرنل جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دو آدمیوں کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟

پہلے کبھی اتحادی نہیں سمجھے جانے والے رمضان قادریوف اور ایوگینی پریگوزن نے حال ہی میں ایک دوسرے کے حوالے سے بھی کلمہ خیر کہا۔

چیچن رہنما نے سینٹ پیٹرزبرگ کے تاجر کو ’پیدائش سے ایک جنگجو‘ اور ان کے ویگنر کرائے کے فوجیوں کو ’روس کے نڈر محب وطن‘ کا نام دیا ہے۔ انھوں نے اس تعریف کا جواب سوشل میڈیا پر کچھ ان الفاظ میں دیا: ’رمضان، تم چھا گئے ہو!

دونوں افراد فوجی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہیں، جس کی نمائندگی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو اور ان کے نائب اور چیف آف جنرل سٹاف جنرل ویلری گیراسیموف کرتے ہیں۔ یوکرین میں ناکامیوں کے ذمہ داروں کا نام لینے اور انھیں شرمندہ کرنے سے یہ رہنما کار سرکار میں مزید اہم مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ الگ سے نہ تو چیچن رہنما اور نہ ہی ویگنر کے سربراہ کی اتنی اہمیت ہے کہ وہ کچھ حاصل کر سکیں۔ وہ سرکاری سیاسی اشرافیہ میں بہت غیر مقبول ہیں اور انھیں غیر روسی رہنماؤں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ افواج میں شامل ہوتے ہیں، تو وہ صدر پوتن کے اندرونی حلقے میں موجود شخصیات کو چیلنج کر سکتے ہیں، جیسا کہ دراڑیں نظر آ رہی ہیں۔

روسی سیاسی تجزیہ کار عباس گالیاموف کا کہنا ہے کہ رمضان قادریوف اور ایوگینی پریگوزین جس طرح ردعمل دے رہے ہیں وہ کسی جنگ زدہ ملک کے لیے انتہائی غیر معمولی ہے: ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صدر پوتن کا قائم کردہ وفاقی اتھارٹی کا عمودی نظام ایک جگہ کام نہیں کر رہا، جہاں (فوج میں) اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے‘۔

وہ اسے ’انتشار‘ کے ماحول سے تعبیر کرتے ہیں، جس میں مختلف فوجی یونٹوں کے کمانڈر ایک ٹیم کے طور پر لڑنے کے بجائے ایک دوسرے سے بحث کرتے ہیں۔ امریکن انسٹیٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار کے ماہرین کا خیال ہے کہ صدر پوتن کے قریبی دو وسیع دھڑے ہیں۔ وہ لوگ جو مغربی پابندیوں کی وجہ سے منجمد اثاثوں کو بچانے کے لیے جنگ کو روکنے کے حق میں ہیں۔ اور جو اسے جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔ یہ دونوں رہنما جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ پیغام ہو سکتا ہے جو روس کے رہنما سننے کے لیے سب سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ انھیں مزید نزدیک رکھنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔