کیا روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کروانا ترک صدر اردوغان کی دہری چال ہے؟

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو قازقستان میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں پوتن نے تجویز دی کہ ترکی کو یورپ میں گیس کی فراہمی کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔

پوتن نے کہا ہے کہ ترکی کے راستے یورپی یونین کو گیس کی فراہمی قابل اعتماد ثابت ہو رہی ہے۔

یوکرین جنگ کے آغاز میں جرمنی اور روس کے درمیان نارڈ سٹریم پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی متاثر ہوئی اور بحیرۂ بالٹک میں ایک دھماکے کے بعد گیس سپلائی پوری طرح معطل ہو گئی تھی۔ خیال ہے کہ یہ دھماکہ جان بوجھ کر کیا گیا۔

صدر پوتن نے کہا ہے کہ دھماکے سے ہونے والے نقصان کا ازالہ بحیرہ اسود کے علاقے سے ہو سکتا ہے اور ترکی کو یورپ میں گیس کی فراہمی کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر ترک صدر نے کہا ہے کہ وہ جولائی میں طے ہونے والے معاہدے کو مزید مضبوط کریں گے جس کے تحت بحیرۂ اسود سے یوکرین کی گندم کو بین الاقوامی منڈیوں تک لے جایا جا سکے گا۔ فی الحال یہ نیا معاہدہ نومبر کے وسط میں طے ہو گا۔ روس اور یوکرین کی منظوری کے بعد اس کی توسیع بھی ہو سکے گی۔

صدر اردوغان نے مزید کہا ہے کہ روس اور ترکی گندم کی برآمدات کو جاری رکھنے اور مضبوط کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ’ترکی کے ذریعے کم آمدن والے ممالک تک روسی گندم اور کھاد پہنچائی جا سکتی ہے۔‘

پوتن نے کہا ہے کہ جن ممالک کو گندم مل رہی ہے وہ ترکی کا شکریہ ادا کریں کیونکہ اسی کی مدد سے ایک معاہدہ طے پایا ہے۔

روس کے ترجمان دمتری پیسکوو نے کہا ہے کہ صدر پوتن اور ترک صدر اردوغان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں یوکرین کے ساتھ تناؤ کو ختم کرنے کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ پیسکوو نے کہا کہ ’روس، یوکرین تنازع حل کرنے کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔‘

اس ملاقات سے قبل روس کی طرف سے یہ اطلاعات تھیں کہ اردوغان باقاعدہ طور پر یوکرین اور روس کے درمیان امن معاہدے کی ثالثی کر سکتے ہیں۔

یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات میں اردوغان کا کردار کیا رہا ہے؟

دونوں ملکوں کے درمیان جاری جنگ کے باوجود 23 جولائی کو اُن کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت یوکرین کو بحیرۂ اسود کے ذریعے گندم برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

یوکرین نے اس فیصلے کے ذریعے اربوں ٹن گندم برآمد کرنا شروع کی جو اس کے گوداموں میں پڑی تھی۔ روس نے کہا تھا کہ وہ سمندر کے ذریعے گندم لے جانے والے کارگو جہازوں پر حملہ نہیں کرے گا۔ اقوام متحدہ نے اسے ’تاریخی معاہدہ‘ قرار دیا تھا۔

اس کے بعد پانچ اگست کو اردوغان اور پوتن کے درمیان ’سوچی‘ میں ملاقات ہوئی جہاں مختلف مسائل پر بات چیت کی گئی۔ 20 ستمبر کو اردوغان نے کہا کہ اُن کا خیال ہے کہ پوتن جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں اور جلد اہم اقدامات کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پوتن سے بات چیت سے یہ تاثر ملا ہے کہ وہ جلد از جلد جنگ ختم کرنے کے حق میں ہیں۔

یوکرین نے گذشتہ ماہ روس کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس اپنے کنٹرول میں لیا اور کہا کہ جنگ ’جلد ختم نہیں ہو گی۔‘ اسی دن دونوں ملکوں کے درمیان 200 جنگی قیدیوں کا تبادلہ ہوا تاہم جنگی قیدیوں کی اس رہائی کے بارے میں زیادہ معلومات باہر نہ آ سکیں۔

اردوغان نے سمرقند میں پوتن سے ملاقات کی اور دونوں ملکوں نے باہمی تعلقات مضبوط کرنے کے حوالے سے بات چیت کی۔

یہ بھی پڑھیے

حملے سے قبل اردوغان کا سخت مؤقف

22 فروری کو جاری ہونے والے بیان میں ترک صدر اردوغان نے روسی صدر پوتن کو بتایا تھا کہ ان کا ملک روس کی جانب سے یوکرین کی علاقائی سالمیت کے خلاف کسی اقدام کو تسلیم نہیں کرے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترک صدر نے پوتن کو فون پر کہا کہ فوجی کارروائی کسی کے فائدے میں نہیں اور انھوں نے مسئلے کے حل کی پیشکش کی تھی۔

اردوغان کا کہنا تھا کہ وہ علاقائی معاملوں میں روسی تعاون کی قدر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان مسائل میں روس اپنا کردار جاری رکھے۔ اردوغان کا کہنا تھا کہ یوکرین، روس تنازع کو فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارتی کوششوں سے حل کیا جا سکتا ہے۔

کیا یہ ترکی کی دہری چال ہے؟

بی بی سی کے نامہ نگار اتاولپا امیرسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ترکی اس معاملے میں درحقیقت ’دہری چال‘ چل رہا ہے۔ ترکی جنگ کے آغاز میں مغربی ممالک کا اتحادی تھا مگر اب ایسا تاثر مل رہا ہے کہ وہ روس کے قریب ہو رہا ہے۔

ترک مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کا رکن ہے اور روایتی طور پر یوکرین کا اتحادی رہا ہے۔

رواں سال فروری میں یوکرین میں روس کے ’خصوصی فوجی آپریشن‘ کے اعلان پر ترک نے روس نے مخالفت کی تھی۔ ترکی کریمیا اور دونباس کے علاقوں پر یوکرین کے دعوے کی حمایت کرتا آیا ہے۔

ان دونوں علاقوں پر روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں نے قبضہ کر لیا تھا جبکہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ وہ کبھی نہ کبھی ان علاقوں کو آزاد کرا لیں گے۔

تاہم ترکی نے مغربی طاقتوں کے اس اقدام کی کبھی حمایت نہیں کی جس کے تحت روس پر معاشی پابندیاں عائد کی گئیں بلکہ صورتحال یہ ہے کہ اس دوران ترکی نے روس کے ساتھ اپنے اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار کریم ہاس کے مطابق ’صدر اردوغان امریکہ اور مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات میں روس کارڈ کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس معاملے میں ترکی امریکہ اور مغرب کے لیے ایک قابل قدر اتحادی ہے۔ دوسری جانب وہ روس کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی مغرب کے کارڈ کا استعمال کرتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ ترکی یوکرین کی محض سفارتی سطح پر حمایت نہیں کرتا بلکہ فوجی اعتبار سے بھی یوکرین کا ساتھ دیتا ہے۔ ترکی نے یوکرین کو ٹی بی ٹو ڈرون فراہم کیے جو روسی فوج کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہوئے۔

کیا یوکرین معاہدے کے لیے تیار ہو گا

کیئو میں بی بی سی کے نامہ نگار ہیوگو بیچکا لکھتے ہیں کہ ’ترکی نے ثالث بننے کی کوشش کی۔ اس کی مدد سے یوکرین کو گندم برآمد کرنے کی اجازت ملی اور دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا۔‘

’ترکی نیٹو کا رکن ہے اور اس کے یوکرین اور روس دونوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ مگر یوکرین کے لیے کسی معاہدے پر اتفاق کرنا مشکل نہیں بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔‘

یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقوں سے روسی فوج کا قبضہ چھڑوانے کی کوششیں کر رہے ہیں جبکہ روس نے ایسے کئی علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلائی ہیں جہاں ان کی مضبوط گرفت تھی۔

روس کے مختلف شہروں میں جنگ مخالف مظاہرے دیکھے گئے ہیں اور فوج میں اضافی بھرتیوں کے ڈر سے بڑی تعداد میں لوگوں نے ملک چھوڑنے کی کوششیں کی ہیں۔

حال ہی میں روس نے یوکرین کے رہائشی علاقوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا ہے اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ یوکرین نے کہا ہے کہ روس شکست کے خوف سے ایسا کر رہا ہے۔ یوکرین کے شہروں پر مسلسل میزائل داغے گئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے صدر زیلنسکی نے پوتن کے ساتھ بات چیت کے امکان کو ’ناممکن‘ قرار دیا۔ تاہم روس سے بات چیت کے لیے یوکرین کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔

مغربی ممالک سے ملنے والے ہتھیاروں کی مدد سے یوکرین نے یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ مقبوضہ علاقوں واپس لے گا۔ ان میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر رواں فروری کے دوران روسی فوج نے قبضہ کیا۔ یوکرین کے عوام بھی بظاہر اس مطالبے کے پیچھے کھڑی ہیں۔