آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یوکرین، روس جنگ: کیا کرائمیا کا پُل تباہ کرنے کے لیے کسی خفیہ سمندری ڈرون کا استعمال کیا گیا؟
- مصنف, پال ایڈمز
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کیئو
ہمیں سنیچر کو روس اور کرائمیا کے درمیان کرچ پُل پر ڈرامائی دھماکے کے بارے میں اب تک کیا معلوم ہوا ہے؟ اس کے بارے میں کئی نظریات گردش میں ہیں مگر وہ تمام قابل اعتماد نہیں۔
روس نے فوری طور پر کہا کہ ایک ٹرک میں دھماکہ ہوا مگر یہ نہیں بتایا کہ اس کے پیچھے کون تھا۔ بعد میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر اس حملے اور ’دہشتگردی‘ کا الزام لگایا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کردہ کیمرا فوٹیج میں ایک ٹرک دیکھا جا سکتا ہے جو مبینہ طور پر روسی شہر کراسنوڈار سے آتا ہے اور اس کراسنگ سے ایک گھنٹہ دور ہے۔ یہ دھماکے کے وقت پُل پر مغربی جانب سے گزرتا ہے۔
روسی حکام نے ٹرک کے مالک ایک 25 سالہ شخص کو نامزد کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے ایک معمر رشتے دار ٹرک کے ڈرائیور تھے۔
تاہم ویڈیو کے قریبی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرک کا اس دھماکے سے کوئی تعلق نہیں۔
ویڈیو میں ٹرک کے پیچھے اور اس کے ایک جانب آگ بھڑکتی نظر آتی ہے۔ اس دوران ٹرک پُل کے چڑھائی کے حصے کی جانب بڑھ رہا ہوتا ہے۔
روسی حلقوں میں پُراسرار انداز میں ٹرک دھماکے کی تھیوری گردش کرنے لگی۔ اس سے یہ تاثر ملا کہ کریملن کے مطابق یہ ممکنہ ’دہشتگرد حملہ‘ ہو سکتا ہے۔ یہ کہا جانے لگا کہ اس کے پیچھے یوکرین ہے۔
برطانوی فوج میں دھماکہ خیز مواد کے ایک سابق ماہر نے کہا ہے کہ ’میرے وقتوں میں آئی ای ڈیز بڑے پیمانے پر بڑی گاڑیوں میں نصب کی جاتی تھیں مگر یہاں ایسا نہیں لگ رہا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق یہ زیادہ قابل یقین ہے کہ پُل کے نیچے ایک بڑا دھماکہ کیا گیا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک خفیہ سمندری ڈرون کے ذریعے کیا گیا ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی پُل کی تعمیر اس طرح کی جاتی ہے کہ سامان کی وجہ سے نیچے پڑنے والے دباؤ اور اطراف سے آنے والی ہوا کو برداشت کر سکیں۔
’یہ عام طور پر ایسے ڈیزائن نہیں کیے جاتے کہ اوپر کی طرف پڑنے والا دباؤ برداشت کریں۔ میرے خیال سے یوکرینی حملے میں اسی حقیقت کا استعمال کیا گیا۔‘
بعض مبصرین نے بتایا ہے کہ کچھ دوسری سکیورٹی کیمرا ویڈیوز میں دھماکے سے کچھ دیر قبل پُل کے نیچے ایک چھوٹی کشتی کو دیکھا جا سکتا ہے۔
21 ستمبر کو روسی سوشل میڈیا پر تصاویر میں دیکھا گیا ہے کہ کریمیا کے شہر سواستوپول میں روسی بحری اڈے کے قریب بغیر مسافروں والی ایک پُراسرار کشتی ساحل پر موجود ہے۔
مقامی اطلاعات کے مطابق اس کشتی کو سمندر سے نکالا گیا اور اسے دھماکے سے تباہ کر دیا گیا۔
سواستوپول کے روسی حمایت یافتہ گورنر نے کہا تھا کہ ’بغیر کسی شخص کے ایک گاڑی کو دریافت کیا گیا۔ سروے کی تکمیل کے بعد اسے سمندر میں دھماکے سے تباہ کر دیا گیا۔ کسی کو چوٹ نہیں پہنچی۔‘
یہ ایسی پہلی اطلاعات نہیں جن سے یہ تاثر ملے کہ یوکرین کے پاس ایسے خفیہ سامان تک رسائی ہے۔
دھماکہ خیز مواد کے برطانوی ماہرین نے بتایا ہے کہ ’ایسی مستند اطلاعات ہیں کہ یوکرین کے پاس نگرانی کے لیے اور دور سے سمندری حملوں کے لیے ریمورٹ کنٹرولڈ وہیکلز ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
اگر یوکرین نے اس طرح یوکرینی علاقے سے سینکڑوں میل دور سے کرچ پُل پر حملہ کیا تو اسے کیئو کے سب سے جدید حملوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
مگر دارالحکومت کیئو میں کچھ سرگرشیوں کے علاوہ کوئی بھی اس نظریے کی تصدیق نہیں کر رہا۔
زیلینسکی کے ایک مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے کہا کہ ’روس میں اس کے جواب تلاش کیے جانے چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ دھماکے کی وجہ روسی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے مختلف حلقوں میں اندرونی جنگ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روس کی اندرونی انٹیلیجنس سروس اور نجی فوجی کنٹریکٹر (جیسے ویگنر گروپ) ایک طرف ہیں جبکہ وزارت دفاع اور روسی ریاست کے عہدیدار دوسری طرف ہیں۔
کیا زیلنسکی کے مشیر کو کچھ ایسا معلوم ہے جو ہم نہیں جانتے؟ یا شاید وہ ماسکو کا مذاق اڑا رہے تھے کہ یوکرین میں جنگ کے دوران روس کی کئی ناکامیاں ہوئی ہیں جس سے فوج میں اعصاب قابو میں نہ رکھ پانا بے نقاب ہوا ہے۔
سچ یہ ہے کہ ہم اس بارے میں نہیں جانتے۔
ماضی کے دیگر واقعات، جس میں روسی بحری جہاز موسکووا کا ڈوبنا اور اگست کے دوران کرائمیا میں روسی فضائی اڈے پر ایک پُراسرار حملہ شامل ہیں، سے ظاہر ہے کہ کیئو اس پر سے پردہ اٹھانا نہیں چاہتا۔
فروری میں جب سے ماسکو نے یوکرین میں مداخلت کی، تب سے فوجی کوششوں کے ساتھ ساتھ یوکرین ایک کامیاب انفارمیشن مہم بھی چلا رہا ہے۔
ابھی کے لیے لگتا ہے کہ یہ حکمت عملی کام کر رہی ہے۔