ٹرافی ہنٹنگ: گلگت بلتستان میں مارخور کے شکار کا نظام جو مقامی لوگوں کی زندگیاں بدل رہا ہے

- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’میں نے تعلیمی قرضہ حاصل کر کے قائد اعظم یونیورسٹی سے ایم ایس مکمل کیا۔ یہ قرضہ مجھے ہمارے علاقے میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے قائم کمیٹی نے فراہم کیا۔‘
یہ کہنا ہے گلگت بلتستان کے اپر ہنزہ کے علاقے خیبر کی رہائشی طالبہ ندا فدا علی کا۔
ندا فاطمہ علی کا کہنا ہے کہ ’اگر مجھے یہ قرضہ نہ ملتا تو شاید میں تعلیم مکمل نہ کر پاتی۔ مجھے توقع ہے کہ میں یہ قرضہ جلد ہی واپس کر دوں گی۔‘
’بالکل اسی طرح جس طرح مجھ سے پہلے لوگوں نے واپس کیا اور میں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔‘
ندا فاطمہ علی نے تو تعلیمی قرضہ حاصل کیا تھا لیکن ہنزہ کے اس علاقے میں ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں، جنھوں نے روزگار کے لیے قرضے حاصل کیے۔
علی غلام کہتے ہیں کہ ’میں نے قرض سےکاروبار شروع کیا۔ اب میرا کاروبار اچھا چل رہا ہے۔ میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہوں۔‘
یہ قرضہ پروگرام گلگت بلتستان میں شکار سے حاصل ہونے والی رقم سے چلایا جاتا ہے۔ علاقے میں قائم کمیونٹی کنززویشن ایریا کی نگرانی کرنے والے زاہد علی کے مطابق انھوں نے اپنے علاقے میں ٹرافی ہنٹنگ سے ملنے والے فنڈ سے مختلف منصوبے شروع کیے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’ٹرافی ہنٹنگ سے ملنے والے رقم سے ہم نے سرمایہ کاری کی۔ اس سے حاصل ہونے والے منافع کو ہم کمیونٹی کی فلاح و بہبود پر خرچ کر رہے ہیں جس سے ہم لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہNIDA ALI
ٹرافی ہنٹنگ سے افزائش نسل
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وائلڈ لائف گلگت بلتستان کے کنزرویٹر اجلال احمد کے مطابق ہر سال گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والے رقم کا 80 فیصد مقامی کمیوننیٹر میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
محکمے نے ان مقامی کمیونیٹز میں کمیونٹی مینجمنٹ ایریا بنا رکھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کمیونٹی مینجمنٹ ایریا کا مقصد ٹرافی ہنٹنگ کے ذریعے حاصل ہونے والے فنڈز کو مقامی کمیونٹی پر خرچ کرنا ہے۔
’ہر کمیونٹی مینجمنٹ ایریا خود فیصلہ کرتی ہے اس کو یہ فنڈز کہاں اور کیسے خرچ کرنے ہیں۔ تاہم یہ لازم ہے کہ اس کا 30 فیصد وہ جنگلی حیات کے تحفظ پر خرچ کریں۔‘
اجلال احمد کا کہنا تھا کہ اس سے مقامی کمیونٹی نے بھی جنگلی حیات کے تحفظ کا کام کیا جس کے شاندار نتائج برآمد ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب سے ٹرافی ہنٹنگ شروع ہوئی اس وقت سے ہم محسوس کر رہے ہیں اور تمام ماہرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ہر سال جنگلی حیات بالخصوص مار خور اور آئی بیکس کی تعداد میں 10-20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔‘
’اس وقت ہمارے اندازے کے مطابق گلگت بلتستان میں مار خور کی تعداد تین سے چار ہزار کے درمیان ہے جبکہ آئی بیکس کی تعداد 18-20 ہزار ہے۔‘
ٹرافی ہنٹنگ سے ترقیاتی کام

،تصویر کا ذریعہWWF PAKISTAN
زاہد علی کا کہنا تھا کہ ہمیں گزشتہ سال 18 لاکھ روپے ملے تھے۔ ’ہم فنڈز کو منظم انداز میں خرچ کرنے اور بہتر استعمال کے لیے وائلڈ لائف محکمے کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔‘
’ہر سال چار، پانچ طالب علموں کو تعلیمی قرضے فراہم کرتے ہیں جبکہ اتنے ہی یا اس سے کچھ زیادہ کو کاروبار کے لیے قرضے فراہم کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ ہم اس فنڈ سے اپنے علاقے میں موجود کھیلوں کے میدان اور تفریحی مقامات کا تحفظ کرتے ہیں۔‘
اجلال احمد کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس گلگت بلتستان کے کل رقبے کا کوئی 62 فیصد محفوظ علاقہ ہے۔‘
’اس محفوظ علاقے کے 50-55 فیصد علاقے میں ہماری کمیونٹی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں کو پچھلے سال 100 ملین روپیہ فنڈز فراہم کیے گئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مقامی کمیونیٹز یہ فنڈز خرچ کرنے میں آزاد ہوتی ہیں مگر محکمہ اس پر چیک اینڈ بیلنس رکھتا ہے۔
’محکمے کی ایک شرط یہ ہوتی ہے کہ 10 فیصد حصہ جنگلی حیات کی جانب سے انسانوں کے جان و مال کے نقصانات کے ازالے کے لیے بطور معاوضہ خرچ کیا جائے۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہSUSG-CA ASIA AND STEP
ریکارڈ بولی
اجلال احمد کا کہنا تھا کہ ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدن بڑھ رہی ہے۔
اجلال احمد بتاتے ہیں کہ ’ٹرافی ہنٹنگ کا پورا ایک سسٹم ہے۔ اس سسٹم میں اس بات کا بہت خیال رکھا جاتا ہے کہ ایسے جانور کا شکار کیا جائے جس کی طبی عمر زیادہ ہو۔‘
’مارخور کی طبی عمر تقریباً 23/24 سال ہوتی ہے۔ ہم ہر سال مقامی کمیونٹی اور ماہرین کے ساتھ مل کر ایسا جانور منتخب کرتے ہیں جس کی طبی عمر زیادہ ہو چکی ہوتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ہر سال تقریباً چار مارخور اور 100 آئی بیکس کی ٹرافی ہنٹنگ کی جاتی ہے۔
’مارخور میں ایک انٹرنیشنل، ایک نیشنل اور ایک گلگت بلتسستان کے مقامی کے لیے ہوتی ہے۔ انٹرنیشنل مارخور کی بولی ایک لاکھ 65 ہزار ڈالر میں ہوئی۔‘
’دوسری کی ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر اور تیسرے کی ایک لاکھ ڈالر کی نیلامی ہوئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اصل میں مارخور کے سینگ کی ٹرافی ہوتی ہے۔ جس کی سب سے مہنگی بولی لگی ہے اس کے سینگ 53 انچ کے ہیں۔ ایسا عموماً کم ہی ہوتا ہے۔ عموما مارخور کے سینگ 40 انچ ہی کے ہوتے ہیں۔ اب بڑے سینگ ہونے کی بنا پر اس کی بولی بھی زیادہ لگی ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ جانور کی ٹرافی ہنٹنگ سے پہلے اس کی نشاندہی کی جاتی ہے اور اس کی ویڈیو بنتی ہے۔
’شکاری کو شکار کرانے والی کمپنی موقع کا سروے کرتی ہے۔ جس کے بعد شکاری خود موقع پر پہنچ کر ٹرافی ہنٹنگ کرتے ہیں۔‘












