جب عثمان خواجہ کے اعزاز میں آسٹریلوی ٹیم نے شیمپین کے ساتھ جشن نہیں منایا

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

جب آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ سے اُن کے 88ویں اور آخری ٹیسٹ سے قبل پوچھا گیا کہ ان کے نزدیک ایک شاندار اختتام کیسا ہو گا؟ انھوں نے کہا ’میرے خیال میں شاندار اختتام تو پہلے ہی ہو چکا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس سے فرق پڑتا ہے کہ میں کتنے رنز بناتا ہوں۔‘

اور ان کے یہ الفاظ سچ ثابت ہوئے۔

39 سالہ عثمان خواجہ سڈنی میں اپنا 88 واں اور آخری ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے۔ 15 برس قبل اُنھوں نے اسی گراونڈ میں انگلینڈ کے خلاف ہی اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔

اس میچ میں وہ جوش ٹنگ کی گیند پر صرف چھ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے اور یوں آسٹریلیا نے سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹوں سے فتح حاصل کرتے ہوئے انگلینڈ کے خلاف پانچ میچز کی ایشیز سیریز چار ایک سے جیت لی۔

تاہم خواجہ کو ایک آخری بار سلامی لینے کا موقع ملا۔ انگلینڈ کی ٹیم نے ملک اور کھیل کے لیے اُن کی 88ویں ٹیسٹ خدمات کے اعتراف میں کریز تک آتے وقت انھیں گارڈ آف آنر دیا اور خواجہ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے انگلینڈ کے کپتان بین سٹوکس سے مصافحہ کیا۔

آؤٹ ہونے کے بعد انھوں نے ہیلمٹ اور دستانے اتارے، بیٹ بلند کیا اور پانچویں دن ایس سی جی میں موجود 25,847 تماشائیوں کی کھڑے ہو کر دی جانے والی داد سمیٹی۔

اس کے بعد ایک آخری علامتی لمحہ آیا۔ آسٹریلیا کے پہلے مسلم ٹیسٹ کرکٹر کے طور پر انھوں نے آؤٹ فیلڈ پر بنے اس سائن کے پاس سجدہ کیا جس پر لکھا تھا: ’شکریہ اُزی #419‘

میچ کے بعد فاکس کرکٹ سے بات کرتے ہوئے خواجہ نے کہا کہ ’میرا دل چاہتا تھا کہ میں رنز بناؤں اور جیت کے آخری رنز بھی خود ہی بناؤں، لیکن میں اس بات پر خوش اور شکر گزار ہوں کہ ہمیں آخری میچ میں کامیابی ملی اور میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ اسے منا سکا۔‘

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

جب شیمپین کے ساتھ جشن نہیں منایا گیا

اس تقریب کی سب سے اہم بات یہ رہی ایشز ٹرافی کی تقریب کے دوران شیمپین کی بارش نہیں کی گئی اور آسٹریلوی ٹیم نے ریٹائر ہونے والے اپنے کھلاڑی عثمان خواجہ کو ایک باوقار اور شاندار خراجِ تحسین پیش کیا۔

سوشل میڈیا پر آسٹریلیوی ٹیم کے اس اقدام کی بہت تعریف کی جا رہی ہے کہ روایتی شیمپین شاور کے بجائے سٹیو سمتھ اور آسٹریلوی ٹیم نے سادہ انداز میں جشن منانے کا انتخاب کیا، تاکہ عثمان خواجہ اپنی آخری ٹرافی اٹھانے کے موقع پر سب سے آگے اور نمایاں طور پر موجود رہ سکیں۔

خیال رہے اس سے قبل آسٹریلیوی ٹیم نے کئی مواقع پر شیمپین کے بغیر جشن منایا ہے تاکہ عثمان خواجہ تقریب کا حصہ بن سکیں اور شراب کی بوندیں ان پر نہ گریں۔

اس سے قبل ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں جیت کے موقع پر جب آسٹریلوی ٹیم نے شراب کے ساتھ جشن منانا چاہا تو ٹیم میں شامل مسلمان کھلاڑی عثمان خواجہ نے اپنے مذہبی عقائد کی وجہ سے اس جشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔۔۔ تب اس وقت کے کپتان کمنز نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو شراب کے ساتھ جشن منانے نہ دیا۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

’مسلمان پاکستانی لڑکا جسے کہا گیا تم کبھی آسٹریلیا کے لیے نہیں کھیل پاؤ گے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عثمان خواجہ کا کہنا ہے کہ ’میں پاکستان سے تعلق رکھنے والا مسلمان لڑکا ہوں جسے کہا گیا تھا کہ وہ کبھی بھی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے لیے نہیں کھیلے گا۔ اب میری طرف دیکھو۔‘

آسٹریلیا کے لیے کھیلنے کو ایک بڑی کامیابی قرار دینے کے ساتھ ساتھ عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی ’نسلی دقیانوسی خیالات‘ سے لڑ رہے ہیں۔

گذشتہ جمعرات کو سڈنی کرکٹ سٹیڈیم میں اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے آسٹریلوی بلے باز نے اس معاملے پر ایشز سیریز کے آغاز پر ہونے والے معاملات کا بھی ذکر کیا۔

عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ پہلے ٹیسٹ سے ایک روز قبل جب وہ گالف کھیلنے گئے اور اس کے بعد اُنھیں کمر میں تکلیف ہوئی تو ’مجھ پر تنقید کی گئی۔ کیونکہ میرے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔‘

جمعرات کو اپنی اہلیہ اور دونوں بیٹوں کے ہمراہ 50 منٹ طویل جذباتی پریس کانفرنس میں عثمان خواجہ نے اپنے کریئر میں آنے والے اُتار چڑھاؤ کا تفصیل سے ذکر کیا۔

پرتھ ٹیسٹ سے پہلے کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے عثمان خواجہ نے کہا کہ جس طرح سے میڈیا اور سابق کھلاڑیوں نے مجھ پر حملہ کیا، ’وہ بہت افسوسناک تھا۔‘

عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ ’ایشز کے لیے میری تیاری پر سوال اُٹھائے گئے۔ مجھے کہا گیا کہ میں ٹیم کے لیے سنجیدہ نہیں ہوں۔ اس نے ٹیسٹ میچ سے ایک دن پہلے گالف کھیلی، یہ خود غرضی ہے۔ وہ سخت ٹریننگ سے کتراتا ہے۔ اس نے کھیل سے ایک دن پہلے ٹریننگ نہیں کی۔ وہ سست ہے۔‘

’یہ وہی دقیانوسی اور نسلی تصورات ہیں، جن کے ساتھ میں اپنی زندگی میں بڑا ہوا ہوں۔ میں نے سوچا تھا کہ میڈیا اور سابق کھلاڑی اس سے آگے بڑھ چکے ہیں، لیکن ہم اب بھی اس سے آگے نہیں بڑھ سکے۔‘

عثمان خواجہ نے اس سوال کے سات منٹ کے جواب میں مزید کہا کہ ’میں آپ کو ان گنت لڑکوں کی تعداد بتا سکتا ہوں، جنھوں نے ایک دن پہلے گالف کھیلی، اُنھیں انجری ہوئی اور آپ لوگوں نے اُن کے بارے میں ایک لفظ نہیں بولا۔‘

’میں آپ کو اس سے بھی زیادہ لوگوں کے نام بتا سکتا ہوں، جنھوں نے ایک رات پہلے 15 بیئر کے گلاس پیے اور انجری کا شکار ہوئے اور کسی نے ایک لفظ نہیں کہا۔ لیکن جب میں انجری کا شکار ہوتا ہوں تو مجھ پر سوال اُٹھائے جاتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’جب کوئی انجری کا شکار ہوتا ہے تو اس سے ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے، جس طرح جوش ہیزل وڈ اور نیتھن لائن کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔‘

’یہ وہ چیز تھی جس کے بارے میں میں سب سے زیادہ اداس تھا اور یہی وہ چیز تھی جس سے میں کافی عرصے سے نمٹ رہا ہوں۔ میں اس کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتا، لیکن مجھے ایسا لگا جیسے مجھے ابھی اور ابھی اس کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

عثمان خواجہ اور تنازعات

عثمان خواجہ کا خاندان اس وقت پاکستان سے آسٹریلیا چلا گیا تھا، جب وہ صرف پانچ برس کے تھے۔ کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق عثمان خواجہ 1986 کے دوران اسلام آباد میں پیدا ہوئے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب عثمان خواجہ نے نسلی امتیاز کی شکایت کی ہو۔ سنہ 2020 میں بھی اُنھوں نے اپنے پاکستانی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی وجہ سے اُنھیں ’سست‘ کہا گیا۔

سنہ 2023 میں اُن پر غزہ کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں بازو پر سیاہ پٹی باندھنے پر بھی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اعتراض کیا تھا۔

عثمان خواجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اپنے آپ کو عوام کا چیمپئن کہتا ہوں۔۔اس لیے نہیں کہ ہر کوئی مجھ سے پیار کرتا ہے، بلکہ اس کے لیے میں ایسی بات کرتا ہوں، جن کے بارے میں دوسرے لوگ بات نہیں کرتے۔‘

عثمان خواجہ کا مزید کہنا تھا کہ اب یہ کہا جائے گا کہ ’میں ریس (نسلی) کارڈ کھیل رہا ہوں۔ لیکن یہ وہ چیزیں ہیں، جو آئے روز ہمارے سامنے ہوتی ہیں۔ لیکن ہم اس پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔‘

’میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ نئے آنے والے عثمان خواجہ کا سفر کچھ مختلف ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے۔ نسلی دقیانوسی تصورات نہ ہوں۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عثمان خواجہ کے کریئر پر ایک نظر

عثمان خواجہ اپنے کریئر میں چھ ایشز ٹیسٹ سیریز کھیل چکے ہیں، جن میں سے دو آسٹریلیا جیتا، دو ہارا جبکہ دو ڈرا ہوئیں۔

وہ سنہ 2023 میں انڈیا کے خلاف ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ جیتنے والی آسٹریلوی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔

اگر اُنھوں نے سڈنی ٹیسٹ میں 30 رنز بنائے تو وہ سب آسٹریلیا کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں 14 ویں نمبر پر آ جائیں گے۔

وہ 88 ٹیسٹ میچز میں 43 کی اوسط سے 6206 رنز بنا چکے ہیں، جن میں 16 سنچریاں اور 28 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

خواجہ 40 ایک روزہ میچز میں 42 کی اوسط سے 1554 رنز بنا چکے ہیں جبکہ اُنھوں نے دو ٹوئنٹی میچز میں بھی آسٹریلیا کی نمائندگی کر رکھی ہے۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں کوئنز لینڈ کے لیے کھیلنے والے عثمان خواجہ اپنے کریئر کا اختتام اُسی جگہ پر کریں گے، جو اُن کا گھر تھا اور جہاں اُنھوں نے سنہ 2008 میں پہلی مرتبہ نیو ساوتھ ویلز کے لیے پروفیشنل کرکٹ کھیلی تھی۔

عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

وہ متعدد بار ٹیم سے ڈراپ بھی ہوتے رہے، لیکن سنہ 2022-2021 کے بعد سے وہ آسٹریلوی ٹاپ آرڈر کا مستقل حصہ رہے۔

پرتھ ٹیسٹ کے دوران ٹریوس ہیڈ کو دوسری اننگز میں خواجہ کی جگہ اوپننگ کے لیے بھیجا گیا۔ ہیڈ نے شاندار سنچری بنا کر آسٹریلیا کو آٹھ وکٹوں سے فتح دلائی۔

خواجہ کمر کی تکلیف کی وجہ سے دوسرا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے جبکہ اُنھیں تیسرے ٹیسٹ کے لیے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔ لیکن سٹیو سمتھ کی بیماری کی وجہ سے اُنھیں عین وقت پر ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔