’ایک چینی کے ساتھ کھانا کھا رہی ہوں‘: وہ متنازع اشارہ جو مس فن لینڈ کو تاج سے محروم کر گیا

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, کیلی این جی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
مس فن لینڈ سارہ ضافس کی ایک تصویر وائرل ہونے کے بعد ان کا خطاب ان سے واپس لے لیا گیا ہے۔ مس فن لینڈ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ سارہ ضافس سے ان کا خطاب واپس لینا ایک ’مشکل مگر ضروری‘ اقدام تھا۔
اس تصویر کی وجہ سے سارہ ضافس پر نسلی تعصب کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
وائرل ہونے والی اس تصویر میں سارہ اپنی انگلیوں سے آنکھیں کھینچتی نظر آئیں، جس کے ساتھ انھوں نے کیپشن دی کہ وہ ایک چینی کے ساتھ کھانا کھا رہی ہیں۔
تاریخی اعتبار سے ایسے آنکھیں کھینچنا ایشیائی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے تعصب اور تضحیک کی علامت ہے۔
یاد رہے کہ سارہ ضافس نے گذشتہ ماہ تھائی لینڈ میں ہونے والے مس یونیورس کے مقابلے میں بھی فن لینڈ کی نمائندگی کی تھی۔
فن لینڈ کے وزیراعظم نے سوموار کے روز کہا کہ یہ اشارہ ’احمقانہ‘ تھا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا تنازع ملک کے لیے ’نقصان دہ‘ ثابت ہوا۔
تاہم سارہ کا کہنا ہے کہ یہ رات کے کھانے کے دوران سر درد پر ان کا ردعمل تھا۔
مقامی میڈیا کے مطابق سارہ کا دعویٰ ہے کہ ان کی تصویر کے نیچے یہ کیپشن ان کے ایک دوست نے ان کی رضامندی کے بغیر دی تاہم سارہ نے اس تصویر کے حوالے سے معافی بھی مانگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انھوں نے انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میرے لیے سب سے اہم چیز لوگ اور ان کے پس منظر کے لیے عزت ہے۔‘
سارہ کی معافی کو بھی تنقید کا سامنا ہے کیونکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ پیغام فن لینڈ کی زبان میں دیا گیا اس لیے اس میں ’خلوص‘ نہیں۔
ایک صارف نے ان کی پوسٹ کے نیچے لکھا کہ ’نہیں پتا کہ فن لینڈ سے باہر موجود چینی افراد اسے سمجھ پائیں گے یا نہیں۔ انتہائی مخلصانہ معافی۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اس کی ضرورت نہیں تھی، ایشیائی لوگوں نے آپ کے ساتھ کچھ نہیں کیا۔ ہم اب بھی آپ سے مایوس ہیں۔‘
تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سارہ کے انداز کو کاپی کر کے اپنی تصویریں شیئر کر رہے ہیں۔
فن لینڈ کے دو رکن پارلیمان نے سارہ کی حمایت میں ان کے انداز کو نقل کرتے ہوئے تصاویر شیئر کیں تاہم تنقید کے بعد انھیں ہٹا لیا گیا۔
فن لینڈ کی قومی ایئر لائن نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ اس تنازعے نے کمپنی کو متاثر کیا اور سیاحوں سے فن لینڈ کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
ایئر لائن نے منگل کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’پارلیمنٹ کے کچھ ارکین کے بیانات اور پوسٹس فن ایئر کی اقدار کی نمائندگی نہیں کرتی ہیں۔‘
اس تنازع پر دیگر مشرقی ایشیائی ممالک کے علاوہ جاپان، جنوبی کوریا اور چین میں بھی ردعمل دیکھنے کو ملا۔
جاپان میں فن لینڈ کے سفارتخانے کا کہنا ہے کہ انھیں اس بارے میں متعدد سوالات موصول ہوئے ہیں کہ فن لینڈ نسلی تعصب سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کر رہا ہے۔













