’بائیکاٹ نہ کیا تو ہم بزدل کہلائیں گے‘: آنکھیں کھینچنے کا متنازع اشتہار جس پر گھڑیوں کے برانڈ سواچ کو معافی مانگنا پڑی

Close-up shot of a young Asian man with pulling the corners of his eyes up with both hands.

،تصویر کا ذریعہSwatch

،تصویر کا کیپشنچینی صارفین اشتہار وائرل ہونے کے بعد سواچ کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ چاہتے ہیں
    • مصنف, کو ایوی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، سنگاپور

گھڑیوں کے معروف سوئس برانڈ سواچ کو اس وقت اپنے ایک اشتہار پر معافی مانگنا پڑی جب سوشل میڈیا پر بعض چینی صارفین نے اس پر سخت ناراضی ظاہر کی۔

اس اشتہار میں ماڈل اپنی آنکھیں انگلیوں کی مدد سے ایک طرف کھینچ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تاریخی اعتبار سے یہ ایشیائی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے تعصب اور تضحیک کی علامت ہے۔

اشتہار وائرل ہونے کے بعد چینی سوشل میڈیا صارفین نے اس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔

اب سواچ کا کہنا ہے کہ اس نے ماڈل کے انداز پر ظاہر کردہ تشویش کا نوٹس لیا ہے۔

سنیچر کو اپنے پیغام میں اس نے کہا کہ ’ہم اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے تناؤ اور غلط فہمی پر تہہ دل سے معذرت چاہتے ہیں۔ ہم اس معاملے کو اہمیت دیتے ہیں اور ہم نے ایسا مواد فوراً دنیا بھر سے ہٹا دیا ہے۔‘

مگر یہ معافی ناقدین کو خاموش نہ کر سکی۔

’سواچ کو صرف منافع کم ہونے کا ڈر ہے‘

چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر ایک صارف نے الزام لگایا کہ سواچ کو صرف ’منافع کم ہونے کا ڈر ہے۔ آپ معافی مانگ سکتے ہیں مگر ہم آپ کو معاف نہیں کریں گے۔‘

ایک دوسرے صارف نے کہا کہ ’وہ ہماری وجہ سے پیسے کماتے ہیں اور پھر بھی چینی لوگوں کے خلاف امتیازی سلوک کی جرات رکھتے ہیں۔ اگر ہم نے چین میں اس کا بائیکاٹ نہ کیا تو ہم بزدل کہلائیں گے۔‘

چینی صارفین اشتہار وائرل ہونے کے بعد سواچ کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ چاہتے ہیں۔

اس کمپنی کو چین، ہانک کانگ اور مکاؤ سے قریب 27 فیصد آمدن حاصل ہوتی ہے تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین میں معاشی سست روی کے باعث وہاں خریداری میں کمی آئی اور کمپنی کو مشکلات درپیش ہیں۔

کمپنی کو چین، ہانک کانگ اور مکاؤ سے قریب 27 فیصد آمدن حاصل ہوتی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکمپنی کو چین، ہانک کانگ اور مکاؤ سے قریب 27 فیصد آمدن حاصل ہوتی ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ کمپنی اومیگا، لانگنز اور ٹیسوٹ کی گھڑیاں بھی بناتی ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران چینی صارفین نے ثفاقت کی تضحیک یا قومی مفاد کے نام پر کئی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔

سنہ 2021 کے دوران چین میں عالمی فیشن برانڈز کے خلاف بائیکاٹ مہم شروع ہوئی تھی جس میں ایم اینڈ ایم، نائیکی اور ایڈیڈاس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت ان کمپنیوں نے سنکیانگ صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا تھا۔

گذشتہ سال بعض صارفین نے ملبوسات کے جاپانی سٹور یونیکلو کے بائیکاٹ کی کوشش کی اور یہ اس وقت ہوا جب کمپنی نے کہا کہ وہ سنکیانگ سے کپاس حاصل نہیں کر پا رہے۔

سنہ 2018 میں اٹلی کے فیشن براڈ ڈولچے اینڈ گبانا کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کمپنی نے ایک اشتہار میں دکھایا تھا کہ چینی ماڈل چاپسٹکس کی مدد سے اطالوی کھانا کھانے کی کوشش کر رہی ہیں اور یہ کرنا بظاہر مشکل ہو رہا ہے۔

اس معاملے پر چینی ای کامرس ویب سائٹس سے ڈی اینڈ جی کی مصنوعات ہٹا دی گئی تھیں اور برانڈ نے شنگھائی فیشن شو بھی منسوخ کر دیا تھا۔

ناقدین کا دعویٰ تھا کہ اس اشتہار میں چینی خواتین کو دقیانوسی اور نسل پرستانہ انداز میں دکھایا گیا۔