سوویت یونین کا دیا تحفہ جو برسوں تک امریکہ کی جاسوسی کرتا رہا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, میٹ ولسن
- عہدہ, بی بی سی کلچر
آج سے تقریباً 80 سال قبل دوسری عالمی جنگ کے آخری چند ہفتوں میں روسی سکاؤٹس کے ایک گروپ نے ماسکو میں تعینات امریکی سفیر کو تحفے میں ہاتھ سے تراشی امریکی مہر یا مونو گرام دیا تھا۔
یہ تحفہ جنگ کے دوران روس اور امریکہ کے درمیان تعاون کی علامت تھا۔ جسے امریکی سفیر ایوریل ہیریمن نے فخریہ طور پر سنہ 1952 تک اپنے گھر میں لٹکائے رکھا۔
لیکن امریکی سفیر اوراُن کی ٹیم تحفے میں ملنے والی اس مہر میں جاسوسی کے لیے نصب آلے سے اُس وقت تک لاعلم رہی جب تک سکیورٹی ٹیم نے اس چیز کا پتہ نہیں لگایا۔
اس کے ذریعے سات سال تک سفارتی بات چیت کی جاسوسی کی گئی اور سوویت یونین نے بظاہرسادہ اور بے ضرر آرٹ ورک کے ذریعے دشمن کی صفوں میں شامل ہو کر سٹرٹیجک فائدہ اٹھانے جیسے اقدامات میں ’ٹروجن ہارسز‘ کو بھی مات دی دے ہے۔
لیکن جاسوسی کے افسانے جیسی داستان درحقیقیت ایک سچا واقعہ ہے۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟
کاؤنٹر سرویلنس کے ماہر 79 سالہ جان لٹل بہت عرصے تک جاسوسی کے اس آلے کے سحر میں مبتلا رہے اور یہاں تک کہ انھوں نے اس سے ملتی جلتی ڈیوائس بنائی۔
لٹل کے اس شاندار کام پر ایک ڈاکومینٹری بنائی گئی ہے جس کی سکریننگ اگلے ماہ ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہJohn Little
انھوں نے اس ڈیوائس، جیسے ’دا تھنگ‘ کا نام دیا گیا ہے، کی ٹیکنالوجی کو موسیقی کے انداز میں بیان کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان کے مطابق یہ آرگن پائپ جیسی ٹیوبز پرمشتمل ہے اور ان ٹیوبز پر ڈرم کی طرح ایک باریک جھلی ہے جس میں انسانی آواز سے ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹوپی کی پن جتنی چھوٹی ہے کیونکہ اس میں کوئی ’الیکٹرونکس اور بیٹری‘ نہیں ہے، اسی وجہ سے سکرینگ کے دوران اس کا پتہ چل سکا۔
تاریخ دان کیتھ ملٹن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ایک آلے کی انجینئرنگ کے لیے بہت مہارت چاہیے کیونکہ یہ سوئس گھڑیوں اور مائیکرومیٹر کے درمیان کی کوئی ٹیکنالوجی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ دا تھنگ آڈیو مانیٹرنگ کی سائنس کو اس سطح پر لے آئی ہے جسے پہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
سفیر کی رہائش گاہ کے اندر یہ ڈیوائس اُسی وقت فعال ہوتی جب قریبی عمارت میں موجود ریموٹ ٹرانسیور کو آن کیا جاتا، جو ہائی فریکوئنسی سگنل بھیجتا اور بگ ڈایوائس کے تمام پیغامات وصول ہونے لگتے۔
یہ سب اُس وقت تک جاری رہا جب اچانک سنہ 1951 میں ماسکو میں موجود برٹش ملٹری ریڈیو پر آپریٹر نے غلطی سے دا تھنگ کی ویو لنتھ پر ٹیون کیا تو انھیں دور دراز کمرے میں ہونے والی گفتگو سنائی دی۔
امریکی تکنیکی ماہرین نے سفیر کی رہائش گاہ کو خالی کروایا اور تلاشی لی۔ تین دن کے اندر ہی انھوں نے محسوس کیا کہ ہاتھ سے تراشی ہوئی اس مہر میں ایک ’خفیہ کان‘ ہے جو سفیروں کے مابین ہونے والی بات چیت سن سکتا ہے۔
جاسوسی کے لیے آرٹ کا استعمال
روسی ٹیکنکشن جنھوں نے کئی عرصے تک جاسوسی کے آلے دا تھنگ کو آپریٹ کیا ہے، کا کہنا ہے کہ ’طویل عرصے تک ہم مخصوص اور انتہائی اہم معلومات حاصل کرنے میں کامیاب رہے جس سے ہمیں سرد جنگ میں کچھ فوائد بھی حاصل ہوئے۔‘
اُس وقت سے لے کر اب تک سوائے سوویت انٹیلیجنس کے کوئی یہ نہیں جانتا کہ جاسوسی کے لیے ایسے مزید کتنے آلے استعمال ہوئے ہیں۔
جاسوسی کی ڈیوائس کے طور پر اس کی کامیابی کی وجہ اس کی تکنیک تھی اوریہ اس لیے بھی موثر تھا کیونکہ اس نے خوبصورت اشیاء لیے انسانی رویوں کو استعمال کیا۔ ہم اپنی حیثیت، شوق اور ثقافتی رجحانات کے سبب آرٹ ورکس اور آرائشی اشیا پسند کرتے ہیں۔ روسی انٹیلی جنس نے اس مفروضے کو استعمال کیا۔
آرٹ کے نمونے کے ذریعے جاسوسی کی یہ واحد مثال نہیں ہے۔
ماضی میں بھی آرٹ کو جاسوسی اور فوجی حکمت عملی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ مشہور مونا لیزا کی پینٹنگ بنانے والے مصور لیونارڈو ڈاونچی نے ٹینک اورمحاصرہ کرنے والے ہتھیار بھی ڈیزائن کیے۔ پیٹر پال روبن نے جنگ کے دوران جاسوسی کی۔
پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں مختلف فنکار کئی حفیہ مشنز کا حصہ رہے ہیں۔ برطانوی تاریخ دان ایتھونی بلنٹ دوسری جنگِ عظیم میں اور سرد جنگ کے آغاز پر جاسوسی کرتے رہے۔
جاسوس کے لیے عجیب آلہ دا تھنگ کی بنیاد بھی آرٹ ہی ہے۔
اس آلے کے موجد روس میں پیدا ہونے والے موسقیار لیئون تھیریمین تھے جنھوں نے دنیا کا وہ پہلا الیکٹرانک انٹسرومنٹ بنایا، جس میں موسیقی کے آلے کو چھوئے بغیر دھن بنائی جا سکتی ہے۔ اس میں اینٹینا کے ارد گرد ہوا کے ذریعے ہاتھ کی حرکت نوٹس کو کنٹرول کرتی ہے۔ موسیقی کے اس ساز کو اُس کے موجد تھیریمین کے نام سے جانا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سفیر کی رہائش گاہ سے نکلنے والا جاسوسی کا آلہ دا تھنگ کو امریکی انٹیلیجنس نے خفیہ رکھا کیونکہ سفیر کی رہائش گاہ میں جاسوسی سکیورٹی اہلکاروں کی ناکامی تھی۔
لیکن سنہ 1960 میں جب جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اپنے عروج پر تھی تو اس وقت ماسکو میں امریکی جاسوس طیارہ مار گرایا گیا۔
اس کے بعد سفارتی ہنگامے کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکاروں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ’مہر والے معاملے‘ کو افشاں کر دیا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ سرد جنگ کے دوران کی جانی والے جاسوسی یک طرفہ نہیں ہے۔
جان لٹل کا کہنا ہے کہ ’جاسوس طیارے کو مار گرانے ہی دراصل دا تھنگ کو منظرِعام پر لانے کی وجہ بنا لیکن اس کی تکنیکی مہارت کبھی بھی عام نہیں کی گئی۔
برطانوی کاؤنٹر انٹیلی جنس نے خفیہ طور پر اس آلے کا تفصیلی مطالعہ کیا اور یہ معلومات اُس وقت تک راز میں رہیں جب تک سابق سکیورٹی آفیسر پیٹر رائٹ کی یادداشت پر مبنی کتاب ’سپائی کیچر‘ سنہ 1987 شائع ہوئی۔
دا تھنگ کی تکنیکی نفاست او سرد جنگ میں اس کے کردار نے مورخین کو پریشان رکھا لیکن یہ ماضی کی اعلی ثقافت کے تاریخ پہلو کو بھی ظاہر کرتی ہے جو شاندار اوپیرا ہاؤسز اور آرٹ گیلریوں سے اوجھل ہے۔
اس میں کلاسیکل موسیقار جاسوسی کے آلات تیار کرتے ہیں اور ہاتھ سے تراشے ہوئے فن پارے عسکری راز اکٹھا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔












