انڈین فضائیہ کے قافلہ پر حملہ: راجوری اور پونچھ سیکٹر میں گذشتہ چند ماہ کے دوران حملوں میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہANI
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو، سرینگر
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پونچھ میں انڈین فضائیہ کے قافلے میں شامل ایک گاڑی پر عسکریت پسندوں کے حملے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔
انڈین فضائیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ سنیچر کی شب ضلع پونچھ کے علاقے ششیدر کے قریب عسکریت پسندوں نے انڈین فضائیہ کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا ہے۔
’عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں اہلکاروں نے بہادری سے مقابلہ کیا۔ حملے میں انڈین فضائیہ کے پانچ اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوئے اور انھیں فوری طور طبی امداد کے لیے قریبی فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن ایک شدید زخمی فوجی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔‘
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ’یہ فوجی قافلہ جڑانوالی سے ایئر فورس بیس کی طرف جا رہا تھا جب دہشت گردوں نے گھات لگا کر حملہ کیا۔‘
خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق ’ایک اہلکار کی حالت تشویشناک ہے جبکہ باقی تین کی حالت مستحکم ہے۔‘
’اتوار کی صبح سے ضلع پونچھ میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور سکیورٹی فورسز تمام گاڑیوں کی تلاشی لے رہی ہیں۔‘
خیال رہے کہ پیر پنجال وادی میں راجوری اور پونچھ کے علاقوں میں اس سے پہلے بھی ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں انڈین فوج کو جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سنہ 2003 کے بعد راجوری اور پونچھ کے علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات نہیں ہو رہے تھے تاہم اکتوبر 2021 سے ان حملوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈین پولیس اور فوج کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سات ماہ میں یہاں 20 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جن میں افسران اور کمانڈوز بھی شامل ہیں جبکہ گذشتہ دو سالوں کے دوران ان علاقوں میں 35 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ 22 دسمبر 2023 کو جموں کشمیر کے جنوب مغربی ضلع راجوری میں مسلح عسکریت پسندوں نے انڈین آرمی کی دو گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ کرکے تین فوجیوں کو ہلاک کردیا تو دوسرے ہی روز تین مقامی نوجوانوں کی لاشیں فوجی کیمپ کے قریب پائی گئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
راجوری پونچھ کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
راجوری کے رہنے والے تاریخ دان اور سماجی رضاکار کے ڈی مینی کہتے ہیں کہ 1846 میں برطانوی راج اور جموں کے مہاراجہ گلاب سنگھ کے درمیان امرتسر میں ’کشمیر ٹرانسفر‘ کا معاہدہ ہوا تو مہاراجہ نے راجوری اور پونچھ کو اپنے اقتدار میں شامل کرلیا۔
’اُس سے قبل سات صدیوں تک راجوری ریاست اور پونچھ جاگیر پر مسلم جرال گھرانوں کی حکومت تھی۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کی گود میں جہلم اور چناب دریاوٴں کے درمیان آباد راجوری اور پونچھ میں صدیوں تک ہندو اور مسلم برادریاں امن کے ساتھ رہتے تھے۔
واضح رہے 1947 میں برٹش انڈیا کی تقسیم سے قبل پاکستان اور انڈیا دونوں کے زیرانتظام کشمیری خطے برطانوی عمل داری میں ایک واحد آزاد ریاست تھی، جس پر ڈوگرہ مہاراجوں نے دو صدیوں تک حکومت کی تھی۔
انڈیا کے ساوٴتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق تقسیم کے دوران ہی پونچھ اور راجوری کے مسلمانوں نے ڈوگرہ مہاراجہ کے خلاف بغاوت کردی جس میں ڈوگرہ فوج کے اہلکار بھی شامل ہوئے اور اُسی دوران پاکستانی قبائلی علاقوں سے بھی مسلح عسکریت پسندوں نے ان کے ساتھ شمولیت کرلی۔
پورٹل کے مطابق مہاراجہ نے جب انڈیا کے ساتھ فوجی مدد کے عوض کشمیر کا الحاق کردیا تو انڈین فوج بغاوت کچلنے کے لیے پونچھ اور راجوری میں داخل ہوئی اور پہلی انڈیا پاکستان جنگ شروع ہوگئی۔
انڈیا کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے معاملہ اقوام متحدہ میں پیش کردیا تو یو این نے دونوں ملکوں کو جوں کی توں پوزیشن پر جنگ بندی کرنے کا حکم دیا۔ اس طرح جو لکیر سرحد کے طور کشمیر پر کھینچی گئی اسے ’سیز فائر لائن‘ کا نام دیا گیا۔
پاکستانی فوج مظفرآباد، پلندری، باغ، کوٹلی، بھمبھر، باغ، راولاکٹ، چکوٹھی اور میر پور سمیت کئی علاقوں سے انڈین افواج کو نکالنے میں کامیاب رہی جبکہ انڈین افواج نے راجوری اور پونچھ خطے کے علاوہ جموں اور وادی کشمیر کے خطے کو انڈین کنٹرول میں کردیا۔
اسی سیز فائر لائن کو 1972 میں ذولفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان ہوئے معاہدے میں ’لائن آف کنٹرول‘ یا ایل او سی کا نام دیا گیا۔
چار ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے راجوری اور پونچھ کی آبادی تقریباً چار لاکھ ہے۔ پونچھ میں مسلم آبادی کا تناسب 90 فیصد جبکہ راجوری میں یہ تناسب 58 فیصد ہے۔ ان خطوں میں رہنے والے بیشتر لوگوں کے رشتہ دار پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں رہتے ہیں۔ ان دونوں خطوں کو یہاں وادئِ پیرپنچال کہتے ہیں جبکہ پاکستانی جانب والے ان کے باقی خطوں کو نیلم ویلی کہتے ہیں۔
دونوں کے درمیان 200 کلومیٹر طویل اور 30 کلومیٹر چوڑی ایل او سی ہے، جو دنیا کی سب سے خطرناک سرحدوں میں شمار ہوتی ہے۔ پوری ایل او سی کی کل لمبائی 700 کلومیٹر سے زیادہ ہے اور یہ پونچھ راجوری کے علاوہ پورے شمالی کشمیر پر محیط ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے لیے راجوری اور پونچھ کی تذویراتی (سٹریٹجک) اہمیت پر دونوں ملکوں میں کافی کچھ لکھا جا چکا ہے۔ تاہم ساوٴتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق پاکستان کے پہلے برٹش آرمی چیف لیفٹنٹ جنرل ڈگلس گریسی نے پاکستانی حکومت پر1947 میں ہی زور دیا تھا کہ ’اگر راجوری اور پونچھ ہاتھ سے گیا تو انڈیا کی فوج ہمیشہ آپ کے دروازے پر اندر آنے کے لیے آمادہ رہے گی۔‘
اسی پورٹل کے مطابق 1947 کی جنگ کے دوران جب اقوام متحدہ نے دونوں ملکوں کو فوجی محاصرے ہٹانے کا حکم دیا تو جواہر لعل نہرو فوجی کمانڈروں سے بار بار کہتے رہے کہ ’پونچھ پر کنٹرول بنائے رکھیں اور بغاوت کچلنے میں تیزی کریں۔‘
پونچھ اور راجوری خطوں کی اہمیت کا تذکرہ گذشتہ دنوں انڈین پارلیمنٹ میں بھی ہوا۔ انڈیا کے وزیرداخلہ امیت شاہ نے کشمیر کے حالات کے لیے جواہر لعل نہرو کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ کشمیر کے سوال پر اقوام متحدہ کا رُخ کرنا بہت بڑی غلطی تھی۔ اس دعوے کے جواب میں سابق وزیراعلیٰ اور رکن پارلیمان فاروق عبداللہ نے پارلیمنٹ میں ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’نہرو اگر پاکستان کو اقوام متحدہ میں نہ الجھاتے تو ہمارے پاس راجوری اور پونچھ نہیں ہوتا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’جنگ کے بعد خاموشی، پھر مبینہ دراندازی اور تشدد کے بعد امن، اب پھر تناوٴ‘
راجوری اور پونچھ کی آبادی نہایت جنگ زدہ رہی ہے۔ تاہم 1947 کی جنگ اور خون خرابے کے بعد یہاں دو دہائیوں تک خاموشی رہی۔ انڈیا کے دفاعی ماہرین کے مطابق 1965 کی انڈیا پاک جنگ کے دوران پاکستان نے راجوری اور پونچھ کی سرحدوں پر ’ آپریشن جبرالٹر‘ شروع کیا جس کے تحت مبینہ مسلح دراندازوں کو پیرپنچال ویلی میں داخل کیا گیا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ راجوری اور پونچھ کی آبادی نے مبینہ دراندازوں کے مقابلے میں فوج کا ساتھ دیا اور وہ آپریشن ناکام رہا۔ تاہم 1990 کشمیر میں مسلح شورش شروع ہوئی توچند ہی برسوں کے اندر راجوری اور پونچھ میں اس کا اثر دیکھا گیا۔ فوج نے دونوں اضلاع میں بڑے پیمانے پر کاؤنٹر انسرجنسی آپریشن کرکے بڑی تعداد میں عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا۔
سنہ 2007 میں انسانی حقوق کے مقامی اداروں نے دعویٰ کیا کہ پونچھ میں سینکڑوں گمنام قبریں ہیں، جن میں اُن لوگوں کو دفن کیا گیا ہے جنہیں فوج نے مبینہ طور پر حراست کے دوران ہلاک کردیا۔ تاہم فوج نے ان دعوؤں کی تردید کردی۔
راجوری کے محقق اور تاریخ دان کے ڈی مینی کے مطابق جب کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی کال پر لوگ انتخابات کا بائیکاٹ کرتے تھے ، اُس وقت پونچھ اور راجوری میں پولنگ بوتھوں پر لوگوں کی طویل قطاریں ہوتی تھیں۔ 2000 اور2010 کی دہائیوں میں پونچھ اور راجوری میں نسبتاً امن رہا۔
2019 کے اگست میں انڈیا نے کشمیر اور لداخ کو تقسیم کرکے دو مرکزی انتظام والے خطوں میں بدل دیا اور سبھی آئینی ضمانتیں بھی ختم کردیں جن کے تحت کشمیر ایک خصوصی ریاست تھی جس کا اپنا آئین، اپنا پرچم اور اپنے قوانین تھے۔ اب کشمیر انڈیا کی دوسری ریاستوں کی طرح ایک چھوٹے درجے کی یونین ٹیریٹری بن گئی۔
اس تاریخی تبدیلی کے چند ماہ بعد پونچھ اور راجوری میں ’پیپلز اینٹی فاشسٹ فورس‘ نام سے ایک مسلح گروپ سامنے آیا اور اس نے 2020 میں ایک مسلح حملے کے دوران فوج کے نو اہلکار ہلاک کردیے اور اس کی طویل ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کردی۔ تب سے درجنوں فوجی پی اے ایف ایف کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا تناوٴ مزید بڑھ سکتا ہے؟
راجوری میں ایک گاوٴں کے سرپنچ فاروق انقلابی کہتے ہیں کہ حراستی ہلاکتوں کے بعد نوجوانوں میں بہت غصہ پایا جاتا ہے۔ ’سب کہتے ہیں کہ اس ظلم کی بجائے اچھا ہے ہم سب مر جائیں۔‘
تحقیقات اور معاوضوں کے اعلان اور فوج کی طرف تعاون کی یقین دہانی پر انقلابی کہتے ہیں : ’انصاف کا صرف اعلان نہیں ہونا چاہیے، انصاف واقعی ہونا چاہیے اور سب کو دکھنا چاہیے کہ ہاں انصاف ہوگیا۔‘
جنوب ایشیائی امور کے ماہر اور معروف صحافی ظفرچودھری بھی راجوری کے ہی باسی ہیں۔
انھوں نے حراستی ہلاکتوں پر اپنے ردعمل میں ایکس پر لکھا: ’جموں کشمیر میں اس سال عکسریت پسندی سے متعلق تشدد کی کل وارداتوں میں سے نصف راجوری اور پونچھ میں رونما ہوئی ہیں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ اس شفٹ کا مطلب کیا ہے؟ جو کچھ کل ہوا وہ ہم سب کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔
’لیکن حکام اور اداروں کے ردعمل کا رُخ خاص طور پر قصورواروں اور ان کے سہولت کاروں کی طرف ہونا چاہیے۔ ایسی لڑائیوں میں غلطی سے ہونے والا ہر جانی نقصان دشمن کے عزائم کی مدد کرسکتا ہے۔ 1990 میں کشمیر میں جو کچھ ہوا اُس سے سبق سیکھنا ہو گا۔‘












