کوپ 27: متاثرہ ممالک کو معاوضہ فراہم کرنے کے معاہدے سے پاکستان کو کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے؟

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

مصر میں ماحولیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے اجلاس کوپ 27 میں ایک تاریخی معاہدے کے تحت غریب اور ترقی پذیر ممالک کو ماحولیاتی نقصان کے بدلے معاوضہ دینے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

مصری شہر شرم الشیخ میں دو ہفتوں سے جاری کانفرنس میں اس وقت توسیع کی گئی تھی جب جمعے تک کوئی معاہدہ طے نہیں ہو پایا تھا۔

اس معاہدہ پر اتفاق کا اعلان تالیوں کی گونج میں ہوا اور رات گئے اس معاہدے کے سلسلے میں مذاکرات کرنے والوں کو بالآخر وہ خبر ملی جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا۔

اس معاہدے میں سب سے بڑا سوال یہی رہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثرہ ملکوں کو نقصان کا معاوضہ کون دے گا۔

ایسے میں ایک ایسے فنڈ کے قیام کی بات کی جا رہی تھی جس سے ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کو نقصان کا ازالہ کرنے میں مدد مل سکے۔

پاکستان کو کوپ 27 معاہدے سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے؟

پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے اس معاہدے کو پاکستان کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ تھریڈ میں انھوں نے بتایا کہ وہ خود ماحولیاتی انصاف کے حصول کے لیے اقوام متحدہ گئے اور جب وہاں انھوں نے گروپ آف 77 (جی 77) کی سربراہی کی تو اس اجلاس میں لاس اینڈ ڈیمیجز سے متعلق پاکستان کی قراردار متفقہ طور پر منظور کرلی گئی تھی کہ اس مدعے کو کوپ 27 کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔

پاکستان کی وفاقی وزیر برائے ماحولیات شیری رحمان نے کہا ہے یہ اعلان ترقی پذیر اور تباہی کے خطرے سے دوچار ممالک کے لیے امید کی ایک کرن ہے، جو اس وقت شدید ماحولیاتی تبدیلی کی زد میں ہیں۔ ان کے مطابق اب یہ متعلقہ ’ٹرانزیشنل کمیٹی‘ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فنڈ کو دسمبر 2023 تک فعال کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے۔

ماحولیاتی امور کے ماہر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے بی بی سی سے پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے اس معاہدے کی اہمیت سے متعلق گفتگو کی ہے۔

ان کے مطابق کوپ کوئی فنڈنگ ایجنسی یا باڈی نہیں ہوتی کہ جہاں سے فنڈز مل رہے ہوں تاہم یہ ایک پالیسی فورم ہے جو اس سے متعلق فیصلے کرتا ہے۔ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری کے مطابق اس معاہدے سے پاکستان کو جو تاریخی کامیابی ملی ہے وہ یہ کہ اس بار کوپ 27 میں پاکستان جی 77 اور چائنا گروپ میں شامل 134 ممالک کی سربراہی کر رہا تھا اور تین دہائیوں کے سے زیرالتوا بحث کو کسی منزل تک پہنچایا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان نے نہ صرف اس اجلاس کے ایجنڈے میں تباہی اور اس کے خمیازے (Loss and Damage) سے متعلق بحث کروائی بلکہ ان ممالک کو 33 برس بعد ایک فنڈ قائم کرنے پر بھی آمادہ کر لیا۔ ڈاکٹر سلہری کے مطابق اقوام متحدہ کی سطح پر پیش رفت خاصی سست روی کا شکار ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس فنڈ کے فعال ہوتے ہوئے کم از کم دو یا تین برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

ان کے مطابق اس عرصے میں دنیا میں کہیں کسی اور ملک میں اگر پاکستان جیسا سیلاب یا تباہی آتی ہے تو پھر یقیناً دنیا کی توجہ اس خطے یا ملک پر ہوگی۔ تاہم ان کے مطابق پاکستان نے امیر ممالک کو آمادہ کیا ہے کہ ان کی وجہ سے جو ترقی پذیر ممالک میں ماحولیاتی تباہی آتی ہے وہ ماحولیاتی انصاف کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حصے کے فنڈ ان ممالک کے نقصان کے ازالے کے لیے ضرور دیں۔

ڈاکٹر عابد کے مطابق یہ امیر ممالک کی طرف سے کوئی احسان نہیں ہوگا بلکہ وہ یہ فنڈ گلوبل وارمنگ میں اپنے حصے کے بدلے دے رہے ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ امیر ممالک فاسل فیول اور کاربن کے اخراج کے ذریعے گلوبل وارمنگ کا سبب بنتے ہیں جس سے پھر ماحولیاتی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جیسا کہ پاکستان کو بڑے پیمانے پر سیلاب، ہیٹ ویو اور گلیشیئر کے پگھلاؤ جیسی آفات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور سماجی کارکن ڈاکٹر فاروق طارق اس کانفرنس میں ایک سماجی تحریک ایشیئن پیپلزموومنٹ آن ڈیٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ایک آبزرور کے طور پر شریک ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اب امیر ممالک ہر اس نقصان کو پورا کرنے کے ذمہ دار ہوں گے جو ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے کسی بھی غریب ملک کو تباہ کن سیلابوں، سونامی، یا شدید بارشوں سے ہوا ہو۔‘

ان کے مطابق اس فنڈ کا ابھی طریقہ کار طے ہوگا مگر پاکستان اس وقت توجہ کا مرکز ہے۔ ڈاکٹر فاروق کے مطابق ’سات دن تک میں وہاں رہا اور دیکھا کہ ہر کوئی پاکستان کو اس کا کریڈٹ دے رہے تھے کہ یہ سب اسلام آباد کی وجہ سے ممکن ہو سکا ہے۔‘ ان کے مطابق ’اس کوپ 27 کے باہر جو مظاہرے ہو رہے تھے وہاں میری تقریر وائرل ہوگئی، جہاں میں نے امریکہ اور یورپی یونین کو پاکستان میں آنے والی آفت کا ذمہ دار قرار دیا۔ آپ ماحولیاتی آلودگی کے ذمہ دار ہیں اور آپ اس کا خمیازہ ادا کریں۔‘

خیال رہے کہ امیر ممالک نے گذشتہ 30 برسوں سے اس بحث کو نظر انداز کیا کیونکہ انھیں اس بات کا ڈر ہے کہ ماضی میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ان کا کردار منفی رہا ہے اس لیے انھیں اس ضمن میں صدیوں تک معاوضہ ادا کرنا پڑے گا۔ میزبان ملک مصر نے کہا تھا کہ وہ چاہتا ہے کہ یہ معاہدہ رات سے قبل طے ہو جائے مگر مذاکرات کاروں نے صحافیوں کو بتایا کہ معاہدہ طے ہونے میں اب بھی کچھ وقت باقی ہے اور وہ ایک مزید لمبی رات کی تیاری کریں۔ کوپ 27 سب سے زیادہ دیر تک چلنے والے اجلاسوں میں سے ایک بن گیا۔ اس اجلاس میں قریب 200 ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

متاثرہ ملکوں کے نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟

سب سے بڑا اختلاف اس سوال پر تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثرہ ملکوں کے لیے قائم فنڈ میں نقصان کے معاوضے کے لیے پیسے کون دے گا۔

ترقی پذیر ممالک کئی دہائیوں سے اس کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مگر اس سے اقوام متحدہ کے لیے ترقی پذیر ملک کی تعریف پر بنیادی سوالات نے جنم لیا۔ 30 سال قبل کیے گئے ایک عہد کے مطابق امیر ممالک کو کاربن اخراج کم کرنے کی زیادہ کوششیں کرنی چاہیے۔

مگر تب سے حالات کافی بدل چکے ہیں۔ کچھ ترقی پذیر ممالک امیر ہوگئے ہیں اور کاربن کے اخراج میں ان کی رفتار بہت بڑھ گئی ہے۔

امریکی نمائندوں نے کہا کہ وہ ایسی تجاویز پر کام کر رہے ہیں جس سے ترقی پذیر ملکوں کے ماحولیاتی نقصان کا ازالہ ہوسکے گا۔

اس معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے افریقہ گروپ کے مذاکرات کار الفا کلوگا نے کہا کہ ’تین سال صبر کے بعد وہ دن آگیا۔ یہ دنیا بھر کے شہریوں کے لیے فتح ہے۔‘

پیسیفک جزیروں کے نمائندے ڈاکٹر سیوبھان مکڈونل نے کہا کہ ’ترقی پذیر ممالک کے لیے نقصان کے ازالے کے لیے تکنیکی معاونت حاصل کرنا ایک بڑا لمحہ ہے۔ مذاکرات کار مجموعی طور پر اس پر تسلی ظاہر کر رہے ہیں۔‘

مذاکراتی میز پر فاسل فیولز کے استعمال کے حوالے سے بھی غور کیا گیا۔

گذشتہ سال گلاسگو میں کوپ 26 کے دوران ملکوں نے کوئلے کے استعمال کو مرحلہ وار کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اب اس سے متعلق تجویز میں گیس اور تیل کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔