آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دنیا کی بقا کے لیے اقوام متحدہ کا کلائمیٹ سربراہ اجلاس کیوں اہم؟
کلائمیٹ چینج یا آب و ہوا میں تبدیلی کے بارے میں اقوام متحدہ کی کانفرنس اتوار چھ نومبر سے مصر میں شروع ہو رہی ہے جہاں عالمی رہنما دنیا کو درپیش آب و ہوا میں تبدیلی کے مسئلے پرگفت و شنید کریں گے۔
یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گذشتہ ایک برس کے دوران دنیا میں کئی قدرتی آفات آئیں اور کئی ملکوں میں بلند ترین درجۂ حرارت کے پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔
کلائمیٹ چینج سربراہی کانفرنس ہے کیا؟
کلائمیٹ چینج کے موضوع پراقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک سربراہی کانفرنس ہر سال منعقد کی جاتی ہے جس کا مقصد رکن ممالک کی حکومتوں کے مابین ان اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جس سے بڑھتی ہوئی عالمی حدت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اس کانفرنس کو ’سی او پی‘ یا ’کانفرنس آف دی پارٹیز‘ یا کوپ کہا جاتا ہے۔ یہاں پارٹیز سے مراد وہ ممالک ہیں جو کانفرنس میں شریک ہوتے ہیں اور جنھوں نے آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے سنہ 1992 کے پہلے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔
اس سال مصر میں ہونے والی اس کانفرنس کو ’کوپ 27‘ کہا جا رہا ہے کیونکہ یہ اس موضوع پر اقوام متحدہ کی 27ویں کانفرنس ہے۔ یہ کانفرنس شرم الشیخ کے مقام پر 6 سے 18 نومبر تک منعقد ہو گی۔
سربراہ اجلاس کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟
عالمی حدت (زمین کا درجۂ حرارت) میں اضافے کی وجہ وہ آلودگی ہے جو انسان پیدا کرتے ہیں اور اس میں سب سے بڑا حصہ اس آلودگی کا ہے جو فوسل فیول یعنی تیل، گیس اور کوئلے جیسا ایندھن جلانے سے پیدا ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سائسندانوں اور ماہرین ماحولیات کے، جنھیں انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) یا آب و ہوا میں تبدیلی کا بین الحکومتی پینل کہا جاتا ہے، مطابق عالمی سطح پر درجۂ حرارت میں ایک اعشاریہ ایک ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو چکا ہے اور ہم ایک اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ کی حد کو چھونے والے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے اندازے کے مطابق اگر عالمی درجۂ حرارت سنہ 1850 کے درجۂ حرارت سے ایک اعشاریہ سات سے ایک اعشاریہ آٹھ ڈگری زیادہ ہو جاتا ہے تو دنیا بھر کے لوگوں کو جان لیوا گرمی اور حبس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دنیا کو اس صورت حال سے بچانے کے لیے سنہ 2015 میں 194 ممالک نے پیرس معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت انھوں نے یہ عزم کیا تھا کہ عالمی درجۂ حرارت کو ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کی حد سے زیادہ نہیں بڑھنے دیا جائے۔
27ویں کانفرنس میں کون کون شریک ہوگا؟
شرم الشیخ میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں دو سو سے زیادہ حکومتوں کو دعوت دی گئی ہے۔
لگتا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن سمیت دنیا کی کچھ بڑی معیشتوں کے رہنما کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے، تاہم توقع ہے کہ روس اپنے مندوبین کانفرنس میں شرکت کے لیے بھیجے گا۔
چین اور کچھ دوسرے ممالک نے بھی ابھی تک تصدیق نہیں کی ہے ان کے سربراہان کانفرنس میں شریک ہوں گے یا نہیں۔
جہاں تک میزبان ملک کا تعلق ہے تو مصر نے تمام ممالک سے کہا ہے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس موقع پر ’قیادت کا ثبوت‘ دیں۔
اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے علاوہ دنیا بھر سے ماحولیات پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں، مقامی تنظیموں کے نمائیدے، تھِنک ٹینکس، کاروباری ادارے اور مذہبی گروپ بھی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
کوپ 27 مصر میں کیوں ہو رہی ہے؟
یہ پانچویں مرتبہ ہو گا کہ اقوام متحدہ کی یہ کانفرنس کسی افریقی ملک میں منعقد ہو رہی ہے۔
اس خطے کی حکومتوں کو امید ہے کہ یہ کانفرنس دنیا کی توجہ کلائمیٹ چینج کے ان تباہ کن اثرات کی جانب مبذول کرائے گی جو ان کے براعظم پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی کے لحاظ سے افریقہ دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں اس کے برے اثرات سب سے زیادہ ہوں گے۔
تازہ ترین اندازوں کے مطابق افریقہ میں خشک سالی کی وجہ سے ایک کروڑ 70 لاکھ افراد کو خوراک کی کمی کے بحران کا سامنا ہے۔
تاہم، اس کانفرنس کی میزبانی کے لیے مصر کا انتخاب متنازع بن چکا ہے۔ انسانی حقوق اور بقائے ماحول کے لیے کام کرنے والے کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ وہ چونکہ انسانی حقوق کے حوالے سے مصر پر تنقید کرتے رہے ہیں، اس لیے مصر نے انھیں کانفرنس میں شرکت سے روک دیا ہے۔
کانفرنس میں کن موضوعات پر بحث ہو گی؟
اس کانفرنس سے پہلے تمام رکن ممالک سے کہا گیا تھا کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے اپنے قومی منصوبے اقوام متحدہ کے پاس جمع کرائیں۔ اب تک صرف 25 ممالک نے اس پر عمل کیا ہے۔
کوپ 27 میں تین بڑے اہداف پر بات کی جائے گی:
- آلودگی میں کمی
- آب و ہوا میں تبدیلی سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کی تیاری میں مدد کرنا
- ان اقدامات کے لیے ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنا اور مالی و تکنیکی معاونت کا بندوبست کرنا
اس کے علاوہ ان اہداف کے بارے میں بات کرنا جن پرگزشتہ کانفرنس (کوپ 26) میں اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔
قدرتی آفات سے سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ آفات سے متاثر ہونے والے ممالک کی مالی معاونت کا بندوبست کرنا۔
عالمی سطح پر ’کابن مارکیٹ‘ کا قیام کرنا جس کے تحت فضائی آلودگی کے اثرات کےعوض عالمی سطح پر مختلف مصنوعات اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
کوئلے کا استعمال کم کرنے کے وعدوں پر عمل کو مضبوط بنانا۔
کیا کسی بات پر شرکا میں اتفاق کی کمی کا خدشہ ہے؟
عالمی سطح پر ماحولیات کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں مالی معاونت یا فنڈنگ ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہی ہے۔
مثلاً سنہ 2009 میں ترقی یافتہ ممالک نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ماحولیاتی تحفظ اور آلودگی میں کمی کے لیے ہر سال ایک سو ارب ڈالر دیا کریں گے تاکہ ترقی پذیر ممالک اپنے ہاں فضائی آلودگی میں کمی کریں اور خود کو ماحولیاتی تحفظ کی عالمی کوششوں کے لیے تیار کر سکیں۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک یہ وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے اور اب اس کی میعاد سنہ 2023 تک بڑھا دی گئی۔
لیکن دوسری جانب ترقی پذیر ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں قدرتی آفات سے پہنچنے والے ’نقصانات اور تباہی‘ کے ازالے کے لیے فوری مدد فراہم کی جائے۔
جرمنی کے شہر بون میں ہونے والے مذاکرات میں اس تجویز کو رد کر دیا گیا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو فوری مدد فراہم کی جائے۔ امیر ممالک کو خدشہ تھا کہ اگر وہ فضائی آلودگی پیدا کرنے کے بدلے میں ترقی پذیر ملکوں کو رقوم فراہم کرنے پر رضامند ہو جاتے ہیں تو یہ سلسلہ آئندہ کئی عشروں تک جاری رہے گا۔
تاہم یورپی یونین نے کوپ 27 میں اس معاملے پر بات چیت کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
کانفرنس کے دنوں میں آپ کو بہت سی اصطلاحیں اور بھاری بھرکم الفاظ بھی سننے کو ملیں گے، ان میں کچھ یہ ہوں گے۔
پیرس معاہلدہ: پیرس میں ہونے والا یہ معاہدہ وہ پہلا موقع تھا جب تمام ممالک نے متحد ہو کر عالمی حدت اور مضر گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) سائنسدانوں اور ماہرین کا وہ گروپ ہے جو آب و ہوا میں تبدیلی پر ہونے والی تازہ ترین تحقییق کا جائزہ لیتا ہے۔
ایک اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ سے مراد وہ ہدف ہے جس کے تحت صنعتی دور سے پہلے کے عالمی درجۂ حرارت کے مقابلے میں عالمی حدت کو ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنا ہے۔
ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ کانفرنس کامیاب رہی؟
اس بات کا انحصار اس پر ہے کہ آپ یہ سوال کس سے پوچھ رہے ہیں۔
کانفرنس میں ترقی پذیر ممالک کی کم سے کم خواہش یہ ہوگی کہ انھیں قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے مالی مدد کی فراہمی کی بات ضرور ہو۔
اس کے علاوہ ان ممالک کی کوشش یہ بھی ہوگی کہ انہیں مالی امداد کی فراہمی کی کوئی حتمی تاریخ دے دی جائے۔
دوسری جانب، ترقی یافتہ ممالک کوشش کریں گے کہ چین، انڈیا، برازیل، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ جیسے بڑے بڑے ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ زیادہ آلودگی پیدا کرنے والا ایندھن (کوئلہ) استعمال کرنا بند کر دیں۔
اس کے علاوہ اس کانفرنس میں ان اہداف پر بھی بات ہوگی جن کا وعدہ گزشتہ برس کیا گیا تھا۔ ان میں جنگلات کا تحفظ، کوئلہ اور میتھین گیس جیسے موضوعات شامل ہیں اور امید ہے کہ اس برس مزید ممالک ان حوالوں سے اپنی رضامندی کا اظہار کر دیں گے۔
تاہم، کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ عالمی رہنماؤں نے بہت دیر کر دی ہے اور اس کانفرنس میں جس بات پر بھی چاہے اتفاق ہو جائے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ کا ہدف پھر بھی حاصل نہیں ہوگا۔