گلیشیئرز اور موسمیاتی تبدیلی: پاکستان میں تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز خطرناک سیلابی ریلوں کا باعث کیسے بنتے ہیں؟

    • مصنف, نوین سنگھ کھڑکا
    • عہدہ, نامہ نگار ماحولیات، بی بی سی

اس ہفتے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں کئی مقامات پر شدید سیلابی ریلے دیکھنے میں آئے اور ماہرین کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ شدید گرمی کی لہر میں گلشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ سیلابی ریلے اس قدر تیز تھے کہ یہ بہت سے علاقوں میں اپنے ساتھ بڑے بڑے پتھر اور مٹی کے تودے بہا کر لے گئے۔

سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں گلگت، بلتسان اور خیبر پختونخواہ کے اضلاع شامل ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں سات افراد ہلاک ہوئے اور 60 مکانات کے منہدم ہونے کے علاوہ سات پل سیلاب میں بہہ گئے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی کچھ سڑکوں اور پُلوں کو نقصان پہنچا اور ایک مقام پر پہاڑوں سے گرنے والی چٹانوں اور تودوں کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے دریا کا بہاؤ رکا رہا۔

گلگت بلتستان کے قدرتی آفات سے بچاؤ کے ادارے کے سربراہ کمال قمر کا کہنا تھا کہ ’اس علاقے میں اتنے کم وقت میں اتنے زیادہ سیلابی ریلے ایک نیا ریکارڈ ہے۔ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بہت نقصان ہوا ہے اور کئی مقامات پر سڑکیں اور پل تباہ ہو گئے ہیں۔‘

گلگت بلتستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں سات ہزار سے زیادہ گلیشیئر ہیں جن میں سے کچھ کا شمار، قطب شمالی و جنوبی کے بعد دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز میں ہوتا ہے۔

اس خطے میں تین بڑے پہاڑی سلسلے ہیں، جن میں ہمالیہ، ہندوکش اور کراکرم شامل ہیں اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی، کے ٹو بھی اسی علاقے میں ہے۔

حکام کے مطابق اس برس جولائی کے پہلے ہفتے میں درجۃ حرارت غیر متوقع طور پر بہت زیادہ رہا جس سے بلند چوٹیوں پر پڑی برف غیر معمولی تیزی سے پگھلی۔

گلگت بلستان میں محکمۂ موسمیات سے منسلک، ڈاکٹر فرخ بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گذشتہ ہفتے درجۂ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ سے 43 ڈگری تک پہنچ گیا تھا جو کہ ایک غیر معمولی بات تھی، کیونکہ سال کے اِن دنوں میں درجۂ حرارت 36 سے 38 ڈگری سینٹی گرینڈ کے دمیان رہنا چاہیے۔

اگرچہ شمالی علاقوں میں سیلاب میں کچھ ٹھہراؤ آ گیا ہے لیکن حکام کے مطابق انھیں خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں خیبر پختونخواہ کے پہاڑی اضلاع میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے مزید سیلاب آ سکتے ہیں۔

پختونخواہ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مسٹر راشد غفور کے مطابق ’ابھی تک گرمی کی لہر ختم نہیں ہوئی اور اگر یہ آئندہ کچھ دن جاری رہتی ہے تو ہمیں خدشہ ہے کہ علاقے میں مزید سیلاب آ سکتے ہیں۔‘

سیلابی ریلے میں پھتر، چٹانیں اور مٹی کے تودے

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر درجۂ حرارت میں اضافے کی وجہ سے بہت سے گلیشیئر یا تو سُکڑ گئے ہیں یا ان کی تہہ پتلی ہو گئی ہے۔

گلیشیئرز کے پگھلنے سے کئی مقامات پر جھیلیں بن رہی ہیں، جن میں سے کچھ میں گرمی کے موسم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو جاتی ہے جس سے ان کے بند ٹوٹ جاتے ہیں اور نشیبی علاقوں میں اچانک سیلاب آ جاتے ہیں۔

حکام کے مطابق شاید پاکستان کے شمالی علاقے جات میں بھی گذشتہ ہفتے اسی قسم کی صورت حال پیدا ہو گئی تھی اور لوگوں کو سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔

ماہرین کے مطابق ضروری نہیں کہ پگھلنے والا گلیشیئر جھیلوں کے بہت قریب ہو، تاہم ہوتا یہ کہ دوسرے گلیشیئرز کے پگھلنے سے بڑے بڑے پتھر اور چٹانیں لڑھک کر نیچے آجاتے ہیں اور یوں پانی کے ریلے راستے میں آنے والے تودوں کو بھی ساتھ بہا کر لے جاتے ہیں۔

بہت سے گلیشیئرز دراصل مٹی کے بڑے بڑے تودوں اور ٹوٹی پھوٹی چٹانوں پر بہت عرصے تک برف کے جمے رہنے سے بنتے ہیں اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور عالمی حدت میں اضافے کی وجہ سے جب یہ گلیشیئر پگھلتے ہیں تو اپنے ساتھ بڑے بڑے پتھروں، چٹانوں، ریت اور مٹی کو بہا لے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر فرخ بشیر کے مطابق ہم اس قسم کے بہاؤ کو 'ہائپر کنسنٹریٹِڈ' بہاؤ کہتے ہیں۔ یہ اصل میں ٹوٹی پھوٹی چٹانوں کا کچرا ہوتا ہے جس کے اوپر برف جم چکی ہوتی ہے اور جب ان گلیشیئرز سے پانی پگھل کر تیزی سے نکلتا ہے تو یہ تمام مواد نشیبی علاقوں کی جانب سیلاب میں بہہ جاتا ہے۔

'اس قسم کے ہائپر کنسنٹریٹِڈ سیلاب زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ یہ اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو زیادہ زور سے دھکیلتے ہیں جس سے تعمیرات کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے اور زمین کا کٹاؤ زیادہ ہو جاتا ہے۔'

'گرمیوں کے موسم میں تو ایسا ہوتا ہی ہے، لیکن اس مرتبہ جو چیز غیر معمولی ہے وہ یہ ہے کہ اتنے کم وقت میں بہت زیادہ سیلابی ریلے آئے ہیں۔'

حالیہ برسوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخواہ کے مختلف مقامات پر تین ہزار 44 جھیلیں بن چکی ہیں جن میں سے 33 میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ جھیلیں کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ کا ترقیاتی ادارہ مقامی حکام کے ساتھ مل کر ان خطرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ میں 71 لاکھ افراد اس قسم کی قدرتی آفات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

یو این ڈی پی پاکستان سے منسلک ماہرِ ماحولیات حمید احمد کا کہنا ہے کہ ’سنہ 2000 سے بعد کے دو عشروں میں صرف چترال میں جھیلوں کے اچانک پھٹے یا گلوف (گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ) کے 15 سے زیادہ واقعات ہو چکے ہیں، اس کے مقابلے میں سنہ 1970 اور سنہ 1999 کے درمیان ایسے صرف چار واقعات ہوئے تھے۔‘

’یہ جھیل پھٹنے کے واقعات کی زیادہ تعداد نہیں جو فکرمندی کی بات ہے، بلکہ جو چیز پریشان کن ہے وہ یہ ہے کہ اب جھیلیں بہت شدت سے پھٹ رہی ہیں۔ ہر سال اس میں مزید شدت آتی جا رہی ہے۔‘

گذشتہ کئی برسوں میں ہمالیہ، کراکرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں میں گلیشیئر والی جھیلوں کے پھٹنے کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ہمارے پاس ان واقعات کا مکمل ریکارڈ نہیں ہے، تاہم ان میں سے 45 کوہ ہمالیہ کے مشرقی علاقے میں پیش آئے تھے۔