’اگر آپ میرا تمسخر اُڑائیں گے تو میں دلائل نہیں دوں گا‘ سپریم کورٹ کی پہلی لائیو سماعت کا احوال

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

،تصویر کا ذریعہPTV

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

نئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اتوار کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور سب سے پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا۔

اس قانون کے خلاف سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے حکم امتناع جاری کیا تھا۔ اس کے بارے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس وقت کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا کہ جب تک بینچ کی تشکیل سے متعلق اس قانون کے بارے میں فیصلہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک وہ کسی بینچ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتوار کو فل کورٹ کی عدالتی کارروائی کو پی ٹی وی پر دیکھایا گیا اور اس فل کورٹ میں سپریم کورٹ میں موجود 15 جج صاحبان نے شرکت کی۔ ریاست کے زیر انتظام چلنے والے ٹی وی پر یہ عدالتی کارروائی چھ گھنٹے سے زیادہ دیر تک دکھائی گئی۔

اس قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ کچھ ججز نے اس مقدمے کو پہلے سے سنا ہوا ہے اور کچھ ججز کا خیال تھا کہ اس قانون کے خلاف درخواستوں کو نئے ججز کو سننا چاہیے، اس لیے فل بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ لائیو

،تصویر کا ذریعہPTV

درخواست گزار کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے دلائل دینا شروع کیے تو عدالت نے انھیں اس قانون کو پڑھنے کو کہا۔

جب وہ قانون پڑھنے لگتے تو پندرہ رکنی بینچ میں شامل کوئی نہ کوئی جج ان سے سوال پوچھ لیتا۔ پھر جب بھی خواجہ طارق رحیم اس کا جواب دینے لگتے تو چیف جسٹس انھیں روک دیتے اور کہتے کہ آپ یہ قانون پڑھتے جائیں اور اپنے جونیئر وکیل سے کہیں کہ وہ ججز کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کو لکھ لیں اور پھر بعد میں اس کا جواب دیں۔

عدالتی کارروائی میں ایسا بہت کم دیکھنے کو ملا ہے کہ جج دلائل دینے والے وکیل سے کوئی سوال پوچھیں تو سینیئر جج انھیں کہیں کہ وہ اپنے دلائل جاری رکھیں اور اپنے جونیئر وکیل سے کہیں کہ وہ بینچ کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کو لکھ لیں۔

خواجہ طارق رحیم کے دلائل کے دوران بینچ بعض ججز کی طرف سے جو سوال پوچھے جاتے تھے تو ساتھ وہ جج صاحبان یہ کہنا نہیں بھولتے تھے کہ اپنے جونیئر وکیل سے کہیں کہ وہ یہ سوال نوٹ کر لیں۔

ایک اور درخواست گزار امتیاز صدیقی کو دلائل دینے کے لیے بلایا گیا۔ انھوں نے اس قانون کو عدالتی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون سازی نہیں کرسکتی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

دلائل دینے کے دوران امتیاز صدیقی کے ساتھ بھی ایسا ہی برتاؤ رکھا گیا۔ جب انھوں نے کہا کہ ’آپ کہیں تو میں (ماضی کا) تفصیلی فیصلہ پڑھنا شروع کر دیتا ہوں‘ تو چیف جسٹس نے جواب دیا ’نہیں، یہ کام نہیں ہوتا وکیل کا۔ وکیل کا کام ہوتا ہے نشاندہی کرے۔۔۔ یہ نہیں کہ میں پڑھنا شروع کر دیتا ہوں۔ ہمیں ڈرائیں نہیں۔‘

چیف جسٹس نے ایک موقع پر ان کے دلائل پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’پلیز، میں سپریم کورٹ کے سامنے ایسے دلائل کی اجازت نہیں دوں گا۔‘

اس پر امتیاز صدیقی نے ناراضی ظاہر کی اور چیف جسٹس کو مخاطب کر کے کہا ’اگر آپ میرا تمسخر اُڑائیں گے تو میں دلائل نہیں دوں گا۔۔۔ میرے دلائل سننے کا صبر رکھیں۔‘

وکیل کے اس جواب کے بعد چیف جسٹس نے کہا ’یہ آپ کی چوائس ہو گی‘ مگر کچھ دیر کے لیے بینچ کی طرف سے ان سے کوئی سوال نہیں پوچھا گیا۔

ایک موقع پر بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہی قانون سترہ ججز سپریم کورٹ کے رولز میں شامل کر لیں تو کیا یہ درست ہے اور اگر پارلیمنٹ کرے تو وہ غلط ہے؟‘

اٹارنی جنرل کو دلائل کے لیے طلب کیا گیا تو انھوں نے ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر ہی اعتراض اٹھا دیا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر، جنھیں وکلا کا ایک دھڑا سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا ہم خیال تصور کرتا ہے، نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی بنیادی حق ہے اور ’پارلیمنٹ کیسے قانون سازی سے کسی جوڈیشل آرڈر کے خلاف اپیل کا حق دے سکتا ہے؟‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ججز آپس میں بحث کے لیے نہیں بیٹھے۔ انھوں نے کہا کہ قانون پسند نہ آنا اور غیر آئینی ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ کئی قوانین مجھے پسند نہ ہوں لیکن حلف اٹھایا ہے کہ ان پر عمل درآمد کروں گا۔

قاضی فائز عیسیٰ
،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ وہ دو سینیئر ججز، جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن، کے ساتھ مشاورت کر کے بیچز کی تشکیل کریں گے۔

درخواست گزاروں اور اٹارنی جنرل کے دلائل کے دوران دو ججز، جن کو وکلا موجودہ چیف جسٹس کے ہم خیال تصور کرتے ہیں یعنی جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ، سوالوں کی بوچھاڑ کرتے رہے جبکہ اس کے جواب میں سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ہم خیال سمجھے جانے والے ججز جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی ان سے اپنے مؤقف کے حق میں سوال پوچھتے رہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر اس آٹھ رکنی بینچ کا حصہ تھے جس نے اس ایکٹ کے خلاف حکم امتناع جاری کیا تھا۔

ایک موقع پر جسٹس منیب اختر نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ اگر مستقبل میں آنے والی پارلیمنٹ اس ایکٹ میں ترمیم کر لے تو پھر کیا ہوگا، اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ’جو کام ابھی ہوا ہی نہیں اس پر سوال کیا کرنا۔‘

جسٹس منیب اختر کو یہ بات ناگوار گزری اور انھوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کا سوال مفروضوں پر مبنی نہیں اور اپنے سوال پر قائم ہیں اور اٹارنی جنرل کو اس کا جواب دینا ہوگا۔‘

اٹارنی جنرل کو سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر بیرون ملک جانا تھا، اس لیے انھوں نے دلائل مختصر کر دیے۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالتی کارروائی میں دو بار وقفہ کیا گیا۔

دوسرے وقفے کے بعد جب تمام ججز اکھٹے ہوئے تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش تھی کہ وہ اس ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر آج ہی فیصلہ سنا دیتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ دو سینیئر ججز جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن کے ساتھ مشاورت کر کے بیچز کی تشکیل کریں گے۔

یوں عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت تین اکتوبر تک ملتوی کی۔

آرڈر آف دی ڈے کے بعد وکلا کا ایک دھڑا کہتا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ کی طرف سے دیا گیا حکم امتناعی عملی طور پر ختم ہوچکا ہے کیونکہ اس قانون میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس دو سینیئر ججز کے ساتھ مشاورت کے بعد بینچ تشکیل دیں گے اور موجودہ چیف جسٹس نے بھی یہی کہا ہے۔

جبکہ وکلا کے دوسرے دھڑے کا یہ مؤقف ہے کہ چونکہ آرڈر آف دی ڈے میں حکم امتناع ختم کرنے کا نہیں کہا گیا، اس لیے ابھی تک آٹھ رکنی بینچ کا فیصلہ برقرار ہے۔

عدالتی کارروائی ختم ہونے کے بعد دونوں دھڑوں کے وکلا اپنے مؤقف کی جیت سمجھ رہے تھے۔