جب ایک جاپانی نوجوان 19 سال بعد اپنے والد کو ڈھونڈتا ہوا پنجاب پہنچا

،تصویر کا ذریعہRavinder Singh Robin
- مصنف, رویندر سنگھ رابن
- عہدہ, بی بی سی
’یہ میرے لیے ایک خواب کی طرح ہے، میں نہیں چاہتا کہ یہ ختم ہو۔۔۔ اب بھی یقین نہیں آتا کہ میرا بیٹا مجھے تقریباً دو دہائیوں بعد مل گیا ہے۔‘
یہ بتاتے ہوئے امرتسر کے سکھ پال سنگھ آنسو بہا رہے تھے اور ساتھ ان کے چہرے سے خوشی ٹپک رہی ہے۔
سکھ پال سنگھ نے 2007 میں جاپان میں جو کہانی ادھوری چھوڑی تھی، اس نے گذشتہ مہینے 19 اگست کو راکھی کے موقع پر ایک خوشگوار موڑ لیا۔
راکھی کے دن جاپان میں پیدا ہونے والے رن تاکاہاٹا 19 سال بعد اپنے والد سے ملے۔
امرتسر میں رہنے والے سکھ پال سنگھ نے سال 2002 میں جاپانی خاتون ساچیا تاکاہاٹا سے شادی کی تھی تاہم رن تاکاہتا تقریباً دو سال کے تھے جب ان کے والدین کی طلاق ہو گئی۔
2007 میں جاپان سے واپس آنے کے بعد سکھ پال کا اپنے بیٹے اور بیوی سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔
راکھی پر اپنے والد سے ملنے والے رن کو نہ صرف اپنا باپ بلکہ ایک چھوٹی بہن اور ایک نیا خاندان بھی ملا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRavinder Singh Robin
سکھ پال رن کی ماں سے کیسے ملے؟
سکھ پال بتاتے ہیں کہ ’میں تھائی لینڈ کے ہوائی اڈے پر رن کی ماں سے ملا۔ وہ تاج محل دیکھنے کے لیے انڈیا آ رہی تھیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکھ پال بتاتے ہیں کہ انھوں نے اور رن کی ماں سچیا تاکاہتا کی ہوائی جہاز میں سیٹیں ساتھ ساتھ تھیں۔
سکھ پال سنگھ نے سچیا سے پوچھا کہ کیا وہ انھیں دربار صاحب اور واہگہ بارڈر دیکھانے لے جا سکتے ہیں؟
وہ بتاتے ہیں کہ ’انھوں نے مجھ پر یقین کیا اور میرے ساتھ آئیں۔‘
سکھ پال کے مطابق اس کے بعد وہ سچیا کو امرتسر میں اپنے خاندان کے پاس لے آئے اور وہ کئی دنوں تک ان کے خاندان کے ساتھ رہیں۔
اس کے بعد سچیا جاپان گئیں اور سکھ پال کو سپانسر شپ بھیجی جس کے بعد وہ 2002 میں جاپان گئے۔
سکھ پال اور سچیا کی طلاق

،تصویر کا ذریعہRavinder Singh Robin
سچیا تاکاہتا اور سکھ پال کی شادی کے بعد ان کے ہاں 2003 میں بچے کی پیدائش ہوئی۔
سکھ پال بتاتے ہیں ’میں اس وقت تقریباً 20 سال کا تھا، مجھے خاندانی ذمہ داریوں کی سمجھ نہیں تھی، ہمارے درمیان ثقافتی اختلافات تھے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ وہ کام کرکے اپنے خاندان کو پیسے بھیجنا چاہتے تھے۔
سکھ پال کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرکے پنجاب میں اپنے گھر واپس آ گئے۔
اس وقت کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’رن تقریباً ڈیڑھ سال کا تھا جب اس کی ماں مجھے لینے انڈیا آئی اور مجھے واپس لے گئی۔‘
’2004 کے آخر میں دوسری بار جاپان جانے کے بعد بھی ہمارے تعلقات بہتر نہیں ہوئے اور طلاق ہو گئی۔ میں نے اس کے بعد رن کو کبھی نہیں دیکھا۔‘
سکھ پال بتاتے ہیں کہ رن کی ماں ان سے ناراض تھی۔
’وہ ناراض تھی کہ میں نے انھیں اس وقت چھوڑ دیا تھا جب انھیں میری ضرورت تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہRavinder Singh Robin
’مجھے پورا یقین تھا کہ میں اپنے بیٹے سے ملوں گا‘
سکھ پال کا کہنا ہے کہ سال 2008 میں جب وہ پنجاب آئے تو ان کے والد کی وفات ہو گئی۔
سکھ پال نے پھر شادی کر لی۔ ان کی ایک 15 سالہ بیٹی بھی ہے۔
’مجھے ہمیشہ یاد رہتا تھا کہ میرا بھی ایک بیٹا ہے جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ میں اس سے کیسے ملوں گا لیکن مجھے پورا یقین تھا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’اب تک میں نے سوشل میڈیا فیس بک، انسٹاگرام، گوگل پر تلاش کیا لیکن مجھے وہ کہیں نہیں ملا۔‘
’میں نے شادی کے بعد اپنی بیوی اور بیٹی کو بھی اس کے بارے میں بتایا۔‘
وہ بتاتے ہیں ’میرا خاندان رن کی آمد پر بہت خوش ہے اور میری بیوی بھی خوش ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ رن کو صرف ان کے پرانے پتے کے بارے میں معلوم تھا، رن وہاں گیا اور ان (سکھپال) کو تصاویر دیکھ کر پہچان گیا۔
جب رن نے اپنے والد سے ملنے کا فیصلہ کیا
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
رن بتاتے ہیں کہ عام طور پر اس نے اپنے والد کے بارے میں کبھی زیادہ نہیں سوچا۔
لیکن ایک واقعے کے بعد اس نے اپنے والد سے ملنے کے لیے میلوں کا سفر طے کیا۔
’جب میں نے اپنی کلاس میں اپنے خاندانی شجرہ نسب کے بارے میں لکھا تو مجھے احساس ہوا کہ میں صرف اپنے والد کا نام جانتا تھا اور کچھ نہیں۔‘
وہ بتاتے ہیں ’اس کے بعد میں نے اپنی ماں سے کہا کہ وہ مجھے والد کی تصویریں دکھائیں اور ان کے بارے میں بتائیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے گوگل میپس پر وہ ایڈریس ڈالا جہاں میرے والد رہتے تھے اور وہاں سے تصویریں دیکھیں۔‘
’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ان سے پہلے ہی دن مل سکوں گا، میں اب بھی اسے خواب سمجھتا ہوں۔‘
رن بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنی ماں سے سنا ہے کہ شاید ان کے والد نے دوسری شادی کر لی ہے، لیکن انھیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی ایک چھوٹی بہن بھی ہو گی۔
وہ بتاتے ہیں ’جاپان میں میرا کوئی بہن بھائی نہیں تھا۔ میں بہت خوش ہوں کہ میرے والد کے علاوہ مجھے ایک چھوٹی بہن اور ایک خاندان ملا ہے۔‘
’میں اپنے والد کے ساتھ دربار صاحب گیا اور شکر ادا کیا، میں بہت خوش ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہRavinder Singh Robin
رن سکھ پال کی کون سی نشانیاں اپنے ساتھ لائے تھے؟
سکھپال بتاتے ہیں کہ رن کے پاس اس سے متعلق تمام دستاویزات تھیں جن میں ان کا ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ اور تصویریں اور دیگر دستاویزات سے بھری فائل تھی۔
سکھ پال سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے گھر والوں کو بتاتے رہے ہیں کہ ان کا ایک بیٹا جاپان میں رہتا ہے اور وہ ان سے ملنے ضرور آئے گا۔
وہ خوشی سے بتاتے ہیں کہ رن کے پاس وہ پانچ ڈالر بھی تھے جو انھوں نے رن کی ماں کو پہلی ملاقات پر تحفے میں دیے تھے۔
سکھ پال سنگھ کی بیٹی اولین کور کا کہنا ہے کہ وہ جانتی تھیں کہ ان کا ایک بھائی بھی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔
جاپان میں رہنے والی رن کی ماں سے رابطے میں سکھ پال کا کہنا ہے کہ ’رن نے میری اپنی ماں سے بھی بات کروائی ہے اور وہ بہت خوش تھیں۔‘
’میں نے ان سے پوچھا کہ کیا رن اپنی مرضی سے آئے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ انھیں اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ وہ رن کے جانے کے بارے میں سوچ کر اداس ہیں لیکن اس کے ساتھ ملتے رہیں گے۔













