کرک میں 45 منٹ تک غیرمتوقع ’برفباری‘، خیبرپختونخوا میں بارشوں، لینڈ سلائڈنگ کے باعث بچوں سمیت 35 ہلاکتیں
- مصنف, عزیز اللہ خان، محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی

،تصویر کا ذریعہDistrict Administration Dir
یہ انھونی تھی اور سب لوگ حیران تھے کہ عام طور پر گرم مرطوب علاقے میں برفباری کیسے ممکن ہے، لیکن مارچ کے مہینے میں خیبر پختونخوا کے علاقے کرک کے سات دیہات ایسے ہیں جہاں 45 منٹ تک لگاتار برفباری ہوتی رہی۔
اس علاقے سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر حاجت شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے گاؤں میں برفباری کا سلسلہ جیسے ہی شروع ہوا تو لوگ حیران تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آس پاس کے علاقوں سے لوگ وہاں جمع ہونے شروع ہو گئے اور بالکل ایسے جیسے لوگ مری میں برف باری سے لطف اندوز ہوتے ہیں، ویسے کرک میں لوگوں نے خوشی منائی ہے ۔
تاہم یہی نہیں رواں ماہ مارچ میں غیر معمولی طور پر پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشیں اور برفباری ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہونے والی لینڈ سلائڈنگ کے باعث اب تک صوبہ خیبر پختونخوا میں 35 افراد ہلاک جبکہ 45 زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں شدید بارشوں کے باعث آنے والے سیلابی ریلوں سے مختلف علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں لینڈ سلائڈنگ اور برفباری سے راستے بند ہوئے ہیں جنھیں کھولنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔
مگر پہلے ذکر کرتے ہیں ضلع کرک کا جہاں انتہائی غیرمتوقع برفباری ہوئی ہے۔
گرم علاقے میں برفباری، مگر کیسے؟

،تصویر کا ذریعہDistrict Police Karak
ضلع کرک پشاور کے جنوب میں کوئی 140 کلومیٹر دور انڈس ہائی وے پر واقع ہے۔ یہاں برفباری کا سلسلہ اتوار کی دوپہر ڈھائی بجے شروع ہوا اور 45 منٹ تک تک جاری رہا۔ حاجت شاہ کے مطابق یہ برف باری کرک کے سپینہ، تنگی خوا اور پیر میلہ سمیت سات دیہاتوں میں ہوئی۔
حاجت شاہ کے مطابق اس علاقے میں انھوں نے پہلےکبھی بھی برفباری نہیں ہوئی۔ ’میری یاداشت کے مطابق 25، 30 سال پہلے ہلکی سی برفباری چند منٹوں کے لیے ہوئی تھی۔ ‘
اس علاقے کے انڈس ہائی وے پر واقع ہونے کی وجہ سے لوگوں نے برفباری کی ویڈیوز بنائیں جو چند لمحوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔
اس بارے میں محکمہ موسمیات کے سابق ڈائریکٹر مشتاق علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اُن کے لیے بھی حیران کن بات تھی۔ انھوں نے کہا کہ بظاہر ایسا ہو سکتا ہے کہ یہ نرم ژالہ باری ہو لیکن یہ چند لمحوں کے لیے تو ہو سکتا ہے مگر آدھے گھنٹے تک نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مشتاق علی شاہ نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ہیں جن کا پاکستان سمیت بہت سے ممالک کو سامنا ہے۔
بارش، برفباری اور لینڈ سلائڈنگ سے کتنا نقصان ہوا؟

،تصویر کا ذریعہWajhit hussain
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور برفباری سے بھاری نقصانات ہوئے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان تیمور خان کے مطابق گذشتہ چند روز میں بارشوں اور برفباری سے25 بچوں اور 7 خواتین سمیت 35 افراد ہلاک جبکہ 43 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق زخمیوں میں بھی 22 بچے اور 8 خواتین شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے ترجمان کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں مکانات کی چھتیں گرنے سے ہوئی ہیں۔ ضلع باجوڑ میں سب سے زیادہ سات بچوں سمیت 8 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سوات میں 4 بچوں سمیت 7 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ان بارشوں کے نتیجے میں 46 مکان مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں جبکہ 346 مکانات کو جزوی نقصان نقصان پہنچا ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جن علاقوں میں نقصانات ہوئے ہیں وہاں امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے اور نو منتخب وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کی جانب سے ہلاک اور زخمی افراد کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا جا رہا ہے۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق اس وقت گلگت کو ملانے والی شاہراہ قراقرم کوہستان میں تین مقامات پر اب بھی بند ہے جہاں ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔
حکام کے مطابق دیامیر چلاس کے کم از کم چار مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ سے روڈ بلاک ہوا ہے، ایک مقام پر روڈ کھولا گیا ہے جبکہ تین پر کام جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلتستان ڈویژن میں آٹھ مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے۔ بارشوں اور برفباری کے سبب وہاں پر روڈ کی بحالی کے کام میں رکاوٹیں تھیں جہاں پر ابھی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
کوہستان میں موجود سماجی کارکن نصیب خان کا کہنا تھا کہ بارشوں اور برف باری کے سبب سے کوہستان میں بجلی مکمل غائب ہو چکی ہے۔ سورج کی روشنی نہیں نکل رہی کہ سولر پینل ہی سے بجلی حاصل کر سکیں۔ شاہراہ قراقرم تو بند ہے ہی مگر کوہستان میں رابطہ سڑکیں بھی بند ہو چکی ہیں۔ لوگوں کے آپس میں رابطے بھی موجود نہیں ہیں۔
بلوچستان میں کتنا نقصان ہوا؟

،تصویر کا ذریعہRescue 1122
حالیہ بارشوں سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نقصانات ہوئے ہیں تاہم سب سے زیادہ نقصان ساحلی ضلع گوادر میں ہوا ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق ان بارشوں کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر پانچ افراد ہلاک ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے سے زائد کے عرصے میں بلوچستان کے مجموعی طور پر 22اضلاع میں بارشیں ہوئیں اور سب سے زیادہ بارشیں مکران ڈویژن میں گوادر اور کیچ کے اضلاع میں ہوئیں۔
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل جہانزیب خان کے مطابق گوادر میں دو روز کے مجموعی طور پر 240سے زائد ملی میٹر بارش ہوئی جس سے وہاں صورتحال خراب ہوئی ۔
گوادر سے رکن بلوچستان اسمبلی اور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں بالخصوص گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے گوادر شہر مکمل طور میں بارش کی پانی میں ڈوب گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گوادر شہر میں ترقی اور نکاسی آب پر اربوں روپے لگے لیکن نکاسی آب کے ناقص نظام کی وجہ سے بارش کا پانی سمندر میں گرنے کی بجائے گھروں اور محلوں میں داخل ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پانی اتنا زیادہ ہے کہ 27تاریخ سے لے کر اب تک اس کو مکمل طور پر نہیں نکالا جا سکا اور اب بھی فقیر کالونی، بخشی کالونی اور ٹی ٹی سی کالونی کے علاقوں میں بارش کا پانی گھروں اور محلوں میں موجود ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگ ابھی تک اپنے گھروں میں واپس نہیں آ سکے۔
انھوں نے کہا کہ شہر سے اب تک 80فیصد پانی کو نکالا جا سکا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں سے پانی کو نکالا گیا وہاں کے مکین اپنے گھروں میں واپس آ گئے ہیں لیکن بارش کے باعث ان کے گھروں کے سامان وغیرہ خراب ہونے سے ان کی مشکلات برقرار ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ بارش کے پانی کو نکالنے میں اس لیے تاخیر ہوئی کیونکہ وفاقی حکومت کے اداروں نے شروع میں کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ پہلے میونسپل کمیٹی گوادر، حق دو تحریک کے کارکنوں ، دیگر رضاکار تنظیموں کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پانی کو نکالنے کی کوشش کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب وفاقی اداروں کے اہلکار بھی پانی کو نکالنے میں لگے ہوئے ہیں ۔
انھوں نے کہا کہ سربندن کے بھی بعض علاقوں میں پانی ابھی تک موجود ہے جبکہ دشت، پیشکان اور متعدد دیہی علاقوں میں گھروں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ راستے منقطع ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔
مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ جیونی اور دیگر علاقوں میں ماہی گیروں کی کشتیوں کو بھی بڑی تعداد نقصان پہنچنے کے علاوہ گوادر میں بڑی تعداد بندات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے گذشتہ روز گوادر سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں نقصانات کے حوالے سے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے، ان کے مطابق مجموعی طور پر پانچ اضلاع میں 237 گھروں کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے 82 گھر مکمل طور پر نقصان سے دوچار ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ان میں سے سب سے زیادہ 200 گھروں کو گوادر میں نقصان پہنچا جن میں سے 70 مکمل جبکہ 130جزوی نقصان سے دوچار ہوئے۔
گذشتہ روز وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گوادر کا دورہ کیا تھا ۔انھوں نے نقصانات کا سروے کرنے اور ان سے متعلق مکمل رپورٹ دس روز میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔











