انجلی سنگھ: دہلی میں کار کے ساتھ ’گھسٹنے‘ سے ہلاک ہونے والی لڑکی کون تھی؟

انجلی
،تصویر کا کیپشنانجلی

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں سال 2023 کے آغاز کے چند گھنٹے بعد ہی ایک سڑک حادثے میں ہلاک ہونے والی 20 سالہ انجلی سنگھ کے اہلخانہ انھیں ایک خوش مزاج شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں جو انسٹاگرام پر ریلز بنانا اور بچوں کے ساتھ کھیلنا پسند کرتی تھی۔

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے کانجھا والا علاقے میں پیش آنے والے خوفناک سڑک حادثے میں ان کی موت کے بعد شہریوں کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور مظاہروں نے جنم لیا۔

بی بی سی ہندی کے دلنواز پاشا نے اس لڑکی کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ہے جن کے خواب ایک سرد رات کو پرتشدد انجام کے بعد ادھورے رہ گئے۔

اب ان کے ڈی ایکٹیوٹ یعنی غیر فعال انسٹاگرام اکاؤنٹ پر دنیا سے بہ پرواہ انجلی چمکیلے کپڑے پہنے اور مشہور بالی وڈ گانوں پر لپ سنک کرتے ہوئے اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کیا کرتی تھی۔

جبکہ ان کی اصل زندگی اس سے بالکل مختلف تھی۔

انجلی ایک ایسے خاندان کی واحد کفیل تھی جو معاشی طور پر پسماندہ تھا اور جس کا انحصار حکومت کی طرف سے تقسیم کیے جانے والے مفت راشن سکیم پر تھا۔

انجلی اپنے محلے کی خواتین کو میک اپ سروسز فراہم کر کے اور شادی بیاہ و دیگر تقریبات پر چھوٹے موٹے کام کر کے روزگار کماتی تھی۔

انجلی کی والدہ ریکھا
،تصویر کا کیپشنانجلی کی والدہ ریکھا

انجلی کی والدہ ریکھا کا کہنا ہے کہ یہ ایک مشکل زندگی تھی لیکن انھوں نے کبھی ہار نہیں مانی تھی۔

انجلی کی موت سال نو کے چند گھنٹوں بعد ہی دہلی میں سکوٹر اور کار کے تصادم کے بعد ہوئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تصادم کے بعد کار میں سوار پانچ افراد گھبرا گئے اور اس کی لاش کو میلوں تک گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔ ان افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق انجلی کی موت کی ابتدائی وجہ ’سر، ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ، بائیں ٹانگ میں فریکچر اور جسم کے نچلے حصے میں چوٹ لگنے کے بعد جھٹکے اور خون بہنے‘ سے ہوئی تھی۔

انجلی کے اہل خانہ نے الزام لگایا تھا کہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی کیونکہ جب اس کی لاش ملی تو وہ برہنہ تھی، لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے میں اس کے کوئی آثار نہیں ملے۔

البتہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور انجلی کے اہلخانے جو کچھ ہوا ہے اس صدمے کو سہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک ذمہ دار بیٹی

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انجلی کا تعلق دلت (سابقہ ​​اچھوت) برادری سے تھا، جو انڈیا کی ذات پات کے نظام میں سب سے نیچے اور مشکلات زدہ طبقہ ہے۔ وہ شمال مغربی دہلی کے منگول پوری علاقے میں ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی تھی، جس میں ایک کمرہ اور ایک باورچی خانہ تھا۔

وہ چھ بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھی اور اس نے اپنے خاندان کی کفالت کے لیے نوعمری میں ہی سکول چھوڑ دیا تھا۔

انجلی کی والدہ ریکھا، جن کے شوہر کا آٹھ سال قبل انتقال ہو گیا تھا وہ ایک سکول میں کم تنخواہ پراسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی تھیں لیکن کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران ان کی نوکری چھوٹ گئی تھی۔ اس دوران ہی انھیں گردے کی شدید بیماری کا سامنا ہوا جس کے باعث ان کے لیے کام کرنا ممکن نہیں رہا۔

ان کی والدہ کا کہنا ہے ’اس وقت انجلی نے گھر کی ساری ذمہ داری اٹھا لی تھی۔‘

اس نے ایک مقامی بیوٹی پارلر سے میک اپ کرنے کا کام سیکھا اور جلد ہی محلے میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے تیار ہونے والی خواتین کو سروس فراہم کرنا شروع کر دی۔

وہ شادیوں میں کام کر کے کچھ پیسے بھی کما لیتی تھی، جہاں وہ عموماً مہمانوں کا استقبال کرنے والی خواتین کے گروپ کا حصہ ہوتی تھی۔

اس کی دو بہنیں جن میں ایک چھوٹی بہن بھی شامل ہے شادی شدہ ہیں۔ لیکن انجلی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائیوں کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد اپنا گھر بسائے گی۔ ان کے دو چھوٹے بھائی ایک مقامی سرکاری سکول میں زیر تعلیم ہیں۔

ان کی والدہ ریکھا کا کہنا ہے کہ ’وہ کہتی تھی کہ وہ صرف اس شخص سے شادی کرے گی جو اس کے ساتھ رہنے پر راضی ہو تاکہ وہ شادی کے بعد بھی اپنے گھر والوں کا خیال رکھ سکے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انجلی کا گھر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگرچہ اس کی زندگی مشکل تھی لیکن انجلی ہمیشہ خوش و خرم اور پرامید رہی۔

ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’وہ ہمیشہ مسکراتی رہتی، اسے تیار ہونا، ریلز اور ویڈیوز بنانا بہت پسند تھا۔‘

انجلی اپنے محلے میں بھی کافی مشہور تھیں، ریکھا کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی جانب سے علاقے کے سیاستدانوں کو کی گئی شکایت کے بعد ان کی گلی کے گڑھے ٹھیک کیے گئے تھے۔ اس کی موت کے وقت بھی وہ علاقے میں ایک گٹر بنوانے کی کوشش کر رہی تھی۔

ریکھا کا کہنا ہے کہ ’حتیٰ کے ہمارے محلے داروں نے اس سے میونسپل کے الیکشن لڑنے کو کہا تھا اور اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مستقبل میں ایسا کرے گی۔‘

پانچ سال پہلے انجلی نے قرض لے کر اپنے آنے جانے میں آسانی کے لیے ایک سکوٹر خریدا تھا۔ اور قرض چکانے کے قریب تھی جب اسی سکوٹر کو چلاتے ہوئے اس کی موت ہو گئی۔